لبرل اپروچ اور آزادیٔ اظہار کا تقاضا؟

کچھ الفاظ یا فقرے لوگ لکھتے پڑھتے ضرور ہیں لیکن ان کی معنویت پر غور کم ہی کرتے ہیں۔ جیسے کہ ’’تاریخ کا پہیہ الٹا نہیں گھمایا جا سکتا‘‘ یا یہ کہ ’’فوت شدگان کا یہ حق نہیں ہے کہ وہ زندوں پر حکومت کریں‘‘۔

اپنے عقائد و نظریات ہر انسان کو عزیز ہوتے ہیں، تاوقتیکہ ذہنی آبیاری یا شعوری بیداری سے یہ تبدیل نہ ہو جائیں۔ قدیم زمانوں میں عقائد یا نظریات کی بنیاد پر ہولناک جنگیں روا رکھی جاتی تھیں، جو بہتر حکمت عملی، جوش و جذبے اورتیاری سے لڑتا تھا وہ غالب آ جاتا تھا۔ جو سستی و کوتاہی کا مظاہرہ کرتا، وہ مارا جاتا، اور نام اس کو ہمیشہ حق و باطل کا دیا جاتا۔ آخری جیت حاصل کرنے والا ہمیشہ حق اورشکست سے دوچار ہونے والا باطل قرار پاتا۔ اصلیت کیا تھی اس کی بحیثں مابعد صدیوں چلتی رہیں بلکہ ہنوز چل رہی ہیں۔ ہیروز اور ولن کے فیصلے بھی باقیات کی افرادی قوت پروپیگنڈے کے بہتر ابلاغ یا اثر آفرینی پر منحصر رہے ہیں۔

انسان بچے سے جوان ہوتا ہے اور پھر بوڑھا، اس تبدیلی سے ہر انسان ہر آن گزرتاہے مگر بظاہر کسی ایک یا مخصوص لمحہ موجود کا جائزہ لے تو وہ اس کا احساس و ادراک نہیں کر پاتا۔ اسی طرح انسانوں کا اجتماعی شعور ہر لمحہ حاضر کے ساتھ بڑھوتری کی طرف گامزن ہے لیکن اگر کوئی کسی ایک دن، ماہ یا سال میں اس کو ماپنا چاہے تو اسے اس کا کوئی پیمانہ نہیں ملے گا۔ تعلیم کی روشنی میں بھی جائزہ لیں گے تو لازم نہیں کہ جسے آپ بظاہر پڑھا لکھا سمجھ رہے ہیں۔ اس کے اندر شعور بھی ہو یا جسے آپ ان پڑھ کہتے ہیں وہ جاہل مطلق ہی ہو۔ درویش کو زندگی میں بڑے پڑھے لکھوں اور عالموں سے ملنے کا اتفاق ہوا ہے جن کے نالج، دانشوری و ناموری کے کتبے، قصے، ڈگریوں اور کتابوں کے پلندے شاید کوئی تگڑا گدھا بھی اٹھانے سے قاصر ہو لیکن شعور و دانائی یا معرفت و گیان سے اتنے فارغ کہ مت پوچھئے۔

ہمارے روایتی علما بالعموم قدامت پرست ہوتے ہیں۔ عصر حاضر کی علمی ، تہذیبی یاشعوری ترقی میں تو ہر پل کیڑے نکالتے یا ڈالتے پائے جائیں گے لیکن عہد ماضی کو ایسا آئیڈیل اور تابناک بنا کر پیش فرمائیں گے کہ اچھا بھلا انسان بھی چاہنے لگے گا کہ ’’دور پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو‘‘۔ ان لوگوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ عصر حاضر کی خوبیوں کو بھی خامیاں بنا کر پیش کرنے میں آزاد ہیں، تنقید کے نام پر جتنا چاہیں گند گھولیں کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں لیکن جسے یہ عہد درخشاں قرار دیتے ہوئے آئیڈیلائز کر رہے ہوتے ہیں، دن رات اس کی خوشنمائی کے قصے بیان کرتے زمین و آسمان کے قلابے ملاتے ہیں۔ مجال ہے جو اس مسکین سادھو یا درویش کو قلم ا ٹھانے یا زبان ہلانے کی اجازت بھی دیں۔ فتویٰ کفر و فسق تو رہا ایک طرف، مسئلہ یہ ہے کہ جب تک واجب القتل قرار نہیں دے لیں گے بلکہ اس پر عملدرآمد نہیں کروا لیں گے، ان قابل صد احترام عالمان یا طالبان کی تسلی و تشفی نہیں ہو گی۔

مثال کے طور پر ایک بڑے عالم ہیں جن کا ٹارگٹ نامور یا اثر و رسوخ والے لوگ ہوتے ہیں، منہ سے غریب غربا کا ورد ضرور کریں گے لیکن کسی غریب سے مصافحہ کرتے ہوئے ان کے ہاتھ میلے ہو جائیں گے۔ دولت کو بھی وہ چونکہ ہاتھوں کی میل سمجھتے ہیں اس لئے صدقات و خیرات پر وعظ کریں گے۔ کسی غریب کی عزت نفس بھی ہوتی ہے ان کی بلا سے ، جس نے ساری زندگی پڑھا ہی یہ ہو کہ آقا اور غلام، مالک اور نوکر اس بیچارے کی سوچ بھی یہیں تک محدود ہو گی۔ نوکر آیا، نوکرانی چل پڑی۔ بھائی آپ ملازم یا ورکر بھی کہہ سکتے ہیں، کوئی نامور اداکار ملے یا کرکٹر موصوف کی باچھیں کھل جائیں گی۔ اگر ملاقات کسی جرنیل یا اس کے بٹھائے حکمران سے ہوتی ہے تو تیاری میں خضاب کی شیشیاں ختم ہو جائیں گی، پھر مولا کے سامنے ان کے لئے اتنا گڑگڑائیں گے کہ گویا کسی ڈرامے کی ریہرسل یا منظر کشی ہو رہی ہے۔

ایک وزیراعلیٰ کی رہائش گاہ پر آہ و زاری پر مبنی موصوف کا بیان سنا جس میں تابناک ماضی کی کرنیں بکھیرتے ہوئے عصر حاضر کی نام نہاد شعوری ترقی اور مغربی تہذیب کی اخلاقی تنزلی میں وہ وہ کیڑے ڈالے کہ الحفیظ و الامان۔ مابعد جب حضرت رخصت ہونے لگے تو قریب ہو کہ کان میں عرض کی حضور مغربی تہذیب میں انسان نوازی پر مبنی کچھ خوبیاں بھی ہیں، یکطرفہ پروپیگنڈے کی بجائے کم از کم کچھ توازن پیدا کرنے کے لئے ہی اگر کبھی ان پربھی ارشاد ہو جائے تو کیا مضائقہ ہے؟ فوراً بولے ان کے لئے آپ جو موجود ہیں۔ عرض کی وہ تو ہوں مگر آپ کا کام کیا صرف اقوام دیگر کے خلاف منافرت پھیلانا ہے۔

مسئلہ صرف ایک حضرت کا نہیں ہے۔ یہاں ایسے حضرات کی لائنیں لگی ہوئی ہیں جن کی نظروں میں سوائے ان کے ساری دنیا گمراہ ہے، انسانی اخلاقیات سے تہی دامن ہے۔ نیکی اور بھلائی کے علمبردار صرف ہمی ہیں۔ اس منفی پروپیگنڈے کی وجہ سے ہمارے سماج میں مسلم و نان مسلم کی تفریق و خلیج شدید ہے، یہاں ہر ایشو نان ایشو کو مخصوص مذہبی تفاوت و منافرت کی عینکوں سے دیکھا جاتا ہے۔ اہل مغرب کیااہل عرب بھی ہماری اس جنونیت سے حیران و پریشان بلکہ نالاں ہیں۔ جسے شک ہے وہ سیالکوٹ کے حالیہ سانحہ کا مشاہدہ کر لے جو اپنی نوعیت کا پہلا یا آخری نہیں ہے۔

اقوام عالم میں ہماری پہچان شدت پسندی یا دہشت گردی کے حوالے سے ہے۔ ہمارے سبز پاسپورٹ کی دنیا میں جو عزت ہے اس کا ادراک ہر اس پاکستانی کو ہوگا جس کا باہر آنا جانا رہتا ہے۔ کیا ہمیں یہ مان نہیں لینا چاہیے کہ ہمارا ماضی جتنا بھی تابناک تھا وہ محض عہد جاہلیہ میں ممکن تھا جب بھینس اسی کی قرار پاتی تھی جس کے پاس لٹھ ہوتی تھی۔ ہم نے جتنی عظمت دیکھنی تھی وہ اوقات و اوصاف سے بڑھ کر دیکھ چکے ۔ ’’تلک الایام قدخلت‘‘ عصر حاضر کی شعوری و علمی ترقی میں جبر کے اوچھے ہتھکنڈے نہیں چل سکتے۔ آج کی دنیا میں قبضہ گیری کی جنگیں، لوٹ مار یا انسانوں کو لونڈیاں اور غلام بنانے کا وتیرہ ناممکن ہے۔ آج کی دنیا عزت دو عزت لو یا جیو اورجینے دو کو بطور ایک قدر یا اصول مانتی ہے، مسابقت کی اس فضامیں سیاسی، سماجی یا مذہبی جبر نہیں انسانی حقوق اورآزادیء افکار و اظہار کو جگہ دینی ہو گی۔ تاریخ کا پہیہ الٹا نہیں گھمایا جا سکتا۔