افغانستان کا بحران اور عالمی ڈپلومیسی کی جنگ
- تحریر سلمان عابد
- ہفتہ 27 / نومبر / 2021
- 4090
افغانستان اس وقت اپنے داخلی مالی بحران اور عالمی امداد کے حصول میں ناکامی کی صورت میں ایک نئے بڑے انتشار کا منظر نامہ پیش کررہا ہے۔مسئلہ سیکورٹی سے زیادہ فوری طور پر خوارک کے بحران کا ہے جو ایک بڑے انسانی المیہ کو بھی جنم دینے کا سبب بن سکتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق افغانستا ن میں خوراک اور روزمرہ کی اشیا ختم ہونے کو ہیں اور فوری طور پر ان کی فراہمی کے امکانات بھی محدود ہیں۔ اس بحران کا نتیجہ معصوم بچوں کی ہلاکت کی صورت میں بھی سامنے آیا ہے۔اگرچہ عالمی برادری نے انسانی بنیادوں پر خوراک کی فوری فراہمی کی بنیاد پر کچھ اقدامات کرنے کا فیصلہ بھی کیا، مگر افغان حکومت کے مالیاتی اکاونٹس کے منجمد ہونے کے سبب ان عالمی انسانی حقوق کے اداروں کو بھی کافی مشکلات کا سامنا ہے۔اسی حوالے سے دو اہم رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں۔ اول عالمی کمیٹی برائے ریڈ کراس)آئی سی آر سی (اور دوئم اقوام متحدہ کی جاری کردہ رپورٹ جو بنیادی طور پر افغانستان میں جنم لینے والے المیہ اور مالیاتی بحران سمیت عالمی دنیا کی توجہ دلاتی ہے۔
ماضی میں ڈاکٹر اشرف غنی کی حکومت کا مکمل مالیاتی بوجھ امریکہ او راس کی اتحادی جماعتوں نے سنبھال رکھا تھا۔ افغانستان کی معیشت کا 80فیصد سے زیادہ حصہ امریکہ کا تھا جو تقریباً چھ ارب ڈالر سالانہ بنتا تھا۔اسی طرح انفراسٹکچرکی ترقی اور ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی بھی امریکہ کی طرف سے کی جارہی تھی۔لیکن اب امریکہ او ران کے اتحادیوں کی جانب سے افغانستان میں طالبان حکومت کی مالی حمایت بہت کمزور بنیادوں پر کھڑی ہے۔اسی طرح افغانستان کے دس ارب ڈالر بھی امریکی بینکوں میں منجمد ہیں۔اس پر بھی امریکہ کی جانب سے کوئی پیش رفت نہیں ہورہی۔اس وقت بڑا مسئلہ خوراک، ادوایات اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کا ہے جس پر افغان حکومت کو ہر سطح پر مشکلات کا سامنا ہے۔افغان حکومت تسلسل کے ساتھ دنیا کی بڑی طاقتوں او رعالمی امداد سے جڑے اداروں سے مسلسل بنیادوں پر امداد طلب کررہی ہے مگر کوئی مثبت اشارے نہیں مل رہے۔یہ صورتحال اگر جاری رہتی ہے تو پھر افغانستان میں بڑا قحط بھی سامنے آسکتا ہے۔
افغانستان کو اس وقت سب سے بڑا چیلنج ان کی حکومت کا عالمی سطح پر سیاسی قبولیت کا ہے۔کیونکہ جب تک دنیا میں بڑی طاقتیں افغانستان کی حکومت کو قبول کرنے کا واضح اعلان نہیں کریں گی کوئی بڑی مثبت تبدیلی کا امکان کم ہوگا۔افغان طالبان حکومت کے سامنے کچھ عالمی شرائط بھی ہیں جو ان کی قبولیت میں رکاوٹ ہیں۔ ان معاملات میں عورتوں کی تعلیم، انسانی حقوق کی صورتحال، طاقت کا استعمال یا تشدد کی پالیسی،عورتوں کی ملازمتو ں تک رسائی سمیت تمام فریقین پر مشتمل نمائندہ حکومت شامل ہیں۔چین، روس، ایران سمیت پاکستان اور دیگر ریاستیں بھی طالبان حکومت کی قبولیت کے معاملے میں نمانئدہ حکومت کی شرط پر قائم ہیں۔اسی بنیاد پر پاکستان نے بھی ابھی تک طالبان حکومت کی قبول نہیں کی اور دنیا کے ساتھ کھڑ ا ہے۔البتہ پاکستان افغان حکومت سمیت وزراتی اور محکمہ جاتی سطح پر رابطوں میں ہے۔
وزیر اعظم عمران خان اور ہماری عسکری قیادت مسلسل اپنی سفارتی یا ڈپلومیسی کی جنگ میں دنیا کو یہ ہی باور کروانے کی کوشش کررہی ہے کہ اس موقع پر افغان حکومت کو تنہا چھوڑنا او ران کی مدد نہ کرنا عملی طور پر افغانستان کو داعش کے حوالے کرنا ہے۔اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری بھی عالمی بڑی طاقتوں پر ہی عائد ہوگی۔اسی طرح پاکستان افغان طالبان کو بھی یہ ہی سمجھانے کی کوشش کررہا ہے کہ اگر اس نے تمام فریقین پر مشتمل نمائندہ حکومت کی شرط پوری نہ کی تو ان کے لیے عالمی حمایت کے امکانات بھی کم ہوجائیں گے او راس کی ذمہ دار ی بھی طالبا ن پر ہی عائد ہوگی۔
افغان طالبان کے لیے دوسری بڑی مشکل داعش کی افغانستان میں پھیلتی ہوئی پرتشدد سرگرمیاں ہیں۔ کیونکہ وہاں دہشت گردی پر مبنی جو سرگرمیاں ہورہی ہیں ان کی براہ راست ذمہ داری داعش نے لی ہیں۔داعش کی حکمت عملی خود کش حملے بھی سرفہرست ہیں۔ اگرچہ پوری دنیا داعش کے خلاف ہے لیکن اہم سوال یہ ہے کہ افغان طالبان کی حکومت کے بعد کیسے داعش نے خود کو منظم کیا اور وہ کس کے ایجنڈے پر ہیں اور کون ان کی سیاسی، انتظامی او رمالی معاونت کررہے ہیں۔ یہ بھی خبریں سامنے آئی ہیں کہ سابق افغان فوج کے بیشتر کمانڈر اور فوجی عملہ داعش کا حصہ بن کر افغانستان کو غیر مستحکم کررہاہے۔یاد رہے کہ افغان آرمی کی تشکیل اور ان کی صلاحیتوں کو موثر بنانے کے لیے امریکہ نے کم ازکم 30بلین ڈالر خرچ کیے مگر ضرورت پڑنے پر یہ ہی فوج امریکہ کے لیے سیاسی پسائی کا سبب بھی بنی۔امریکہ داعش کے خلا ف ہے مگر اس تنظیم کے خلاف متحدہ محاذ یا عالمی اتحاد میں نہ توکوئی بڑا کردار ادا کیا او رنہ ہی اب داعش کے خاتمہ میں افغان طالبان حکومت کی کھل کر ہر محاذ پر حمایت کی جارہی ہے جو خود پاکستان کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔
پچھلے کچھ ماہ میں افغانستان کی بہتری کے تناظر میں دو اہم کانفرنسیں منعقد ہوئیں۔ اول بھارت میں دس نومبر کو ’دہلی علاقائی سیکورٹی مکالمہ برائے افغانستان‘ کا انعقاد ہوا۔ اس کانفرنس میں بھارت کے علاوہ روس، ایران،کاغزستان، کرغزستان، تاجکستان، ترکمنستان سمیت ،ازبکستان شامل تھے۔ چین اور پاکستان نے اس ڈائیلاگ میں شرکت سے گریز کیا۔چین نے انتظامی بنیادوں پر جبکہ پاکستان نے کھل کر اس بات کا اظہار کیا کہ بھارت کے افغانستان میں منفی کردار اور پاکستان مخالف ایجنڈے کی بنیاد پر ہم اس میں شرکت نہیں کریں گے۔ہمیں خدشہ تھا کہ ہماری شمولیت سے اس کانفرنس کی سیاسی ساکھ قائم ہوگی جو ہمیں قبول نہیں۔چین اور پاکستان کی عدم شمولیت سے یقینی طور پر بھارت میں ہونے والی کانفرنس کی اہمیت کم ہوئی۔ دوئم اس کے برعکس دوسری بڑی کانفرنس اسی افغانستان صورتحال پرٹرائیکا پلس اجلاس پاکستان سمیت چین، روس، امریکہ، ایران کی شمولیت اہم تھی۔اس مکالمہ کا ایک مشترکہ اعلامیہ بھی جاری ہوا جس میں افغانستان کی سنگین انسانی او رمعاشی صورتحال پر تشویش کا اظہا ر کیا۔طالبان حکومت کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان اور پاکستانی قیادت سے باہمی بات چیت کا عمل جامع حکومت کے اقدامات کو بروئے کار لانے پرتھا۔
اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ جو لوگ بھی افغانستان اور خطہ کی سیاست کو استحکام میں لانا چاہتے ہیں تو ان کو ایک محاذ پر اکھٹا ہونا ہوگا۔ کیونکہ افغان بحران سیاسی تنہائی میں حل نہیں ہوگااس میں سب فریقین کو اپنا اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔ بالخصوص بھارت جو اس وقت افغان پسپائی پر کافی پریشان ہے او رموجودہ صورتحال میں وہ افغان تناظر میں نئے کردار کی تلاش میں ہے۔لیکن بدقسمتی سے اس نئے کردار میں ان کے سامنے طالبان اور پاکستان مخالف ایجنڈا سرفہرست ہے۔بھارت کے مثبت کردار میں خود امریکہ بھی رکاوٹ ہے جو بغیر کسی دباؤ کے بھارتی ایجنڈے پر مزاحمت کی بجائے ان کی حمایت میں کھڑا نظر آتا ہے۔جبکہ امریکہ کی افغانستان سمیت پاک بھارت تعلقات پردوہری پالیسی بھی مسائل کا سبب بنتی ہے۔
اس وقت افغانستان کو اگر عالمی طاقتوں نے بچانا ہے تو اس کے لیے حالیہ افغان غیر معمولی صورتحال میں عملا غیر معمولی اقدامات درکار ہیں۔ افغان بحران کا حل روائتی خیالات کی بجائے نئی سوچ اور فکر کے ساتھ حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔سفارتی اور ڈپلومیسی کے محاذ پر دنیا کو باور کروانا ہوگا کہ آج کا افغانستان اور طالبان ماضی کے ادوار سے مختلف ہے۔ جو عالمی توقعات طالبان کی حکومت سے قائم ہیں اس پر مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنا، مشترکہ باہمی تعاون کے امکانات کو موثر بنانا، تنازعات یا تضادات کو ختم کرکے اعتماد سازی کے ماحول کو قائم کرنا اور بہتر، مستحکم اور پرامن افغانستان کے لیے افغان حکومت کا فوری ساتھ دینا شامل ہوگا۔ یہ ہی عمل پرامن اور مستحکم افغانستان کو ممکن بناسکتے ہیں۔