بھارت طالبان کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے پر غور کر رہا ہے

  • جمعرات 02 / دسمبر / 2021
  • 5430

افغانستان میں رواں برس اگست میں طالبان کے کنٹرول کے تین ماہ گزرنے کے بعد اطلاعات کے مطابق بھارت نے طالبان حکومت کے ساتھ سفارتی روابط قائم کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔

بھارتی اخبار 'دی ہندو' کی رپورٹ کے مطابق موجودہ صورتِ حال کے پشِ نظر بھارتی حکام کابل میں سفارت خانہ دوبارہ کھولنے پر سوچ بچار کر رہے ہیں۔ اس وقت کابل میں پاکستان، روس، چین، ایران، قطر، ترکی، ترکمانستان او ازبکستان کے سفارت خانے کام کر رہے ہیں جب کہ حال ہی میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارت نے بھی اپنی سفارتی سرگرمیاں دوبارہ سے بحال کر دی ہیں۔

طالبان نے دیگر ممالک کے ساتھ بھی اس حوالے سے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ بدھ کو افغانستان میں طالبان حکومت کے وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کی قیادت میں ایک اعلٰی سطحی وفد نے دوحہ میں 16 ممالک کے نمائندوں سے ملاقات بھی کی تھی۔

طالبان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی کے مطابق اس اجلاس میں شریک جرمنی، کینیڈا، فن لینڈ، نیوزی لینڈ، اٹلی، جنوبی کوریا، اسپین، یورپی یونین کمیشن، امریکہ، ناروے ، سوئیڈن، نیدرلینڈز، آسٹریلیا، برطانیہ اور جاپان کے نمائندوں کو افغانستان میں دوبارہ سے اپنے سفارت خانے کھولنے اور مکمل سیکیورٹی کی یاد دہانی کرائی گئی ہے۔

یاد رہے کہ طالبان کے گزشتہ دورِ حکومت (1996-2001) میں بھارت نے طالبان کے ساتھ اپنے تمام تر تعلقات منقطع کرتے ہوئے اپنا سفارت خانہ مکمل طور پر بند کر دیا تھا۔ اس مرتبہ بھی طالبان کے دوبارہ برسرِاقتدار آنے کے بعد بھارت نے کابل میں اپنا سفارت خانہ اور قونصلیٹ بند کر دیے تھے۔

راکیش سود 2005 سے 2008 تک افغانستان میں بھارت کے سفیر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 15 اگست کو طالبان کے کنٹرول کے بعد صورتِ حال کافی پیچیدہ ہو گئی تھی اس لیے بھارت کے لیے اپنا سفارت خانہ اور قونصل خانے بند کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ 20 برسوں کے دوران افغانستان کی نوجوان نسل بھارتی فلموں اور ڈراموں کی وجہ سے ہندی زبان سے بھی کافی حد تک آشنا ہو گئی ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ ملک کے شمال سے تعلق رکھنے والے افراد جن کو پشتو زبان پر عبور حاصل نہیں ہے وہ بھی ہندی میں بات کر سکتے ہیں۔

افغانستان کے تمام کیبل نیٹ ورکس پر 10 سے زائد چینلز پر بھارتی فلمیں، ڈرامے اور کھیلوں کی نشریات پیش کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں افغان باشندے اسکالر شپ پر بھارت میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

افغان عوام افغانستان میں بھارتی سفارت کاری کا خیر مقدم کریں گے اور چاہیں گے کہ بھارت افغانستان کی ترقی میں اپنا فعال کردار جاری رکھے۔