معروف سینئر صحافی محمد ضیاالدین انتقال کر گئے
- سوموار 29 / نومبر / 2021
- 3510
تجربہ کار صحافی اور ڈان کے سابق مدیر محمد ضیاالدین طویل علالت کے بعد 83 سال کی عمر میں پیر کو اسلام آباد میں انتقال کر گئے۔
سرکاری نشریاتی ادارے پاکستان ٹیلی ویژن نے اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے ان کے 60 سال پر محیط ’شاندار کیریئر‘ کے لیے خراج عقیدت پیش کیا جس میں دی نیوز انٹرنیشنل، ڈان اور ایکسپریس ٹربیون سمیت دیگر میڈیا اداروں کے لیے ان کا وسیع تعاون شامل تھا۔ وہ اسلام آباد میں ڈان کے سابق ریذیڈنٹ ایڈیٹر بھی رہے۔
ضیاالدین نے 1964 میں کراچی یونیورسٹی سے صحافت میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ اسی سال انہوں نے پاکستان پریس انٹرنیشنل میں رپورٹر کے طور پر اس پیشے میں قدم رکھا۔ انہوں نے ڈان میں شمولیت اختیار کی جہاں وہ طویل عرصے تک اسلام آباد اور لاہور کے لیے بطور ریذیڈنٹ ایڈیٹر کام کرتے رہے۔ وہ 2006 سے 2009 تک لندن میں اخبار کے نمائندے بھی رہے۔
انہوں نے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل اور بعد ازاں 2002 سے 2006 تک ساؤتھ ایشیا فری میڈیا ایسوسی ایشن کے صدر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ ضیا الدین کے انتقال پر ملک کی صحافت اور میڈیا برادری کی جانب سے تعزیت کا اظہار کیا گیا ہے جس میں مختلف شخصیات نے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔
ڈان نیوز کے شو ’ذرا ہٹ کے‘ کے میزبان مبشر زیدی نے ضیاالدین کو ’پاکستانی صحافت کا آئیکن‘ قرار دیا۔ ناصر جمال نے کہا کہ وہ بہترین اور قد آور صحافیوں میں سے ایک اور پاکستان میں صحافت کے علمبرداروں میں سے تھے۔
وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے انہیں انتہائی قابل اور آزاد صحافیوں میں سے ایک قرار دیا۔ سینئر صحافی حامد میر نے کہا کہ ضیاالدین ان چند صحافیوں میں سے ایک تھے جن کا عملی تجربہ نصف صدی پر محیط ہے۔ ’ہم نے ان سے بہت کچھ سیکھا ہے‘۔
دی نیوز کی ایڈ ایڈیٹر زیب النسا برکی نے ٹوئٹ کیا کہ وہ باوقار اور نرم مزاج شخص تھے جو اپنے پیشے میں نہایت مہارت رکھتے تھے۔ سیاسی تجزیہ کار و سینئر صحافی مظہر عباس نے کہا کہ ضیاالدین نہ صرف ایک ’بہترین صحافی‘ تھے بلکہ ’ایک مشہور شخصیت اور تمام نوجوان صحافیوں کے لیے رہنما‘ تھے۔
ڈیجیٹل رائٹس کی رضاکار اور انسانی حقوق کی وکیل نگہت داد نے بھی ان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ صحافی برادری میں نہایت دانشور شخصیت تھے اور بہت سے لوگوں کے لیے ایک رول ماڈل تھے۔