عاصمہ جہانگیر، انسانی حقوق اور آمریت؟

پاکستان کی تاریخ میں اولوالعزم خواتین کے رول پر جب بھی بحث ہو گی تو محترمہ بے نظیر بھٹو کا تذکرہ اس جدوجہد کے حوالے سے نمایاں تر ہو گا کہ انہوں نے بدترین عسکری ڈکٹیٹر شپ کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے صعوبتیں اٹھائیں، اپنی ٹوٹی پھوٹی بدحال پارٹی میں نئی روح پھونکی اور یوں کامیابی کاسفر طے کرتے ہوئے مسلم ورلڈ کی پہلی خاتون وزیراعظم کا اعزاز حاصل کیا۔

بیسویں صدی کے آخری سالوں میں جب عسکری آمریت نے نوازشریف کی ٹوتھرڈ میجارٹی والی مضبوط جمہوریت پربدترین شب خون مارا، ان پر گھناؤنے الزامات عائد کرتے ہوئے انہیں پابند سلاسل کر دیا تو ان کی شریک حیات محترمہ کلثوم نواز نے جس بہادری سے احتجاجی تحریک کی قیادت کی یا آج ان کی بیٹی محترمہ مریم نواز عسکری و سویلین ڈکٹیٹر شپ کے مکسر کا سامنا جس ولولہ انگیز جرأت و حوصلے سے کر رہی ہیں، یہ ساری جدوجہد پاکستان میں اولوالعزم خواتین کی تاریخ کا حصہ ہے اور نئی تاریخ بننے جا رہی ہے۔

ایک نوعمر، پیاری، بہادر و دلیر بچی ملالہ یوسف زئی کے پرعظمت کردارسے کون کمبخت انکار کر سکتا ہے جو مذہبی و روایتی جبر کے خلاف سچائی کی آواز بن کر ابھری، جب بچیوں کے سکولز قدامت پسندی کی جبری قوتیں بم دھماکوں سے اڑا رہی تھیں تب بچیوں کی تعلیم کے مساوی حق کا نعرہ بلند کرتی ملالہ کی آواز کس بے باکی سے گونجی جسے خاموش کرنے کیلئے اہل جبر نے معصوم بچی پر گولیاں برساتے ذرا شرم محسوس نہ کی۔ اور پھر یہ بچی پوری دنیا میں نہ صرف تعلیم کے حوالے سے بلکہ حقوق نسواں کیلئے اس ملک کی نئی پہچان بنی، دنیا کی کم عمر ترین نوبل انعام یافتہ خاتون کا اعزاز حاصل کرتے ہوئے اپنے وطن کا نام روشن کیا۔

پاکستان میں اولوالعزم خواتین کی جدوجہد کا تذکرہ کرتے ہوئے تاریخ محترمہ عاصمہ جہانگیر کے ولولہ انگیز رول کو کیسے فراموش کر سکتی ہے۔ یہ دبنگ خاتون بلاشک و شبہ پاکستانی خواتین کیلئے لائٹ ہاؤس اور اس کی جدوجہد رول ماڈل کی حیثیت رکھتی ہے۔ ہوش سنبھالنے سے لے کر یہ عظیم خاتون جب تک زندہ رہیں، جبر و آمریت کے خلاف ننگی تلوار ثابت ہوئیں۔ جہاں مردوں کا پتہ پانی ہوتا تھا، وہاں یہ خاتون سیسہ پلائی دیوار یا مضبوط چٹان کی طرح کھڑی لاکھوں انسانوں کیلئے ڈھارس بنتی۔ عرض کیا ’’بی بی آپ کے دشمن بڑے کم ظرف ہیں تھوڑا دیکھ بھال لیا کریں‘‘ بولیں: ’’افضال ریحان صاحب آپ سے زیادہ کون جانتاہے کہ مجھے پاپولر اپروچ کی بجائے تلخ سچائی کتنی عزیز ہے، جب تک زندہ ہوں جبر کے خلاف لڑوں گی خواہ وہ ملاؤں کا ہو، ججز کا ہو، یا جرنیلوں کا‘‘۔

آج پوری قوم کے سامنے ہے وہ مرنے کے بعد بھی ہر نوع کی آمریت کے بالمقابل آئین، جمہوریت، انسانی حقوق اور آزادیوں کا سمبل بنے کھڑی ہیں۔ ان کے نام سے ہر سال جو کانفرنس منعقد کروائی جاتی ہے، وہ ان کے عظیم آدرشوں کا روشن مظہر و ورثہ ہے جس میں بشمول سٹنگ ججز ہر شعبہ زندگی کے نمایاں لوگ بے باکی سے اظہار خیال کر سکتے ہیں اور یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ آزادی افکارو اظہار سے بڑھ کر انسانی تکریم کا کوئی نعم البدل نہیں۔ منیزے جہانگیر اور عاصمہ بی بی کے دیگر چاہنے والوں کیلئے یہ امر کس قدر باعث مسرت ہے کہ ان کے بے وقت جانے سے جو ایک نوع کی محرومی و مایوسی تھی یہ کانفرنس امید کی ایک نئی کرن بن جاتی ہے۔ ان کے قریب رہنے والے ادراک کر سکتے ہیں کہ اگر آج وہ خود ہمارے درمیان موجود ہوتیں تو وہ اس تبدیلی والی نئی و انوکھی آمریت کے حوالے سے کیا گفتگو کر رہی ہوتیں۔

اس سال عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں ہونے والی تقاریر کا میلہ اگرچہ ان کے ایک عقیدت مند علی احمد کرد نے لوٹ لیا ہے، یہ کہتے ہوئے کہ ’’بائیس کروڑ عوام اور ایک فرد‘‘ ان کی تقریر کا ایک ایک لفظ گویا آمریت کے لگائے ہوئے زخموں پر مرہم کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لئے آزادی کے نعرے خوب بلند ہوئے لیکن تین مرتبہ منتخب ہونے والے عوامی قائد نے اپنی تقریر میں محترمہ عاصمہ بی بی سے اپنے قریبی تعلق کا حق ادا کر دیا۔ یوں لگ رہا تھا کہ بی بی صاحبہ نے اس دنیا سے جاتے ہوئے اس شخصیت سے محض آخری گفتگو ہی نہیں کی تھی بلکہ اپنی فکر اور سوچ کی روشن چنگاری بھی ادھر منتقل کر دی تھی۔ ’’آج ہم تاریخ کے فیصلہ کن موڑ پر کھڑے ہیں، بائیس کروڑ عوام کو جوابات درکار ہیں، کیا سوالات کرنے والوں کی زبانیں کھینچنے، انہیں اٹھا لینے اور غائب کرنے سے مسائل حل ہوں گے؟ یہاں آئین ٹوٹتا ہے من پسند لوگوں سے مرضی کے فیصلے لئے جاتے ہیں، آمروں کو قانونی حیثیت ملتی ہے، سیاسی انجینئرنگ کی فیکٹریاں لگائی جاتی ہیں، منتخب حکومتوں کے خلاف دھرنے کروائے جاتے ہیں، حکومتیں بنوائی اور گرائی جاتی ہیں‘‘۔۔۔۔

تقدس کا پیمانہ کس خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے کہ جو آئین کی پاسداری کرے جو آئین کی حرمت کے سامنے سرتسلیم خم کرے وہی عزت کے قابل ہے، یہاں کوئی غدار نہیں سوائے اس کے جو آئین سے غداری کرے۔ ادراک کیا جائے تو آئین، جمہوریت اور انسانی حقوق کے لئے بلند ہونے والی یہ آوازیں محترمہ عاصمہ جہانگیر کی دبنگ جدوجہد اور آواز ہی کا پرتو ہیں، جس پر وہ عمر بھر ڈٹی رہیں، مگر روایتی آمریت کے پروردہ لوگوں کیلئے انہیں برداشت کرنا ممکن نہ ہو سکا۔ حالانکہ سٹیٹس کو کی تقاریر پر بھی یہاں کوئی بندش نہ تھی۔ جنہوں نے طاقتوروں کی ترجمانی کا حق ادا کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ جب طرفین کا موقف آمنے سامنے آ جائے تو پھر فیصلے کا حق عوام کے اجتماعی ضمیر کو حاصل ہو جاتا ہے۔ اتنی سی بات اگر نظریہ جبر کو سمجھ آ جائے تو پھر رونا کا ہے کاہے۔

 کلیدی خطاب کے دوران تاریں کاٹنے اور انٹرنیٹ کو بلاک کرنے سے کیا عوامی حقوق پر ڈکیتی ڈالنے کی واردات کو چھپایا جا سکتا ہے؟ رہ گئی یہ بات کہ ’ملزم‘ کا خطاب کسی کی طبع نازک پر گراں گزرے گا یا نام نہاد عدالتی فیصلوں کی توہین ہو جائے گی، اس کی قلعی تو انصاف کے نام پر ظلم ڈھانے والوں کی اپنی آڈیو سے کھل چکی ہے، جسے پاکستان کی عدالتی تاریخ میں بدترین دھبے کی حیثیت سے یاد رکھا جائے گا۔ مسئلہ محض ایک آڈیو کا نہیں ہے جس کی تصدیق امریکی فرانزک ادارہ بھی کر چکا ہے۔ غور طلب امر یہ ہے کہ کیا تمام حقائق و واقعات کی کڑیاں ایک دوسری سے پوری طرح مل نہیں رہی ہیں؟ اور پھر گھر کے اپنے بھیدیوں کے بیانات پوری سازشی تھیوری کو جس طرح بے نقاب کر رہے ہیں۔ ایسے میں ابہام کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔