کورونا اخراجات میں 40 ارب روپے کی بے ضابطگیاں
- اتوار 28 / نومبر / 2021
- 5100
حکومتِ پاکستان نے ایم ایف کے دباؤ پر کورونا وبا کے دوران اربوں روپے اخراجات سے متعلق آڈٹ رپورٹ جاری کر دی ہے جس میں 40 ارب روپے سے زائد کی بے ضابطگیوں کی نشان دہی ہوئی ہے۔
آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کی مطابق نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی طرف سے خرچ کیے گئے 22.8 ارب روپ میں سے 4.8 ارب روپے، وزارتِ دفاع کے 3.2 ارب روپوں میں سے ڈیڑھ ارب روپے کی بے ضابطگی ہوئی۔ بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام میں 133 ارب روپے میں سے 25 ارب روپے کی رقم پر سوالات اُٹھائے گئے ہیں۔
رواں برس 23 نومبر کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران مشیر خزانہ شوکت ترین نے کہا تھا کہ آئی ایم ایف سے معاہدے کے تحت جو اقدامات کرنا ہوں گے ان میں جی ایس ٹی پر استثنیٰ کا خاتمہ، پیٹرولیم لیوی پر ہر ماہ چار روپے اضافہ، اسٹیٹ بینک قوانین میں ترمیم، کووڈ کے حوالے سے آڈیٹر جنرل کی رپورٹ سامنے لانا شامل تھا۔
اس اعلان کے بعد جمعے کی شام وزارتِ خزانہ کی طرف سے کورونا اخراجات کی آڈٹ رپورٹ ویب سائٹ پر جاری کر دی گئی۔ دو سو دس صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آڈیٹر جنرل کورونا اخراجات کی مد میں 354 ارب روپے سے زائد کے اخراجات کا آڈٹ کرنا چاہتے تھے۔ لیکن انہیں مکمل ریکارڈ نہیں دیا گیا۔ جو ریکارڈ آڈیٹر جنرل کو دیا گیا اس کے مطابق 40 ارب روپے کی بے ضابطیاں سامنے آئی ہیں۔
آڈیٹر جنرل نے مختلف بدانتظامیوں کی نشان دہی کی ہے جن میں کورونا کے لیے حکومتی مشینری کے تیار نہ ہونے، غلط خریداری، خریداری میں تاخیر، ضرورت کا اندازہ لگائے بغیر خریداری، کمزور معاشی کنٹرول، تمام ریکارڈ کو درست انداز میں نہ رکھنا اور آڈٹ حکام کو تمام ریکارڈ نہ دینا شامل ہے۔
رپورٹ میں حکومتی ٹیکسز کی عدم ادائیگی، ویئر ہاؤسز کی درست مینجمنٹ نہ کرنا، سپلائرز کو ایڈوانس ادائیگیاں، آلات کی فراہمی کا ریکارڈ نہ ہونا، ضمانتوں کے بغیر سپلائرز کو ایڈوانس ادائیگیاں، بے نظیر انکم پروگرام میں ریکارڈ نہ ہونے کے باعث ایک ہی خاندان میں کئی افراد کو ادائیگیاں، انشورنس رکھنے والے افراد کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی ادائیگیاں، سرکاری ملازمین کو بے نظیر پروگرام کے تحت ادائیگیاں، جعلی بائیو میٹرک کے ذریعے ادائیگیوں کا بھی انکشاف کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں یوٹیلیٹی اسٹورز کی طرف سے فلور ملز کی غیر قانونی پری کوالیفکیشن، اخراجات کے لیے نظام کی خلاف ورزیاں، یوٹیلٹی اسٹورز کی طرف سے سبسڈی کے لیے کوئی نظام نہ ہونا، پیپرا رولز کی خلاف ورزیاں، فلور ملوں کو کوٹہ سے زیادہ گندم کی فراہمی اور بے نظیر پروگرام کے تحت درست نظام نہ ہونے کی وجہ سے ان رول ہونے والے 13 لاکھ سے زائد لوگوں کو کوئی بھی رقم نہ مل سکی۔
آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق 24 مارچ 2020 کو وزیرِ اعظم عمران خان نے کورونا وبا سے نمٹنے کے لیے 1240 ارب روپے کے پروگرام کی منظوری دی جس کے تحت ایمرجنسی ریسپاس، شہریوں کو ریلیف اور معیشت و کاروبار کو اسپورٹ دینے کے لیے یہ رقم خرچ ہونا تھی۔ 1240 ارب روپے میں ایمرجنسی ریلیف کے لیے 190 ارب، بزنس اور اکانومی کے لیے 480 ارب اور شہریوں کو ریلیف دینے کے لیے 570 ارب روپے رکھے گئے تھے۔ 30 جون 2020 تک 354 ارب روپے سے زائد کی رقم جاری کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق آڈیٹرز نے این ڈی ایم اے کے ذریعے 42.5 ملین روپے کی لاگت سے ریسورس مینجمنٹ سسٹم کی تنصیب کی وجہ سے غلط خریداری کی۔ زیادہ نرخوں پر وینٹی لیٹرز کی خریداری کی وجہ سے سرکاری خزانے کو ایک ملین ڈالر کا نقصان ہوا۔ چین نے 250 بستروں پر مشتمل آئسولیشن اسپتال اور انفیکشن ٹریٹمنٹ سینٹر کی تعمیر کے لیے چار ملین ڈالر کا عطیہ دیا لیکن یہ رقم کبھی استعمال نہیں ہوئی۔ وینٹی لیٹرز کی خریداری کی وجہ سے چینی فرموں کو زائد ادائیگی کے معاملات سامنے آئے۔
این ڈی ایم اے نے حاجی کمپلیکس راولپنڈی کی تزئین و آرائش، کراچی میں قرنطینہ کی سہولیات اور نیشنل کنٹرول روم کے قیام کے لیے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کو کی گئی ادائیگیوں کے خلاف 690 ملین روپے کی ایڈوانس ادائیگی کا کوئی حساب نہیں دیا۔
آڈیٹر جنرل کا کہنا ہے کہ این ڈی ایم اے کے آڈٹ کے دوران بار بار تحریری اور زبانی درخواستوں کے باوجود کافی تعداد میں ریکارڈ اور متعلقہ دستاویزات آڈٹ کی جانچ پڑتال کے لیے پیش نہیں کی گئیں۔
کورونا فنڈز میں 40 ارب کی مبینہ بے ضابطگیوں پر اپوزیشن اور مختلف حلقے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ البتہ حکام کا کہنا ہے کہ کورونا وبا کے باعث ہنگامی طور پر بعض اقدامات کرنا پڑے جس میں بدانتظامی ہو سکتی ہے، لہذٰا اسے کرپشن سے نہیں جوڑا جا سکتا۔
وزارتِ خزانہ کے ترجمان مزمل اسلم نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ آڈٹ رپورٹ پر آئی ایم ایف نے کسی قسم کا اعتراض نہیں اُٹھایا کیوں اس آڈٹ میں کسی فراڈ یا بدعنوانی کا شائبہ نہیں ملا۔ کچھ معاملات پر بدانتظامی ہوئی ہے جس کی وجہ کورونا کی وجہ سے ہنگامی صورتِ حال اور مستحقین تک جلد رقم پہنچانا ہے۔