نواز شریف کو عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں مدعو کرنے پر وزیر اعظم کی کڑی تنقید

  • سوموار 29 / نومبر / 2021
  • 3330

وزیر اعظم عمران خان نے حال ہی میں منعقدہ عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں مسلم لیگ (ن) کے قائد کو مدعو کرنے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کانفرنس میں مہمان خصوصی نواز شریف کو بنایا گیا جبکہ اُسی تقریب میں وہ ججز بھی موجود تھے جنہوں نے سابق وزیراعظم کو سزا سنائی تھی۔

جہلم میں القادر یونیورسٹی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عدالت نے نواز شریف کو قومی خزانے کو نقصان پہنچانے اور عوام کا پیسہ کھا کر فرار ہونے پر سزا سنائی۔ اب وہ (نواز شریف) علاج کے لیے بیرون ملک فرار ہوچکا ہے، 1985 کے بعد تبدیلی آئی ہے کہ چوروں کو بُرا ہی نہیں سمجھتے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ میں کوئی سیاسی بیان نہیں دے رہا لیکن جب آپ کرپشن کو کرپشن ہی نہیں سمجھیں گے تو اس معاشرے میں محنت کون کرے گا۔ ہمارا نظام تعلیم ہی ہماری ترقی کے لیے بڑی رکاوٹ بن گیا ہے۔ نوآبادیاتی نظام کے تحت تشکیل پانے والا انگلش میڈیم اور دوسری طرف اردو، جو تیتر ہے اور نہ ہی بٹیر اور تیسری طرف دینی مدارس میں نظام تعلیم ہے۔ اس کے نتیجے میں تین مختلف خیال کے لوگ سامنے آرہے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ انہیں یکجا کرنے کے لیے  یکساں نظام تعلیم لے کر آئیں۔ ہماری زندگی مختلف قسم کے انتشار سے دوچار ہے، مسلمان عاشق رسول ﷺ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن اپنے معمولات زندگی میں سیرت النبی ﷺ کے فرمودات کو نہیں اپناتا۔ مسلمانوں کے اعلیٰ کردار کی وجہ سے ملائیشیا اور انڈونیشیا میں ہزاروں لوگ مسلمان ہوگئے۔ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہماری قوم کا اعلیٰ کردار نہیں رہا۔ سچائی اعلیٰ کردار کی بنیاد ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ایک ایسی قوم بننا ہے جو ہمارے اعمال اور نبی کریم ﷺ کی سیرت کو جوڑے۔ جب تک ہم اپنے اعمال کو حضرت محمدﷺ کی تعلیمات سے نہیں جوڑیں گے اس وقت تک عظیم قوم نہیں بن سکتے۔ مغربی طرز معاشرت کو دیکھ کر ہمارا نوجوان تذبذب کا شکار ہے، مغربی ممالک سائنس اور ٹیکنالوجی کی بدولت ترقی کر رہے ہیں لیکن روحانی اعتبار سے تنزلی کا شکار ہیں جس کا اظہار خود پوپ نے بھی کیا۔

عمران خان نے تحقیق کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ تحقیق کی بدولت کئی راز افشا ہو سکتے ہیں، طرز معاشرت میں بہتری بھی آئے گی، اس ضمن میں جامعات اپنا کردار ادا کریں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ مغربی ممالک میں اسلام پر بہت کام ہو رہا ہے، اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ وہاں کفر کے فتوے کا ڈر نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری قوم کا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ لیڈر سامنے نہیں آسکے جو اعلیٰ کردار کے حامل تھے۔ ہمارے سیاستدان نہیں سمجھتے کہ جب آپ لیڈر بنتے ہیں تو دراصل یہ بہت بڑی ذمہ داری ہوتی ہے۔ جب کوئی صاحبِ منصب ہوجائے تو قوم کا پیسہ لوٹنا شروع کر دیتا ہے تو ایسا معاشرہ کیسے ترقی کرسکتا ہے جبکہ اصل رہنما وہ ہوتا ہے جو اپنی ذات سے بڑھ کر سوچتا ہے۔

وزیر اعظم نے خدشہ ظاہر کیا کہ مغربی ممالک میں سے پھر کوئی نہ کوئی شخص گستاخی کرے گا لیکن اس مرتبہ خواہش ہے کہ مربوط اور حکمت عملی سے مربوط ردعمل سامنے آئے جس کی قانونی حیثیت ہو۔ مسلم ممالک کے سربراہان اور اسکالرز سے مشاورت کرکے ایک ایسا لائحہ عمل تیار کیا جائے جس پر مغربی ممالک میں گستاخی کی گنجائش باقی نہ رہ جائے۔