وزیر اعظم کا سیاسی اور معاشی چیلنج
- تحریر سلمان عابد
- منگل 30 / نومبر / 2021
- 4980
وزیراعظم عمران خان اور ان کی حکومت کا سب سے بڑا چیلنج حزب اختلاف نہیں بلکہ گورننس یعنی حکمرانی کے بحران سمیت معاشی بدحالی یا عملی طور پر مہنگائی کا بڑھتا ہوا چیلنج ہے۔
حکومت کے لیے یہ چیلنج اس لیے بھی کافی اہمیت رکھتا ہے کہ اس نے 2023کے انتخابات میں اس تاثر کی نفی کرنا ہے کہ ان کی حکومت ایک ناکام حکومت تھی۔وگرنہ دوسری صورت میں اسے سیاسی میدان میں معاشی بدحالی یا مہنگائی کے تناظر میں ایک بڑے عوامی ردعمل کے ساتھ اس کی بھاری سیاسی قیمت بھی ادا کرنا پڑسکتی ہے۔حکومتی محاذ کی بڑی ناکامی یہ بھی ہے کہ دو صوبوں پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں ان کی صوبائی حکومت اور وزرائے اعلی بھی اپنی حکومت کا کوئی اچھا تاثر قائم نہیں کرسکے۔حالانکہ 18ویں ترمیم کے بعد صوبائی حکومتیں ماضی کے مقابلے میں زیادہ مالی او رانتظامی طور پر خودمختار ہیں اور اسی بنیاد پر گورننس یا حکمرانی سے جڑے معاملات کی بڑی ذمہ داری یا جوابدہی بھی صوبائی حکومتوں کے دائرہ کار میں آتی ہے۔
2023کے انتخابات میں ایک بڑی سیاسی جنگ پنجاب میں لڑی جانی ہے۔ یہ ہی سیاسی جنگ مستقبل کی حکمرانی کے نظام کا سیاسی تعین بھی کرے گا۔پنجاب جہاں دو بڑی سیاسی جماعتوں میں مقابلہ ہے جن میں پی ٹی آئی او رمسلم لیگ ن نمایاں ہیں۔جبکہ پیپلزپارٹی بھی اس بار کوشش کررہی ہے کہ وہ پنجاب کی سیاست سے کوئی قابل قبول سیاسی حصہ تلاش کرسکے۔ مسلم لیگ ن کی سیاسی طاقت کو بھی پنجاب کی سطح پر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔حکومتی جماعت کی مشکل یہ ہے کہ پنجاب میں ان کے وزیر اعلی عثمان بزدار اپنی حکومت کی کامیابی کا تاثر پیدا کرنے میں بدستور ناکامی کا شکار ہیں۔2022مارچ یا اپریل میں پنجاب میں مقامی حکومتوں کے انتخابات بھی متوقع ہیں او ریہاں پہلی بار میئر یا چیرمین کا براہ راست انتخابات کا طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے جو سیاسی فریقین میں ایک بڑی سیاسی جنگ کا منظرنامہ پیش کرکے ثابت کرے گا کہ کون کس پر سیاسی برتری حاصل کرتا ہے۔یہ ہی جنگ 2023کے انتخابات کی بھی سیاسی جھلک کو نمایاں کرنے میں معاون ثابت ہوگا کہ حکمران جماعت کہاں کھڑی ہے۔
حکومت کی کوشش ہے کہ وہ ملک میں صحت کارڈ، احساس پروگرام، راشن سکیم، نوجوانوں کے لیے قرضہ پروگرام کے ساتھ عام آدمی یا کمزور طبقات کو کسی حد تک معاشی ریلیف دے سکے۔یقینی طور پر ان پروگراموں سے کچھ لوگ استفادہ حاصل کررہے ہیں او رکریں گے بھی مگر ان کیا یہ پروگرام مجموعی طور پر حکومتی کامیابی کا تاثر قائم کرسکے گا۔سیاست میں عمومی طور پر کی بڑی اہمیت ہوتی ہے اور یہ ہی وہ بنیاد ہوتی ہے جس پر رائے عامہ اچھی یا بری حکمرانی کے بارے میں اپنی رائے قائم کرتے ہیں۔اس محاذ پر حکومت کو کافی مشکلات کا سامنا ہے اور بالخصوص بڑے شہروں کی سطح پر بڑھتی ہوئی مہنگائی کا سیاسی دفاع کرنا حکومتی لوگوں کے لیے مشکلات پیدا کررہا ہے۔مہنگائی کی وجہ جہاں عالمی حالات ہوسکتے ہیں وہیں ایک بڑا مسئلہ حکومتی سطح پر معاشی مینجمنٹ، نگرانی، جوابدہی اور شفافیت سے جڑے مسائل ہیں جو اس مسئلہ کا بہتر حل تلاش کرنے میں ناکام ہیں۔
حکومت یا وزیر اعظم عمران خان محض ان ساری خرابیوں یا مشکلات کو سابقہ حکمرانوں پر ڈال کر اپنا سیاسی مقدمہ بہتر نہیں بناسکتے۔ لوگ عملی طور پر یہ پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ ان کی اب تک کی حکومت سے کیا ریلیف ملا ہے او رکیا ایسے اقدامات ہیں جو ہماری زندگیوں میں کوئی بہتری پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ پٹرول، ڈیزل، بجلی، گیس سمیت روزمرہ سے جڑے معاملات میں واقعی لوگ پریشان ہیں اور پوچھتے ہیں کہ تبدیلی کا حقیقی ایجنڈا کہاں ہے۔معاشی محاذ پر حکومتی سطح سے بار بار ٹیم کی تبدیلی اورانتظامی سطح پر بیوروکریسی کی تواتر سے اکھاڑ پچھاڑ بھی کسی جامع پالیسی یا عملدرآمد کے نظام میں رکاوٹ ہے۔شوکت ترین نے خود اعتراف کیا ہے کہ حکومتی سطح پر ہونے والے بعض فیصلوں میں تاخیر نے بھی کچھ بڑے مسائل کو جنم دیا۔ ان کے بقول حکومتی سطح پر جس تیزی سے معاشی فیصلہ سازی کاعمل ہونا چاہیے اس میں ہمیں تاحال مسائل درکار ہیں۔
یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ موجودہ عالمی سیاسی او رمعاشی حالات میں کوئی بھی حکومت پاپولر ایجنڈے کے تحت حکمرانی کے نظام میں انقلاب نہیں لاسکتی اور نہ ہی اس کے کوئی امکانات موجود ہیں۔جمہوری حکمرانی کے نظام میں حکومت اپنے تدبر یا حکمت عملی سے سیاسی،انتظامی او رمعاشی پیچ ورک کرکے نظام کی اصلاح کرنے کی کوشش کرتی ہے۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہاں اصلاحات کا عمل یا پیچ ورک اس حد تک کمزور یا بوسیدہ ہے کہ وہ مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام ہورہا ہے۔ ایسے میں حکومت کے پاس کوئی بڑے انقلابی آپشن موجود نہیں ہوتے۔ یہ جو ہمارا حکمران طبقہ حزب اختلاف کی سیاست میں بڑے بڑے سیاسی نعروں، جذباتی سیاست کی مدد سے سب کچھ کرنے کا دعوی کرتا ہے وہی دعوے ان کی حکمرانی میں ان کا پیچھا کرتے ہیں۔یہ ہی کیفیت عمران خان حکومت کو بھی درپیش ہے جنہوں نے اقتدار میں آنے سے قبل سب کچھ جادوئی عمل سے ٹھیک کرنے کا دعوی کیا تھا۔
حال ہی میں حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان معاہدہ ہوگیا ہے۔شوکت ترین نے یقین دلایا ہے کہ اس معاہدہ کی بنیاد پر کوئی نیا ٹیکس لگایا جائے گا او رنہ ہی بڑھایا جائے گا۔ان کے بقول آنے والے دنوں میں ڈالر بھی نیچے آئے گا او رہم نے آئی ایم ایف کو صاف بتا دیا ہے کہ ہم کوئی نیا ٹیکس نہیں لگائیں گے۔شوکت ترین یہ بھی کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ڈیل کے غریب طبقات پر منفی اثرات ڈالنے کی بجائے اخراجات کو کم کرنے کے لیے مخصوص رعایت کا طریقہ کار اپنایا جائے گا۔اگر ایسا ہوسکا تو یقینی طور پر اس کی پزیرائی بھی کرنا ہوگی۔لیکن ماضی کے تجربات کو سامنے رکھیں تو بظاہر یہ ہی لگتا ہے بڑا بوجھ عام آدمی پر ہی پڑتا ہے۔ اس لیے آئی ایم ایف کے ساتھ جو معاہدہ ہوا ہے اس سے بھی حکومت کے لیے معاشی میدان میں نئے چیلنجز سامنے آسکتے ہیں۔
اس لیے موجودہ صورتحال میں حکومت کا چیلنج کوئی لانگ ٹرم حکمت عملی کے مقابلے میں شارٹ ٹرم اقدامات سے جڑے ہیں۔ کیونکہ لوگوں کو فوری طور پر یہ باور کروانا ہے کہ ہم معاشی محاذ پر عوامی مفاد میں سرگرم ہیں۔ لیکن مسئلہ سرگرم ہونے کا نہیں بلکہ ان کے عملی اقدامات سے جڑا ہوا ہے کہ لوگوں کو واقعی نظر آئے کہ ہمیں ریلیف مل رہا ہے۔خاص طور پر جب تک شہری حلقوں میں حکومتی کامیابی کا تاثر قائم نہیں ہوگا حکومتی مشکلات میں کمی نہیں ہوگی۔کیونکہ حکومت نے ڈیڑھ برس بعد عام انتخابات میں جانا ہے تو اس کے لیے ان کو عوامی مفاد میں ایک بڑے سطح پر ہنگامی آپریشن اور عملی اقدامات درکار ہیں۔ جب ملک کی صورتحال میں غیر معمولی کیفیت ہو تو پھر اقدامات بھی غیر معمولی ہی درکا ر ہیں۔ان ہی معاشی معاملات یا معاشی مینجمنٹ سے جڑے کڑوے فیصلوں کو کرکے ہی وہ سیاسی محاذپر سرگرم ہوسکتے ہیں۔ یہ خبریں بھی سامنے آرہی ہیں کہ وزیر اعظم کو لگتا ہے کہ ان کے مخالفین کے ساتھ ساتھ ان کی اپنی جماعت اور حامی بھی موجودہ صورتحال سے مایوس نظر آتے ہیں۔ اسی بنیاد پر وزیر اعظم نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ کچھ بڑے شہروں میں بڑے عوامی جلسہ کرکے نہ صرف لوگوں کی بڑی تعداد کو متوجہ کریں بلکہ لوگوں کو اعتماد میں بھی لیں۔ وہ اس تاثر کی نفی کرنا چاہتے ہیں کہ لوگ ان کی حکومت یا قیادت سے مایوس ہوگئے ہیں او ران کے بقول وہ اس اقدام سے حزب اختلاف کو بھی دباو میں لاسکتے ہیں۔
وزیر اعظم دفاعی حکمت عملی کے مقابلہ میں جارحانہ حکمت عملی سے کھیلنا چاہتے ہیں او ران کا خیال ہے کہ حزب اختلاف ان کو دباو میں لانے کا جو کھیل کھیلنا چاہتی ہے اس کا جواب دفاعی حکمت عملی یا کمزوری کی بجائے بھرپور انداز میں سیاسی محاذ پر مقابلہ کرنا ہے۔لیکن یہ مقابلہ بھی اسی صورت میں کارگر ہوسکتا ہے جب وہ معاشی میدان میں کچھ ایسے فیصلے کریں جو واقعی عام آدمی کی زندگی میں کچھ بہتری کے امکانات کو پیدا کرسکے او راس کہ لیے ان کو کچھ بڑے کڑوے فیصلہ کرکے طاقت ور طبقا ت کے مقابلے میں عام آدمی کو قابل قبول ریلیف دینا ہوگا۔