سیالکوٹ: ہجوم کا سری لنکن شہری پر بہیمانہ تشدد، قتل کرنے کے بعد آگ لگادی
- جمعہ 03 / دسمبر / 2021
- 4760
سیالکوٹ میں مشتعل ہجوم نے ایک شخص کو بہیمانہ تشدد کرکے قتل کرنے کے بعد اس کی لاش نذرِ آتش کردی۔ صورتحال کو قابو میں کرنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری علاقے میں روانہ کردی گئی ہے۔
واقعہ سیالکوٹ کے وزیرآباد روڈ پر پیش آیا جہاں مبینہ طور پر نجی فیکٹریوں کے ورکرز نے ایک فیکٹری کے ایکسپورٹ مینیجر پر حملہ کر کے اسے قتل کیا اور اس کے بعد آگ لگادی۔ سیالکوٹ کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) عمر سعید ملک نے بتایا ہے کہ مقتول شخص کی شناخت پریانتھ کمارا کے نام سے ہوئی جو سری لنکن شہری تھا۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ جائے وقوع پر سینکڑوں افراد موجود ہیں جبکہ کچھ ویڈیوز میں ہجوم کو نعرے بازی کرتے ہوئے بھی سنا جاسکتا ہے۔ جائے وقوع پر جلتی ہوئے نعش کے ارد گرد زیادہ تر افراد اپنے موبائل فون پر ویڈیوز بناتے ہوئے نظر آئے۔
وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے قتل کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اسے ’انتہائی افسوسناک واقعہ‘ قرار دیا ہے۔ سیالکوٹ پولیس کے ترجمان نے کہا کہ ابتدائی تفتیش کے بعد تفصیلات میڈیا کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔ وزیراعلیٰ نے انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی) پنجاب سے رپورٹ طلب کرلی اور واقعے کی اعلیٰ سطح کی تفتیش کا حکم دیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کی جائے۔ قانون ہاتھ میں لینے والے عناصر کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کی جائے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، حکومت قانون شکن عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کرے گی۔
دوسری جانب انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب راؤ سردار علی خان نے بھی واقعے کا نوٹس لے کر ریجنل پولیس افسر (آر پی او) گوجرانوالہ کو موقع پر پہنچنے کی ہدایت کی۔ آئی جی کا کہنا تھا کہ ’ڈی پی او سیالکوٹ جائے وقوع پر موجود ہیں اور واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جانی چاہیے‘۔
خبروں کے مطباق بہیمانہ قتل کا یہ واقعہ مقتول کے بارے میں توہین قرآن کی افواہیں عام ہونے کے بعد پیش آیا۔ اطلاعات کے مطابق مقتول نے کچھ کاغذات تلف کئے تھتے جن میں مبینہ طور پر کچھ پر عربی الفاظ لکھے تھے۔ ان معلومات کی بنیاد پر ہجوم کو مشتعل کیا گیا۔