کامیابی یا ناکامی ہمارے اختیار میں نہیں: وزیر اعظم
- اتوار 28 / نومبر / 2021
- 5530
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ خدا نے ہمیں جدوجہد کرنے کی طاقت دی ہے، کامیابی یا ناکامی ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔
پاکستان کے وسائل پر اشرافیہ کا قبضے ہے۔ قانون کی عدم موجودگی سے نہ صرف عوام کی اکثریت بنیادی سہولیات اور بے پناہ صلاحیتوں کے استعمال سے محروم ہے۔ سرکاری نیوز ایجنسی ’اے پی پی‘ کے مطابق زیتونا کالج کے صدر اورامریکی اسلامی اسکالر حمزہ یوسف کے ساتھ آن لائن گفتگو میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ مسئلہ وسائل پر اشرافیہ کا قبضہ تھا جس نے عوام کو طبی وسائل، تعلیم اور انصاف سے محروم کردیا، قانون کی حکمرانی کا فقدان ہے جس کی وجہ سے پاکستان ترقی نہیں کر سکا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ قانون کی حکمرانی نہ ہو تو کوئی معاشرہ کبھی بھی اپنی صلاحیتوں کو حاصل نہیں کر سکتا۔ میرٹ کا تعلق قانون کی حکمرانی سے بھی ہے۔ اگر آپ کے معاشرے میں میرٹ نہیں ہے تو آپ کے پاس یہ اشرافیہ ہے جس نے جدوجہد نہیں کی ہے اور وہ اہم عہدوں پر بیٹھے ہیں۔ مہذب معاشرے کا بنیادی اصول قانون کی حکمرانی ہے جہاں طاقتور بھی قانون کے سامنے یکساں طور پر جوابدہ ہوتا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ ترقی پذیر ممالک میں سب سے بڑا مسئلہ قانون کی حکمرانی اور امیر اور غریب کے لیے امتیازی قوانین کی عدم موجودگی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانا چاہتے ہیں جس کی بنیاد ہمارے نبی ﷺ کی ریاست مدینہ کے تصور پر تھی۔
موسمیاتی بحران پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا کی سب سے بڑی ماحولیاتی تباہی جسے موسمیاتی تبدیلی کہا جاتا ہے اس لیے ہوئی کہ انسان زمین کی حفاظت کے بنیادی اصول سے ہٹ چکا تھا۔ نبی کریم ﷺ کی ایک حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا کے لیے اس طرح کام کرو جیسے تم ہمیشہ زندہ رہو گے اور آخرت کے لیے اس طرح کام کرو جیسے کل مر جاؤ گے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ آج انسان جو کچھ کرے گا اس کے اثرات آنے والی نسلوں پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ زیادہ تر ترقی پذیر دنیا میں حکمران اپنے مفاد اور پیسہ کمانے کے لیے اقتدار میں آتے ہیں لیکن وہ اپنے ایمان کی وجہ سے سیاست میں آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے پاس سب کچھ تھا، میں ایک اسپورٹس اسٹار کے طور پر پہلے ہی ملک کا بڑا نام تھا اور میرے پاس بہت پیسہ تھا۔ اس لیے مجھے وزیر اعظم بننے کے لیے 22 سال تک جدوجہد کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ اس کی واحد وجہ یہ تھی کہ مجھے یقین تھا کہ معاشرے سے متعلق میری ذمہ داری ہے کیونکہ مجھے دوسروں سے زیادہ دیا گیا۔ تمام مذاہب کے مطابق انسان کو زندگی میں ملنے والے فوائد اور مراعات کی بنیاد پر پرکھا جائے گا۔ میں سیاست میں اس لیے آیا تھا کیونکہ مجھے یقین تھا اور مجھے احساس تھا کہ معاشرے کے لیے میری ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ ذاتی مفادات یا اقتدار کے فوائد حاصل کرنے کے لیے سیاست میں نہیں ہیں۔ ’خدا نے ہمیں جدوجہد کرنے کی طاقت دی ہے، ہم کامیاب ہوں یا نہ ہوں یہ ہمارے بس میں نہیں ہے‘۔ جب حضرت محمد ﷺ نے مدینہ کی ریاست قائم کی تو آپ نے ان لوگوں کی صلاحیتوں کو اُجاگر کیا جو سب کے سب رہنما بن گئے۔
پاکستان میں صرف ایک فیصد کو معیاری تعلیم تک رسائی حاصل ہے اور دوسروں کو مواقع نہیں ہیں۔ ’ پاکستان میں جدوجہد کی جیت پاکستانی عوام کی صلاحیتوں کو نکھار دے گی اور دوسرا مقصد لوگوں کو غربت سے نکالنا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ حکومت نے ملکی تاریخ کا سب سے بڑا فلاحی پروگرام شروع کیا کیونکہ ہمارا مقصد لوگوں کو غربت سے نکالنا، وسائل پیدا کرنا اور اسے پھیلانا اور اشرافیہ اور مافیاز کی اجارہ داری کو توڑنا ہے۔