رانا شمیم نے اصل دستاویز جمع کروانے کیلئے وقت مانگ لیا
- منگل 30 / نومبر / 2021
- 2940
گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے اپنا بیانِ حلفی نہیں دیکھا جس میں انہوں نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے خلاف الزامات عائد کیے تھے۔
دی نیوز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں اعلیٰ عدلیہ کے حوالے سے الزامات پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے رپورٹ لکھنے والے صحافی انصار عباسی، ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمٰن، دی نیوز کے ایڈیٹر عامر غوری اور رانا شمیم کے خلاف توہینِ عدالت کیس کی سماعت کی۔ سماعت میں رانا محمد شمیم بذاتِ خود، مقامی اخبار کے چیف ایڈیٹر میر شکیل الرحمٰن، ایڈیٹر عامر غوری، اور سینئر صحافی انصار عباسی کے علاوہ اٹارنی جنرل خالد جاوید خان بھی عدالت پیش ہوئے۔
سماعت کے آغاز میں جج نے استفسار کیا کہ پاکستان بار کونسل اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس سے کون آئے ہیں؟ نیشنل پریس کلب سیکریٹری انور رضا نے عدالت کو آگاہ کیا کہ پی ایف یو جی سے ناصر زیدی آئے ہیں جس پر جج نے ریمارکس دیے کہ ناصر زیدی کی تو بہت قربانیاں ہیں۔
بعدازاں عدالت کے کہنے پر سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم روسٹرم پر آئے تو جج نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے شوکاز نوٹس کا جواب دیا ہے؟ جس پر رانا شمیم نے کہا کہ میرے خاندان میں حادثہ ہوا ہے، سماعت 12 تاریخ کے بعد مقرر کرلیں۔ رانا شمیم نے عدالت میں انکشاف کیا کہ ’میں نے ابھی تک اپنا بیان حلفی بھی نہیں دیکھا‘۔ جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے ابھی تک اپنا ہی بیان حلفی نہیں دیکھا؟ آپ کا بیان حلفی کسی مقصد کے لیے ہو گا، یا کسی اخبار کے لیے دیا تھا۔
رانا شمیم نے بتایا کہ میرا بیان حلفی سیلڈ تھا اور صرف خاندان کے پاس تھا، پتا نہیں وہ کس طرح لیک ہو گیا۔ جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے ان کو بیان حلفی نہیں دیا؟ آپ نے بیان حلفی کسی مقصد کے لیے ہی دیا ہوگا، آپ تحریری جواب میں بتائیں گے کہ تین سال بعد بیان حلفی کس طرح باہر آیا۔
عدالت نے سابق چیف جج گلگت بلتستان کو پانچ روز کے اندر تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کی۔ رانا شمیم نے کہا میری ایک عرض ہے، 5 دسمبر کو بھابھی کا چہلم اور 12 کو بھائی کا چہلم ہے۔ تاہم عدالت نے ہدایت کی کہ یہ بھی سنجیدہ معاملہ ہے، آپ اپنے آپ کو جسٹیفائی کریں۔
اٹارنی جنرل جالد جاوید نے کہا کہ سابق چیف جج سے اصل بیان حلفی عدالت میں پیش کروایا جائے، شاید ان کے بیٹے نے بیان حلفی لیک کردیا ہو۔ رانا شمیم نے کہا کہ میرا ایک ہی بیٹا ہے اور وہ یہیں پاکستان میں ہوتا ہے، میں نے ابھی تک بیان حلفی دیکھا ہی نہیں۔ جج نے رانا شمیم کو ہدایت کی کہ آپ اپنا اصل بیان حلفی عدالت میں جمع کرائیں، جس پر انہوں نے کہا کہ اس کے لیے آپ مجھے وقت دیں۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ 10 سال پرانا کاغذ نہیں 10 نومبر کا کاغذ ہے، اس کیس میں آرٹیکل 19 اور 19 اے کا معاملہ ہے۔ اٹارنی جنرل کا مزید کہنا تھا کہ میڈیا کا کردار دوسرے نمبر پر ہے، ذمہ داری رانا شمیم پر آتی ہے۔ استدعا ہے کہ عدالت رانا شمیم سے اصلی حلف نامہ منگوائے۔
رانا شمیم کا مزید کہنا تھا کہ میں نے ابھی کچھ نہیں دیکھا، میں گاؤں میں تھا، اخبار میں بیانِ حلفی کا پڑھا۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ دس سال پرانا دستاویز نہیں، ان کو 10 نومبر کا یاد نہیں؟ انہوں نے نہیں لکھا تو کس نے لکھا؟
عدالت نے استفسار کیا کہ کیا چیف ایڈیٹر، ایڈیٹر اور صحافی نے اپنا جواب جمع کرا دیا ہے، جس پر فریقین نے بتایا کہ انہوں نے جوابات جمع کروایے ہیں۔ عدالت نے انہیں اپنے جوابات عدالتی معاونین کو بھی مہیا کرنے کی ہدایت کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ معاونین ہم نے اس لیے رکھے تاکہ عدالتی کارروائی شفاف انداز میں ہو۔ اب رانا شمیم کہہ رہے ہیں ان کو بیان حلفی کا معلوم ہی نہیں ہے۔
عدالت نے کہا کہ اگر بیان حلفی سیل تھا تو اس اخبار کے پاس کیسے پہنچا۔ اٹارنی جنرل نے مزید کہا کہ 10 نومبر کو بیانِ حلفی نکلا ہے اور اب رانا شمیم کہہ رہے ہیں پچھلے ہفتے کا مجھے معلوم نہیں کہ اس میں کیا لکھا ہے۔
جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ رانا شمیم کو کتنا وقت چاہیے؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہر دن بہت اہم ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ میں توہین عدالت پر یقین ہی نہیں کرتا ججز کو بہت اونچا ہونا چاہیے۔ رانا شمیم کے آج کے بیان نے کیس کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے، سیاسی بیانیہ کو عدلیہ کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
تاہم جج نے انہیں ہدایت کی کہ 7 دسمبر تک آپ اپنا جواب اور اصل بیان حلفی عدالت میں جمع کرائیں۔ رانا شمیم نے کہا کہ 7 دسمبر تک اصل بیان حلفی نہیں آسکے گا، عدالت نے ریمارکس دیے کہ آپ وہاں سے بھجوانے کا بندوبست کریں اٹارنی جنرل مدد کریں گے۔
رانا شمیم نے کہا کہ میری درخواست ہے 12 دسمبر کے بعد سماعت رکھی جائے تاہم جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اتنا زیادہ وقت نہیں دے سکتے 7 دسمبر تک سماعت ملتوی کرتے ہیں۔
میر شکیل الرحمٰن نے کہا کہ 7 دسمبر کو نیب کا کیس ہے، پیش نہیں ہوا سکتا۔ جس پر جج نے انہیں حاضری سے استثنیٰ کی درخوست دینے کی ہدایت کی۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ہائی کورٹ فردوس عاشق اعوان کیس میں اصول طے کر چکی ہے۔ یہ مقدمہ توہینِ عدالت سے زیادہ میری عدالت کے احتساب اور جواب دہی کا کیس ہے۔ آزادی صحافت کے ساتھ ساتھ یہ مقدمہ عدلیہ کی خود مختاری کا بھی ہے۔
انصار عباسی نے سماعت کے بعد بات کرتے ہوئے کہا کہ رانا شمیم نے خبر فائل کرنے سے پہلے نہ صرف حلف نامے کی زبانی تصدیق کی تھی بلکہ تحریری پیغام میں بھی حلف نامے کے متن کی تصدیق کی تھی۔ انصار عباسی کے مطابق انہوں نے پورا حلف نامہ فون پر پڑھ کر حرف با حرف سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم کو سنایا تھا جس کی انہوں نے تصدیق کی اور اس کے بعد خبر فائل کی گئی۔
15 نومبر 2021 کو انگریزی روزنامہ ’دی نیوز‘ میں صحافی انصار عباسی کی خبر شائع ہوئی جس کی سرخی تھی کہ ثاقب نثار نے 2018 انتخابات سے قبل نواز شریف اور مریم نواز کو ضمانت نہ دینے کی ہدایت کی تھی۔ رپورٹ میں سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم کے حوالے سے کہا گیا کہ انہوں نے مبینہ حلف نامے میں کہا کہ وہ اس بات کے گواہ ہیں کہ ثاقب نثار نے ہائی کورٹ کے جج کو کرپشن ریفرنسز میں نواز شریف اور مریم نواز کو ضمانت نہ دینے کی ہدایات دیں۔
ڈان ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے سابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کی سختی سے تردید کی اور رپورٹ کو ’خود ساختہ کہانی‘ قرار دیا تھا۔
اعلیٰ عدلیہ کے حوالے سے الزامات پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے رپورٹ لکھنے والے صحافی انصار عباسی، ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمٰن، دی نیوز کے ایڈیٹر عامر غوری اور رانا شمیم کو توہینِ عدالت آرڈیننس کے تحت نوٹس جاری کردیے تھے اور پہلی سماعت میں فریقین کو شو کاز نوٹسز جاری کر کے جواب طلب کرلیا تھا۔