کورونا کا نیا ویرینٹ پاکستان بھی ضرور آئے گا: اسد عمر
- سوموار 29 / نومبر / 2021
- 3300
وفاقی وزیر منصوبہ بندی اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے سربراہ اسد عمر نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کا نیا ویرینٹ (اومیکرون) جیسے پوری دنیا میں پھیل رہا ہے یہ پاکستان بھی آئے گا۔
این سی او سی میں ایک اجلاس کے بعد معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئندہ 2 سے 3 ہفتوں میں ہمیں زیادہ سے زیادہ ویکسی نیشن کرکے اس کا خطرہ کم کرنا ہے۔ جنوبی افریقہ میں کورونا وائرس کی نئی قسم سامنے آگئی ہے جو انتہائی خطرناک ہے اور دیگر ممالک تک پھیل رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں کئی ہفتوں سے وائرس کا پھیلاؤ بڑی حد تک کم ہے جس کی وجہ ویکسی نیشن ہے اور اب تک ملک میں تقریباً 5 کروڑ افراد مکمل طور پر ویکسینیٹڈ ہیں جبکہ 3 کروڑ افراد کو ویکسین کی ایک خوراک لگ چکی ہے۔ ہم نے گزشتہ ڈیڑھ سال میں جو بھی فیصلے کیے وہ مستقبل کی صورتحال کومدِ نظر رکھتے ہوئے کیے۔
ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ جیسے جیسے کیسز مثبت آنے کی شرح کم ہوئی، ٹیسٹنگ بھی کم ہوگئی لیکن اب فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہائی رسک علاقوں میں بھی ٹیسٹنگ شروع کی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ متاثرہ ممالک سے مسافروں کی آمد پر پابندی لگادی گئی ہے لیکن اس سلسلے میں مزید اقدامات کرنے جارہے ہیں تاکہ وائرس کی نئی قسم کو کنٹرول کیا جاسکے۔
انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ تمام تر اقدامات کر کے وائرس کی آمد کو کچھ وقت کے لیے ٹالا جاسکتا ہے لیکن اسے سارے دنیا میں پھیلنا ہی ہے کیوں کہ دنیا ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح ملی ہوئی ہے اسے روکنا ممکن نہیں ہے۔ اس کا حل ویکسی نیشن ہے، ابتدائی اطلاعات کے مطابق ویکسین پھر بھی اس سے دفاع کیلئے مؤثر ہوگی۔
ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ گزشتہ چند روز سے مختلف ممالک سے وائرس کے دوبارہ پھیلاؤ کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں اور وہاں اس سے مرنے والوں اور شدید متاثر ہو کر ہسپتال پہنچنے والوں کا تعلق ان افراد سے ہے جنہوں نے ابھی تک ویکسین نہیں لگوائی۔ اس ویرینٹ کو اس لیے خطرناک قرار دیا جارہا ہے کیوں کہ اس کا پھیلاؤ گزشتہ اقسام کی نسبت بہت زیادہ تیز ہے اور اس میں کچھ میوٹیشنز ہیں جو ممکنہ طور پر اس ویرینٹ کو زیادہ خطرناک بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔