سابق چیف جسٹس کی آڈیو کی تحقیقات کا مطالبہ

  • اتوار 28 / نومبر / 2021
  • 4030

سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور سندھ سے تعلق رکھنے والے جوڈیشل کمیشن کے رکن نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو کی صداقت اور تحقیقات کے لیے آزاد کمیشن کی تشکیل دینے کے لئے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی ہے۔

ایس ایچ سی بی اے کے صدر صلاح الدین احمد اور جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (سندھ) کے رکن سید حیدر امام رضوی کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں ان واقعات پر روشنی ڈالی گئی ہے جو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کو سزا سنائے جانے سے پہلے، اس کے دوران اور بعد میں مین اسٹریم میڈیا میں رپورٹ ہوئے تھے۔ ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس نے چیف جسٹس اطہر من اللہ کے روبرو درخواست سماعت کے لیے مقرر کر دی ہے۔

درخواست میں آئی ایچ سی سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ ایک آزاد کمیشن کا تقرر کرے جس میں اعلیٰ عدلیہ کے اراکین یا ریٹائرڈ ججز، قانونی ماہرین، صحافیوں اور سول سوسائٹی کے ارکان شامل ہوں جو جامع انکوائری کریں تاکہ ’سابق چیف کی مبینہ آڈیو ریکارڈنگ کی تصدیق یا تردید ہو سکے‘۔

درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی کہ اس کمیشن کو نواز شریف خاندان کی سزا سے پہلے اور بعد میں عدلیہ پر لگائے گئے واقعات/الزامات کی بھی تحقیقات کا اختیار دیا جائے۔ جو واقعات رونما ہوئے ہیں ان سے لوگوں کی نظروں میں عدلیہ کی ساکھ اور آزادی ختم ہو رہی ہے۔

درخواست میں 28 اپریل 2017 کو اس وقت کے چیئرمین سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی جانب سے سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو ان کے ساتھ فون پر بات چیت کے بعد لکھے گئے مراسلے کا بھی ذکر کیا گیا تھا۔ درخواست میں کہا گیا کہ ’اس وقت کے چیئرمین کو یو ایس اے کے ایک نمبر سے واٹس ایپ پر کال موصول ہوئی تھی جس میں کال کرنے والے نے کہا تھا کہ ہدایات ہیں کہ بلال رسول کا نام نئے پینل میں شامل کیا جائے۔

اس میں کہا گیا کہ جس پینل کا کالر حوالہ دے رہا تھا وہ عمران خان اور رشید احمد کی پٹیشن پر عدالت عظمی کی جانب سے 20 اپریل 2017 کو تشکیل دینی جانے والی جے آئی ٹی تھی۔ درخواست میں بیان کردہ ایک اور واقعہ سابق جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی راولپنڈی بار ایسوسی ایشن سے 21 جولائی 2018 کی تقریر تھی جس میں انہوں نے خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں پر عدالتی کارروائی میں ہیرا پھیری کرنے کا الزام لگایا تھا۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو تقریر کے بعد شوکاز نوٹس دیا گیا تھا۔

درخواست گزاروں نے 6 جولائی 2019 کو مریم نواز کے پریسر کو تیسرے واقعہ کے طور پر پیش کیا جس میں انہوں نے احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کی جانب سے سابق وزیر اعظم کو 'زبردستی' سزا سنانے کا مبینہ ویڈیو اعترافی بیان جاری کیا تھا۔