فوج ملک کے دفاع کے لیے ہے، کاروبار کرنے کے لیے نہیں: سپریم کورٹ

  • منگل 30 / نومبر / 2021
  • 4840

پاکستان کی سپریم کورٹ نے کنٹونمنٹ اراضی پر کمرشل سرگرمیوں کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران سیکریٹری دفاع کی رپورٹ غیر تسلی بخش قرار دی ہے جس پر اٹارنی جنرل کی استدعا پر عدالت نے رپورٹ واپس لینے کی اجازت دے دی ہے۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ کیا سنیما، شادی ہال، اسکول اور گھر بنانا دفاعی مقاصد ہیں؟ فوج جن قوانین کا سہارا لے کر کمرشل سرگرمی کرتی ہے وہ غیر آئینی ہیں۔ کنٹونمنٹ کی زمین دفاعی مقاصد پورا ہونے پر حکومت کو واپس کرنی ہوتی ہے۔ سپریم کورٹ میں کنٹونمنٹ اراضی پر تجارتی عمارات کی تعمیر کے حوالے سے کیس کی سماعت کے دوران سیکریٹری دفاع لیفٹننٹ جنرل (ر) میاں ہلال حسین پیش ہوئے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ اٹارنی جنرل آپ سیکریٹری دفاع کو کہیں جو رپورٹ جمع کرائی ہے یہ درست نہیں ہے۔ رپورٹ میں لکھا ہے کہ عمارات گرا دی ہیں جب کہ وہاں عمارتیں اب بھی موجود ہیں۔ اس پر سیکریٹری دفاع نے کہا کہ وہ ان مقامات پر جا کر تصاویر بنا کر نئی رپورٹ مرتب کریں گے۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کراچی میں تمام غیر قانونی عمارتیں مسمار کروائی جا رہی ہیں۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ فوج کی غیر قانونی تعمیرات کو چھوڑ دیا جائے۔ اگر فوج کی غیر قانونی تعمیرات کو چھوڑ دیا تو باقی کو کیسے گرایا جائے گا؟ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل خالد جاوید کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ فوج کو قانون کون سمجھائے گا؟ فوج کے ساتھ قانونی معاونت نہیں ہوتی۔ فوجی حکام جو چاہتے ہیں کرتے رہتے ہیں۔ فوج جن قوانین کا سہارا لے کر کمرشل سرگرمی کرتی ہیں وہ آئینی نہیں ہیں۔

کراچی کی صورتِ حال کے بارے میں چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کارساز میں سروس روڈ پر بھی بڑی بڑی دیواریں تعمیر کر کے سڑک اندر کر دی گئی ہے۔ کنٹونمنٹ کی زمین کو مختلف کیٹیگریز میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ پرل مارکی اور گرینڈ کنونشن ہال ابھی تک برقرار ہیں۔ کارساز اور راشد منہاس روڈ پر اشتہارات کے لیے بڑی بڑی دیواریں تعمیر کر دی ہیں

چیف جسٹس گلزار نے سوال کیا کہ گلوبل مارکی کی زمین ایک ریٹائرڈ میجر نے لیز پر دے دی۔ کیا ریٹائرڈ میجر کو کسی پرائیویٹ پارٹی کو گلوبل مارکی کی زمین لیز پر دینے کا اختیار تھا؟ اس معاملے میں جو لوگ ملوث تھے ان کے خلاف کیا کارروائی کی گئی؟ گلوبل مارکی سے روزانہ کروڑوں روپے کمائے جا رہے ہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سنیما، شادی ہال اور گھر بنانا اگر دفاعی سرگرمی ہے تو پھر دفاع کیا ہو گا؟ چند لاکھ میں فوجی افسران نے زمین بیچی اب وہ گھر کروڑوں کے ہیں جہاں چھوٹی سی جگہ دیکھتے ہیں وہاں اشتہار لگا دیتے ہیں۔ اتنی بڑی بڑی دیواریں بنانے کی وجہ سمجھ نہیں آتی۔ فوجی سرگرمیوں کے لیے گیریژن اور رہائش کے لیے کنٹونمنٹس ہوتے ہیں۔ سی ایس ڈی پہلے صرف فوج کے لیے تھا۔ اب وہاں ہر بندہ جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کنٹونمٹس کی تمام زمین اصل حالت میں بحال کرنی ہو گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ فوج ملک کے دفاع کے لیے ہے، نہ کہ کاروبار کرنے کے لیے۔ کراچی کے ایک علاقے کا ذکر کرتے ہوئے چیف جسٹس نے حکم دیا کہ کالا پُل کے ساتھ والی دیوار اور گرینڈ کنونشن ہال آج ہی گرائیں۔

سماعت کے دوران پاکستان ائیر فورس کی زمینوں پر بات کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ فیصل بیس پر اسکول، شادی ہال بھی بنے ہوئے ہیں۔ اگر ایسی صورتِ حال رہی تو کسی دن کوئی بھی شادی کا مہمان بن کر رن وے پر بھاگ رہا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ کہا جا رہا ہے کہ مسرور بیس اور کورنگی ایئر بیس بند کیے جا رہے ہیں۔ کیا ایئر بیس بند کرکے وہاں کمرشل سرگرمی شروع کریں گے۔

جسٹس قاضی امین نے کہا کہ فوج کو معمولی کاروبار کے لیے اپنے بڑے مقاصد پر سمجھوتا نہیں کرنا چاہیے۔ فوج کو اپنے ادارے کے تقدس کا خیال رکھنا چاہیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سمجھ نہیں آتا فوج کو کاروباری سرگرمیاں کرنے کی ضرورت کیا ہے؟ چیف جسٹس نے کہا کہ کوئٹہ اور لاہور میں بھی دفاعی زمین پر شاپنگ مالز بنے ہوئے ہیں۔ سمجھ نہیں آ رہی وزارتِ دفاع کیسے ان سرگرمیوں کو برقرار رکھے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف کراچی کا مسئلہ نہیں پورے ملک کا یہی حال ہے۔ راتوں رات گزری روڈ پر فوج نے بہت بڑی عمارت کھڑی کر دی۔ ہم ابھی سو کر نہیں اٹھے تھے کہ انہوں نے بلڈنگ کھڑی کر دی۔اس معاملے پر جواب دیتے ہوئے سیکریٹری دفاع لیفٹننٹ جنرل (ر) ہلال حسین نے کہا کہ قانون کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کے لیے تینوں افواج کی مشترکہ کمیٹی بنا دی ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اعلیٰ فوجی افسران کو گھر دینا دفاعی مقاصد میں نہیں آتا۔ فوج ریاست کی زمین پر کمرشل سرگرمیاں کیسے کر سکتی ہے؟ ریاست کی زمین کا استحصال نہیں کیا جا سکتا۔چیف جسٹس نے سیکریٹری دفاع کا مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کیا یہ کہہ رہے ہیں کہ کمرشل استعمال دفاعی مقاصد کے لیے ہے تو پھر ڈیفنس کس کو کہتے ہیں؟ آپ خود بھی جنرل رہے ہیں آپ کو تو پتا ہو گا۔

چیف جسٹس نے سیکریٹری دفاع سے سوال کیا کہ اگر یہ غیر قانونی عمارتیں رہیں گی تو باقی کے خلاف کیا کارروائی ہو گی؟ یہ فیصلہ ایک روایت بن جائے گا۔انہوں نے سیکریٹری دفاع کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے فوجی حکام نے زمین خریدی اور بیچ کر چلے گئے۔ پھر یہ زمین 10 ہاتھ آگے بکتی گئی۔ اب آپ کیسے واپس لیں گے؟

بعد ازاں سپریم کورٹ نے سیکریٹری دفاع کی پہلے والی رپورٹ واپس لینے کے حوالے سے درخواست منظور کرتے ہوئے چار ہفتے میں عمل درآمد رپورٹ طلب کر لی ہے۔اس سے قبل کراچی میں ہونے والی گزشتہ سماعت پر عدالت نے سیکریٹری دفاع کو تینوں مسلح افواج کے سربراہوں کے دستخط کے ساتھ رپورٹ اور تجارتی سرگرمیاں ختم کرنے کی پالیسی پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں جاری رہنے والی تین روزہ سماعت کے پہلے روز 24 نومبر کو ڈائریکٹر ملٹری لینڈ کو بھی طلب کیا گیا تھا اور ان سے ڈی ایچ اے اور کنٹونمنٹ کے علاقوں میں تجارتی و رہائشی عمارتیں بنانے کے معاملے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا تھا۔