اتنا اندھیرا کیوں ہے بھائی؟
- تحریر افضال ریحان
- بدھ 01 / دسمبر / 2021
- 7030
جن دنوں ایک جج کی بحالی کیلئے وکلا تحریک چل رہی تھی، سابق وزیرداخلہ کے ساتھ جاتی عمرہ جانے کا اتفاق ہوا۔ میاں صاحب آنے والے معزز مہمانوں کا اپنی رہائش گاہ کے باہر استقبال کر رہے تھے۔
ہم بھی ان کے دائیں بائیں کھڑے ہو گئے، مہمانوں کی گاڑیاں تھوڑے وقفے سے آ رہی تھیں۔ ایک بڑی گاڑی آتی دکھائی دی جس کو ڈرائیو بیرسٹر صاحب کر رہے تھے اور ساتھ والی سیٹ پر بلوچ کرد وکیل براجمان تھے۔ نواز شریف اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ڈرائیونگ سیٹ والی سائیڈ پر کھڑے تھے کہ اچانک نگاہ پڑتے ہی وہ دوسری سائیڈ پر چلے گئے، تب تک بیرسٹر صاحب یوں نواز مخالف ہونے کی اوپن پہچان نہیں رکھتے تھے، اس لیے درویش کو حیرت ہوئی کہ میاں صاحب نے اچانک یوں رخ کیوں بدلا ہے؟ اندر کی بات کیا ہے؟ وکلا تحریک میں بیرسٹر صاحب کی جو حیثیت تھی، ہٹائے گئے چیف جج کے وہ جتنے قریب تھے بلوچی کرد کی وہ حیثیت تو نہ تھی۔ ویسے بھی پروٹوکول کے لحاظ سے کرد کی حیثیت سیکنڈ ہی کہی جا سکتی تھی۔ سوئی تا دیر اس بات پر اٹکی رہی کہ اندر کی وجہ کیا ہے؟
بعد ازاں ساری اصلیت سب کے سامنے آ گئی۔ جسے دونوں فاضل وکلا کے پیہم سامنے آنے والے طرز عمل ہی نہیں، بیانات سے بھی ملاحظہ کیا جا سکتا تھا۔ ایک طرف وہ صاحب تھے جنہوں نےمیاں صاحب کے خلاف منافرت پھیلانے کا کبھی کوئی موقع جانے نہیں دیا۔ بات بنے نہ بنے انہوں نے بغض معاویہ میں کوڑیاں دور دور سے ڈھونڈھ کر لانی ہوتی ہیں۔ چاہے انہیں اپنے ممدوح کی طرح جاپان اور جرمنی کا جغرافیہ ملانا ہی کیوں نہ پڑے۔ محبت کی طرح نفرت کی بھی شاید کوئی حدود ہوتی ہوں گی مگر ہمارے دوست نے ’’جٹ کے ویر‘‘ کی طرح قسم کھا رکھی ہے کہ وہ اپنی زندگی کے اس آخری مشن میں آسمان و زمین کے قلابے ملانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔
کلبھوشن یادیو کا نام ہمارے میڈیا میں خوب گونجتا رہتا ہے جسے انڈین جاسوس بتلایا جاتا ہے مگر حال ہی میں ہماری حکومت نے اسے قانونی امداد تک رسائی کیلئے پارلیمنٹ میں خصوصی قانون سازی کروائی ہے، جسے اپوزیشن بہت برے بلکہ منفی اسلوب میں بیان کرتے نہیں تھکتی۔ حالانکہ حکومت کے کسی درست کام کی تحسین بھی کی جانی چاہیے۔ جتنی بھی قانون سازی ہوئی ہے، ای وی ایم کی ووٹنگ سے لے کر پارلیمانی مباحث کی دھجیاں اڑانے تک، آپ جتنے چاہیں تنقیدی نشتر چلا لیں مگر وسیع تر قومی مفاد میں خطے میں منافرتیں کم کرنے کے لئے اگر انہوں نے یہ چھوٹا سا مثبت قدم اٹھایا ہے تو اس پر شور شرابے کی کیا ضرورت تھی۔ مگر حیرت ہے اس زبان کے گنگ ہونے پر جو کبھی ببانگ دہل منافرت کی آخری سیڑھی تک گونجتی تھی، ’نواز شریف اس شخص کا صرف نام ہی اپنی زبان سے لے لے‘ تو میں یہ کردوں گا وہ کر دوں گا۔ ایسی منافرت بھری ذہنیت پر اب چھوٹے پن کے علاوہ کیا الفاظ استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
دوسری جانب عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں دوسرے فاضل دوست نے آمریت کی مخالفت اورجمہوریت کی والہانہ حمایت میں وہ تقریر کر ڈالی ہے کہ منصفین اول انعام کا حقدار اس مقرر کو قرار دیں یا تین مرتبہ منتخب ہونے والے لیڈر کو۔ جس کے خطاب کو روکنے کیلئے اتنی پریشانی تھی کہ ہوٹل میں انٹرنیٹ کو روکنے کے لئے تاریں کاٹنے سے لے کر کون سا حربہ ہے جو استعمال نہیں کیا گیا۔ مگر سینے کی جلن ٹھنڈی نہیں ہو رہی۔ تازہ ارشاد ہے کہ ’ججز کے سامنے ایک سزا یافتہ کو چیف گیسٹ بنانا، پیغام ہے کہ ڈاکہ مارنا ہے تو بڑا مارو‘۔ اپنے منہ میاں مٹھو، مہاتما یا پارسائی کا خود ساختہ دعویٰ اٹھائے کہہ دینا کہ ’ہمارے ہاں کرپشن بری نہیں سمجھی جاتی‘، اسی لئے تو اپنے قریبیوں کو چھوٹ دے رکھی ہے کہ چار دن کا میلہ ہے بہتی گنگا سے خوب اشنان کر لو، مگر دعویٰ ہے کہ ’خدا نے مجھے شہرت، پیسہ اور سب کچھ دیا، میں سیاست میں تبدیلی لانے کے لئے آیا……‘ مگر ٹھس ہوگیا۔
اس پر کئی دل جلے یہ کہتے ہیں کہ شہرت تو دی ہے، مگر صلاحیت نہیں دی۔ اگر صلاحیت اور انسانیت دی ہوتی تو یوں پوری دنیا میں جگ ہنسائی نہ ہوتی۔ مانگنے مانگنے کے نعرے نہ لگتے۔ حالت یہ ہے کہ ہمارا اتنا مہربان ملک جس کی پون صدی پر مبنی محبت بھری نوازشات کی تاریخ ہے۔ آج وہ بھی ہمارے ساتھ بھکاریوں جیسا سلوک کر رہا ہے تو اس کا کریڈٹ کس کو جاتاہے؟ خدا نے بہت پیسہ دیا ہے لیکن بغیر کسی ذریعہ آمدن یا پروفیشن کے؟ اس طرح جو پیسہ آتا ہے قوم اس پر ضرور سوال اٹھاتی ہے کہ اے ٹی ایم مشین کون سی تھی کس کس مافیا کو فائدے پہنچا کر جہاز اڑائے جاتے رہے ہیں۔ مفت خوری کی عادت پڑ جائے تو بہت سے پیسے کے باوجود انسان کی عزت نہیں رہتی مگر یہ بات لوگوں کو کون سمجھائے کہ محض سلائی مشینوں سے اربوں نہیں کمائے جا سکتے۔ صدقات کی رقوم جوئے میں لگانے اور ہرانے والے کو کوئی بھی باضمیر انسان عزت سے نہیں دیکھ سکتا۔
بات ہو رہی تھی عاصمہ جہانگیر کانفرنس کی، جس کے منتظمین کا استدلال ہے کہ قانونی برادری کے بڑے حصے کی نظر میں نواز شریف کو دی جانے والی سزا کے مقاصد سیاسی تھے۔ انہیں ضروری قانونی مواقع بھی فراہم نہیں کئے گئے۔ پرویز مشرف جیسے عدالتی اشتہاری کے انٹرویوز ٹی وی پر چلنے دیے گئے۔ موجودہ حکومت میں صورتحال یہ ہو چکی ہے کہ پاکستان آزادی اظہار کے حوالے سے 180 ملکوں میں 145 ویں نمبر تک گر چکا ہے۔ دوسری طرف عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے فاضل قانون دان علی احمد کرد کا استدلال تھا کہ اگر ہماری عدالتیں انصاف فراہم کر رہی ہیں تو پاکستان عالمی برادری میں اس حوالے سے گر کر آج 134ویں نمبر پرکیسے آ چکا ہے؟ اس پر ایک بڑے سٹنگ جج نے کئی حوالوں سے کرد کے خیالات کی تحسین کی تو اس سے بڑے جج نے جی بھر کے تنقید بھی کی اور کہا کہ ہماری عدالتیں اپنے فیصلوں میں پوری طرح آزاد ہیں۔ یوں اس کانفرنس کا خوبصورت ترین پہلو عدالتی و صحافتی حلقوں کے سامنے آیا کہ یہاں سب کو اپنی بات کہنے کا حق ہے۔ اگر تنقید کرنا حق ہے تو تنقید سننا فرض ہے۔
آخر وہ بھی تو اعلیٰ عدلیہ کا جج ہی تھا جس نے وکلا برادری اور میڈیا کے سامنے کھلے بندوں، اندر کے سارے پریشرز اور تلخ حقائق سینہ کھول کر سامنے رکھ دیے تھے جس کی پاداش میں اسے نہ صرف یہ کہ اس معزز عہدے سے جبری سبکدوش کر دیا گیا بلکہ نشانِ عبرت بنانے کے لئے طرح طرح کے ہتھکنڈے اپنائے گئے۔ وہ بھی تو سپریم جوڈیشری کا معزز جج ہی تھا جس نے سازشی دھرنے کروانے والوں کی اصلیت ہی نہیں کھولی تھی، انہیں تنبیہ بھی کی تھی کہ اوچھی حرکات سے باز آ جائیں۔ دوسری طرف بابا رحمتا جیسے ڈیم پر نام نہاد جھگی ڈالنے والے بھی تو اس عہدے پرفائز رہے جن کا کچا چھٹہ اب سامنے نہیں آ رہا۔ جاننے والوں سے تب بھی کچھ پوشیدہ نہ تھا، آج پوچھا جا رہا ہے کہ ’’اصل آڈیو کہاں ہے؟ آڈیو ریکارڈ کرنے والوں نے ریلیز کی یا امریکا میں بیٹھے کسی آدمی نے؟ ایسی ریکارڈنگ کی صلاحیت کس کے پاس تھی؟‘‘
یہاں انصاف اور قانون کے نام پر کیسے کیسے کھلواڑ ہوتے رہے۔ چور چور ڈاکو ڈاکو کھیلنے والوں کو بھی جواب دینا ہو گا کہ آئین اور جمہوریت پر ڈکیتی سے بھی بڑی کیا کوئی واردات ہو سکتی ہے؟ کلبوشن کلبھوشن کھیلنے والی چاتر چھری جیسی زبانیں اس پر کیوں گنگ ہیں؟ یہاں چوہے بلی کا کھیل آخر کب تک کھیلا جاتا رہے گا؟ بائیس کروڑ عوام اگر اقتدار کا منبع و سرچشمہ ہیں تو پھر وہ کون ہیں جو ان بائیس کروڑ کو جہنم میں دھکیل کر بالفعل خود مقتدر اور بادشاہ گر بنے بیٹھے ہیں؟
آخر ہماری قسمت میں ایسی نارمل ریاست بننا کیوں نہیں لکھا جس میں بائیس کروڑ عوام اپنی تقدیر کے آپ مالک ہوں، جہاں آئین پارلیمنٹ، جمہوریت، انسانی حقوق اور آزادی اظہار کا بول بالا ہو۔ وہ وقت کب آئے گا جب گھٹاٹوپ اندھیرے کافور ہوں۔