عدلیہ کی آزادی وخودمختاری
- تحریر مظہر چوہدری
- ہفتہ 27 / نومبر / 2021
- 6180
سابق وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی کے بعد سے پاکستان میں عدلیہ کی آزادی و خودمختاری زیر بحث چیزوں میں سرفہرست رہی ہے۔ ایک طرف (ن) لیگ اورنواز شریف کا حمایتی لبرل وسیکولر طبقہ اقامہ کیس میں نواز شریف کو نااہل قرار دینے پر عدلیہ کی آزادی و خود مختاری پر سنجیدہ نوعیت کے سوالات اٹھاتا رہا ہے تو دوسری طرف تحریک انصاف سمیت عوام کی ایک بڑی تعداد نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف احتساب کے جاری عمل کو قانون اور انصاف کی فتح قرار دیتے ہوئے اسے آزاد و خودمختار عدلیہ کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیتے رہے ہیں۔
دو سال قبل احتساب عدالت کے جج کی مبینہ ویڈیو لیک ہونے سے ملک کے سیاسی وعدالتی منظر نامے پر ہلچل مچ گئی تھی لیکن حالیہ دنوں میں اس حوالے سے ہونے والے انکشافات کے بعدعدلیہ کی آزادی اور ججز کی غیر جانب داری پر سنجیدہ سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔ گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم کے بیان حلفی کی خبر شائع ہونے کا طوفان ابھی تھما نہیں تھا تو لاہور میں انسانی حقوق کے موضوع پر ہونے والی دو روزہ عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی موجودگی میں عدلیہ کی آزادی اور ججز کی غیر جانبداری کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔اگرچہ تقریب میں موجود سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے عدلیہ پر کسی بھی قسم کے دباؤ یا ڈکٹیشن کی واضح الفاظ میں تردید کر دی تاہم اس کے فوری بعد جاری ہونے والی سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ کی آڈیو نے ان کی تردید کے اثرات کو کافی حد تک بے اثر کر دیا۔
اس ضمن میں وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا ہے کہ آڈیو جاری کرنے کا مقصد عدلیہ کو دباؤ میں لانا ہے جب کہ مولانا فضل الرحمن کے مطابق "اپنے گھر کی گواہیاں "سامنے آنے کے نتیجے میں عدلیہ کی آزادی وخود مختاری پرسنجیدہ سوالات اٹھے ہیں اور اب عدلیہ کو اپنے کردار سے آزادی اور خودمختاری بحال کرنا ہو گی۔اگرچہ سابق چیف جسٹس نے تردید کرتے ہوئے آڈیو کو فیبریکیٹڈ قرار دیا ہے تاہم آڈیو جاری کرنے والوں کا کہنا ہے کہ آڈیو اصلی ہے اور اس کی تصدیق فارنزک کے امریکی ادارے بھی کر چکے ہیں۔قانونی ماہرین کے مطابق مسلم لیگ (ن) ان "شہادتوں "کو ہائی کورٹ میں زیر سماعت اپیلوں میں استعمال کر کے فائدہ اٹھا سکتی ہے اور انہیں اس معاملے میں ریلیف ملنے کے امکانات ہیں۔
پاکستان میں عدلیہ کی آزادی و خود مختاری کی صورتحال کا غیر جانبدارانہ جائزہ لینے سے پہلے جدیدجمہوری نظام میں عدلیہ کی آ زادی و خود مختاری کی اہمیت و افادیت پر مختصراظہار خیال کر لیتے ہیں۔جدید جمہوری ریاست کے چار ستونوں مقننہ، انتظامیہ، عدلیہ اور میڈیا میں عدلیہ کو اس لئے غیر معمولی حیثیت حاصل ہے کہ یہ ریاست کے دیگر تین ستونوں پر نگران ہوتی ہے۔ایک مغربی مفکر کے قول کے مطابق "کسی ملک میں جمہوریت کو ماپنے کا پیمانہ عدلیہ ہے۔ کسی ملک میں عدلیہ جتنی آزاد ہوگی، وہاں جمہوریت اتنی ہی کامیاب ہو گی۔" بادشاہت میں مقتدر اعلی ہی خود سب سے بڑا جج ہوتا ہے جبکہ آمریت میں عدلیہ آمر کے اشاروں پر فیصلے کرتی ہے۔بادشاہت اور آمریت کے برعکس جمہوریت میں عدلیہ آزاد، بااختیار اور باوقار ہوتی ہے۔جمہوری نظام میں عوامی حقوق، شخصی آزادیوں اور سماجی انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے عدلیہ کو مقننہ اور انتظامیہ کے کنٹرول سے آزاد رکھا جاتا ہے۔جمہوریت میں عوام کو ہر قسم کے دباؤ سے آزاد رکھنا ضروری ہے اور یہ اسی صورت ممکن ہے جب عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے آزاد اور خود مختار عدلیہ موجود ہو۔
برطانوی تاریخ دان اور مفکر لارڈ جیمز برائس کے مطابق کسی حکومت کی کارکردگی جاننے کیلئے عدالتی نظام کی کارکردگی کا مطالعہ کرلینا کافی ہے۔اگر عدلیہ کمزور ہو، کسی دباؤ یا سیاسی مخاصمت کی وجہ سے غیر جانبدار نہ رہ سکے اوربلا امتیاز انصاف مہیا کرنے کے فرض اولین میں کامیاب نہ ہو سکے تو ملکی اقدار اور معاشرے کا نظم و ضبط تباہ ہو نے سے کوئی نہیں روک سکتا۔اعدادوشمار کے مطابق دنیا کے 120 ممالک میں کسی نہ کسی شکل میں جمہوری نظام رائج ہے۔پھر جمہوری نظام کے اندر وحدانی اور وفاقی اطراز حکومت کی تقسیم ہے اور اس سے آگے پارلیمانی اور صدارتی نظام کی شکلیں ہیں۔وفاقی طرز حکومت میں آئین کی برتری مسلمہ ہونے کی وجہ سے عدلیہ مرکزی یا صوبائی مقننہ کے بنائے گئے کسی قانون کو آئین سے متصادم قرار دے کر مستردکر سکتی ہے لیکن وحدانی نظام میں عدلیہ کا قانون سازی میں مداخلت کرنا غیر جمہوری سمجھا جاتا ہے۔پاکستان، امریکہ اور آسٹریلیاسمیت وفاقی اطراز حکومت والے ممالک میں قانون اور آئین کی تشریح، دستور کے تحفظ اور عدالتی نظر ثانی جیسے اختیارات کے باعث عدلیہ کی آزادی و خودمختاری کی اہمیت و افادیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔
جہاں تک پاکستان میں عدلیہ کے آزاد و خودمختار رہنے یا ہونے کا سوال ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ ماضی اور کسی حد تک حال میں ہماری عدلیہ آزادی و خودمختاری سے تمام فیصلے نہیں کر سکیں۔مارشل لاء کی طویل تاریخ رکھنے والے ہمارے ملک میں فوجی حکومتوں کے دباؤ اور پریشر میں آکر عدلیہ نظریہ ضرورت کے تحت فیصلے دیتی آئی ہے۔اس کے علاو ہ ماضی میں عدالتوں اور ججز پر سیاسی حکومتوں کا دباؤ بھی رہا ہے تاہم 2009 میں عدلیہ بحالی تحریک کی کامیابی کے نتیجے میں عدلیہ پر اپنی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے ایگزیکٹو کے اختیارات سنبھالنے کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں۔ عدلیہ بحالی کا کریڈیٹ لینے والی ن لیگ اور اس کے مرکزی رہنماء پیپلزپارٹی کے منتخب وزیراعظم کو نااہل کرانے سمیت میمو گیٹ اسکینڈل میں پیش پیش رہے۔اس کے علاوہ جلد بحال نہ کرنے کی مخاصمت کی وجہ سے سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کی عدلیہ ضرورت سے کچھ زیادہ ہی پی پی حکومت کے خلاف سرگرم رہی۔ سابق دور حکومت میں پہلے دھاندلی ایشو اور بعد ازاں پاناما کیس کی صورت میں عمرا ن خان کی تحریک انصاف عدلیہ پر ن لیگ کی حکومت اور اس کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف کارروائی کرنے پر دباؤ ڈالتی رہی۔
تجزیہ نگاروں کے ایک گروہ کے مطابق مقتدر حلقوں کے دباؤ پرعدالت نے نوازشریف اور اس کے خاندان کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ کیاجبکہ ایک دوسرے گروہ کے مطابق عدالتوں نے تاریخ میں پہلی مرتبہ شریف خاندان کے دباؤ کے آگے جھکنے سے انکار کر کے عدلیہ کی آزادی و خودمختاری کی جانب ایک بڑا قدم بڑھایا ہے۔اعلی عدلیہ میں نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف مقدمات کے پیچھے کسی غیر مرئی طاقت کا دباؤہے یا نہیں، اس کا فیصلہ تو تاریخ ہی کرے گی تاہم یہ حقیقت ہے کہ ماتحت عدالتوں سے لے کر اعلی عدلیہ تک ہمارے ججز مقتدر حلقوں، سیاسی جماعتوں اور بااثر طبقات کے دباؤ کو یکسر مسترد نہیں کر سکے اور اس کا سب سے بڑا ثبوت رول آف لاء انڈیکس میں پاکستانی عدلیہ کانچلے نمبروں (126) پر موجود رہنا ہے۔