دیدار بستوی کی شعری تصنیف ’پرندہ ہے کہ اڑتا جا رہا ہے‘

تما م مسائل اور بے شمار اتھل پتھل سے جوجھتے ہوئے وقت کے دھارے نے جب آئیدہ کے دروازے پر دستک دی تو قدرتی طور پر کئی خوشگوار معاملات بھی بیدار ہو کر نئی صدی کا استقبال کرنے لگے۔ نئی نئی ایجادات اور نئی نئی جہتیں کھل کر سامنے آئیں۔ فور جی  موبائل سروس کے عام ہونے کے بعد واٹس اپ   نے سماج کے اندر ایک نئے انقلاب کو جنم دیا۔

 اس روشنی کی رفتار نے بہت سی پریشانیاں بھی پیدا کیں، تاہم کسی بھی ایجادات کے مثبت پہلو سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اس تکنیک کے شروع کے ایام میں تو اردو سے اس کا تعلق کم کم بلکہ بہت ہی کم رہا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اردو اور تکنیک نے بھی ایک دوسرے کا دامن تھام لیا۔ اس کا نتیجہ آپ سب کے سامنے ہے۔ عوامی ذرائع ابلاغ کے سہارے بہت سے ایسے قابل قدر لوگ سامنے آئے جو پہلے بہت ہی کم نظر آتے تھے۔ عزیزم دیدار بستوی سے میری ملاقات بھی اسی ذریعہ سے ہوئی تھی۔    "پرندہ ہے کہ اڑتا جا رہا ہے"آپ کا شعری مجموعہ ہے۔

۲۵۱صفحہ پر مشتمل شعری مجموعہ  "پرندہ ہے کہ اڑتا جا رہا ہے"  جو 2013  میں شائع ہوا ہے۔ کتاب ہذا میں شامل انتخاب شاعری میری نظر میں ایک ایسے تجربے کار شاعر کے فکر کا وہ عکس ہے جو آج کل کے نوجوانوں میں بہت کم کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ مصرعے نہایت ہی چست اور فکر لاجواب ہے۔ اس لئے عزیزم دیدار بستوی کی شاعری اپنے قارئین سے داد حاصل کرنے میں کامیاب ہے۔ متذکرہ کتاب نہایت ہی خوب صورتی سے شائع کی گئی ہے جس میں ایک نعت اور ایکاون غزلیں شامل ہیں۔آ یئے اس کتاب سے چند اشعار کا مشاہدہ کیا جائے:

فضا میں تیر چھوڑے جا رہے ہیں               

پرندہ ہے کہ اڑتا جا رہا ہے

ہو چکی باتیں محبت کی بہت سی فون پر               

اب چلو کچھ دیر سو جائیں سحر ہونے کو ہے

میں اس کے حکم کو مانوں یہ مشورہ ہے مجھے              

امیر شہر نے کس خانے میں رکھا ہے مجھے

بخیلی جب کسی کے ذہن میں گھر کرنے لگتی ہے          

پرندے شاخ سے چھت پر اترنا چھوڑ دیتے ہیں

زندگی کے ٹیڑھے میڑھے راستوں کا رنج کیا             

تم جو میرے ساتھ ہو تو حادثوں کا رنج کیا

گلوں کا رنگ بلبل کی نزاکت دیکھ لی میں نے           

تری تصویر کیا دیکھی قیامت دیکھ لی میں نے

مسکراہٹ تھی ابھی آپ کے رخ پر لیکن                   

کون سی فکر نے پیشانی پہ بل ڈال دیا   

 اشعار ہر لحاظ سے بہتر ہیں جب کہ، بھرپور اور طویل مضمون کے طور پر محترم پدم شری بیکل اتساہی، محترم پروفیسر ملک زادہ منظور احمد، محتر م پروفیسر علی احمد فاطمی، 

محترم ڈاکٹر بشیر بدر، محترم منور رانا، محترم ڈاکٹر محمد رضی الرحمان (گورکھ پور یونیورسیٹی)،محترم ڈاکٹر شکیل احمد معین، محترمہ ڈاکٹر زیبا محمود، محترم پروفیسر انجم عرفانی، محترم عشرت ظفر، محترم ڈاکٹر تشنہ عالمی، ڈاکٹر قمر رئیس، محترم ڈاکٹر رضوان الرضا رضوان (علیگ) کے خیالات و افکار کو شامل کیا گیا ہے۔ اس فہرست پر نظر پڑتی ہے تو یہ سب مہابھارت میں حستینا پور کے مہارتھی کی طرح ویراٹ کے جنگ میں دیکھائی دیتے ہیں۔ فن شاعری کی تعریف میں سب نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار مثبت طریقے سے کیا ہے۔ عزیزم دیدار بستوی کے ساتھ میں خود بھی کئی محفل مشاعرہ میں شامل رہا ہوں۔ آپ کی شاعری قابل توجہ اور پڑھنے کا انداز بھی بہت مناسب ہے۔

 ان سب معاملات کے باوجود میں یہ کہیں سے نہیں پاتا ہوں کہ عزیزم دیدار بستوی کی شاعرانہ عظمت اور ادبی دبدبہ اس طرح قائم ہوئی جیسا کہ ہو جانا چاہئے تھا۔ یہ باتیں میں اس لئے کہہ رہا ہوں، کیوں کہ میرے دل میں اس کی کسک ہے۔ برادرم دیدار بستوی سے احترام کا دوستانہ رشتہ ہے۔ آپ نے میرے اعزاز میں معتبر شعرا کی طویل فہرست کے ساتھ گورکھپور میں 2019میں ایک بڑا مشاعرہ بھی منعقد کیا تھا، جس کی صدارت محترم ڈاکٹر کلیم قیصر صاحب نے فرمائی تھی۔ ان تمام معاملات کو دیکھنے سے ا یسا لگتا ہے کہ برادرم دیدار بستوی سے کہیں نہ کہیں کوئی ایسی ادبی چوک ہوئی ہے،جس نے آپ کی شخصیت کو اس طرح پنپنے نہیں دیا، جس کا میں متمنی ہوں۔ ایک دوست ہونے کے  ناتے میں مشورہ دے سکتا ہوں کہ برادرم دیدار بستوی کو اس کی جانچ کر کے اپنی سمت کو درست کرنا جاہئے۔ ملاحظہ فرمائیں ڈاکٹر شکیل احمد معین صاحب اور ڈاکٹر زیبا محمود صاحبہ کی تحریر سے اقتباسات

جب وہی شاعر غزل جیسی نازک جیسی نازک صنف سخن پر طبع آزمائی کرتا ہے تو اس کے نوک قلم سے ایسے ایسے اشعار نکلتے ہیں کہ جو بڑے بڑوں کو  حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔ دیدار بستوی عہد حاصر کے ایک ایسے شاعر ہیں جنہوں نے لفظوں کی ساخت سے کھیلا نہیں بلکہ مشاہدے اور تجربے کی کسوٹی پر برتا ہے۔ آنے والے کل میں اردو شاعری دیدار بستوی کے شعری اثاثہ پر ناز کر سکتی ہے  "    (ڈاکٹر شکیل احمد معین، کتاب ہذا کے  پلیپ سے اقتساب) 

’ منفرد لب و لہجہ سے مزین دیدار بستوی کا شعری مجموعہ  "پرندہ ہے کہ اڑتا جا رہا ہے’   ایک ایسا کارنامہ ہے جس میں انہوں نے راست گفتاری کے آداب  کو ملحوظ نظر رکھا ہے جو اردو شعری سرمایہ میں گراں قدر اضافہ کی حیثیت رکھا ہے۔ آپ کی قوت فکر پر زور پرواز تخیل کا غماز ہے جو قاری کے ذہن کے دریچوں کو کھولنے پر آمادہ کرتے ہیں۔ آپ کے شعری افکار، نظریات، شعر و ادراک اردو افق پہ نئے منظر پیش کرتے ہیں۔آپ کے فن پاروں کی زبانشستہ و رفتہ ہے اور آپ خیال کی طرفگی سے لبریز جوہر پارے کو شاعری کے قالب میں ڈھالنے کی کوشش میں کامیاب ہیں۔ لے،نوا اور صدا کی خوبصورت آمیزش سے آشکار آپ کا شعری سفر جدت طبع سے آراستہ و پیراستہ ہے۔ مجھے امید ہے کہ اردوداں طبقہ اور ذوق شناسان ادب آپ کی کاوش کو اپنی آنکھوں کا سرمہ بنائیں گے"  (ڈاکٹر زیبا محمود،  کتاب ہذا کے  پلیپ سے)