آتش بدہن مولوی، آتش بدست ہجوم
- تحریر شازار جیلانی
- جمعہ 03 / دسمبر / 2021
- 5940
نہ اقبال نے کبھی کہا کہ ترکھانوں کا منڈا کام کر گیا اور ہم دیکھتے رہ گئے اور نہ ترکھانوں کے لڑکے یعنی علم الدین نے عدالت میں راجپال کے قتل کا اعتراف کیا۔ نہ کبھی اس پر فخر کیا۔
یہ تو بعد کے افسانہ طرازوں نے ہمارے لئے علم الدین کو راجپال کے قتل پر فخر کرنے والا غازی اور علامہ اقبال کو افسوس کرنے والا عاشق رسول تراشے۔ علامہ اقبال نے تو علم الدین کے کیس سے الٹا سیاسی فائدہ اٹھایا تھا۔ علم الدین کا کیس سیاسی تھا نہ بابائے قوم وکیل کی حیثیت سے فوجداری مقدمات کے ماہر سمجھے جاتے تھے، لیکن پنجاب میں مسلم لیگ اور مسلمانوں کے درمیان جناح صاحب کے لئے شہرت کمانے کی خاطر اقبال نے قتل کے اس کیس کے لئے بابائے قوم کی خدمات حاصل کیں۔
نبی ﷺ سے عقیدت اور محبت مسلمان کے فطری جذبات ہیں۔ نبی ﷺ کے نام پر معاف کرنا نبی صلی اللہ علیہ کے نام پر قتل کرنے سے ہزار درجے بہتر عمل ہے، کیونکہ نبی رحمت ﷺ خود معاف کرنے والے تھے۔ ان کی ذات اقدس کو دنیاوی اور سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنا اور اس سلسلے میں مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنا حد درجہ ظالمانہ اور آخرت کی پرواہ نہ کرنے والا عمل ہے۔ سیاسی تحریک لبیک سے پہلے نبی ﷺ کی ذات اقدس اور ان سے محبت سب مسلمانوں کا مشترکہ اثاثہ تھا، کسی نے ان کی محبت اور عقیدت کو کسی خاص پارٹی کو جوائن کرنے اور اسے ووٹ دینے سے منسلک نہیں سمجھا تھا کیونکہ اللہ کے نبی کی ذات کسی سٹریٹیجک مقصد یا ووٹ کے حصول کے ساتھ کبھی ہم معنی نہیں تھی۔
مذہبی مقدسات کی توہین پہلے بھی ہوا کرتی تھی۔ کبھی چپل کے تلوے پر، کبھی پہننے والے کپڑوں پر اور کبھی ٹوائلٹ پیپر کے رول پر توہین آمیز مواد چھپے ہوئے دریافت ہو جایا کرتے تھے۔ جس کے خلاف مقامی طور پر یا بڑے مساجد میں نماز جمعہ کے بعد نمازی احتجاج کر کے منتشر ہو جایا کرتے تھے۔ عوام ان واقعات کی وجوہات اور گہرائی تک کبھی نہیں گئے، لیکن یہ واقعات جس نے بھی جس مقصد کی خاطر کیے ، ایسے واقعات عموماً غیر مقبول اور غیر جمہوری حکومتیں عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کے لئے استعمال کرتی رہی ہیں۔
ذات اقدس کی توہین پر پہلی اور ہمہ گیر احتجاج سلمان رشدی کی لایعنی کتاب کی اشاعت پر ہوئی۔ (لایعنی اس لئے کہ اگر مذکورہ کتاب سے صرف نظر کی جاتی تو کتاب کی شہرت ہوتی نہ مصنف کی، اور یوں کتاب پہلے ایڈیشن کے اختتام پر مصنف سمیت وقت کے کوڑہ دان میں چلی جاتی) ۔ اس احتجاج کا سرخیل برطانوی شہری کلیم صدیقی تھا۔ جو کئی کتابوں کے مصنف اور دی کریسنٹ اخبار کا ایڈیٹر اور مالک تھا۔ جس نے مسلم پارلیمنٹ کے نام سے ادارہ بنا کر برٹش پارلیمنٹ کو چیلنج کیا تھا۔ پاکستان میں اس احتجاج کو مذہبی اور فرقہ پرست جماعتوں نے اپنی شہرت اور ووٹروں کو بڑھانے کے لئے استعمال کیا۔ رشدی کے بعد بنگلہ دیشی فیمینسٹ مصنفہ تسلیمہ نسرین نے اپنی کتاب میں مذہبی شعائر پر انگشت نمائی کی۔ اس کے بعد مختلف مغربی اخبارات نے آزادی اظہار کی آڑ میں گاہے بگاہے توہین آمیز خاکے چھاپے۔
چھوٹے چھوٹے واقعات سے بڑے اسباق اور نتائج کا حصول ہمہ وقت مستعدی اور تجزیاتی استعداد کی مرہون منت ہوتی ہے۔ اس لئے ان احتجاجوں سے ہمہ وقت مستعد منصوبہ سازوں نے بڑے نتیجہ خیز اسباق حاصل کیے ۔ لیکن اب بات جرابوں اور جوتوں کے تلوؤں پر دریافت شدہ توہین آمیز مواد سے بہت آگے چلی گئی۔ کیونکہ اب سرکاری عمال، یونیورسٹیوں اور کالجوں کے اساتذہ، سوال اٹھانے والے طلباء، شعور دینے والے دانشور اور لکھاری، اقلیتیں بلکہ یہاں تک کہ سیاسی مخالفین اور ذاتی دشمنوں تک کو توہین کی تہمت سے متہم کر کے جیل یا دنیا پار بھیجے جانے لگا ہے۔
جوہری تبدیلی اس وقت آئی جب عشروں کے دوران تیار کردہ ان اذہان کو ایک دشنام بدہن مولوی کی معیت میں منظم کر کے برسر اقتدار جماعت کی حکومت کو گرانے کے لئے استعمال میں لایا گیا۔ (عجیب اتفاق ہے کہ اس حکومت کے مخالف، سیاسی اور مذہبی دونوں لیڈران ایک جیسی زبان بولنے میں مہارت تامہ رکھتے تھے ) ۔ اس وقت تحریک لبیک کا دعویٰ تھا، کہ توہین رسالت کی پاداش میں سلمان تاثیر کو قتل کرنے والے ممتاز قادری کو پھانسی نواز شریف نے دلائی تھی جبکہ سب جانتے تھے کہ اس کی پھانسی میں ایک غیر سیاسی شریف ملوث تھا جس کا بعد میں اس نے ایک انٹرویو میں اقرار بھی کیا۔
پختونخوا دو عشروں سے دیوبندی بندوق بردار عفریت سے زخم زخم ہے۔ مشال خان کا خون ناحق ابھی تازہ ہے کہ عدم تشدد کے پرچارک باچا خان کے آبائی علاقے ہشت نگر (چارسدہ) سے متصل مندنی میں، میں ایک غضب ناک ہجوم نے مذہبی سیاست کاروں کے اکسانے پر، ایک فاتر العقل شخص کے مبینہ توہین قرآن کے عمل کی پاداش میں، تھانے اور پولیس چوکیاں جلا کر قانون کی دھجیاں بکھیرتے چلی گئی۔ تھانے اور چوکیوں میں موجود سرکاری ریکارڈ اور املاک کے ساتھ کیا کچھ جلا، لکھ دوں تو ہجوم اور اکسانے والوں کے خلاف ایک ساتھ توہین کے مقدمے درج ہو جائیں۔
لگتا ہے تحریک لبیک کی ہمہ جہت پھیلاؤ اور پختونخوا میں اس کے بڑھتے ہوئے ارکان کی تعداد نے دیوبندی طبقے کے سیاسی مولویوں کو کافی پریشان کیا ہوا ہے۔ تبھی تو اپنے حلقہ انتخاب اور ووٹروں کو محفوظ بنانے کی خاطر، لاہور میں تحریک لبیک کا اختیار کردہ گھیراؤ جلاؤ والا طریقہ کار مندنی میں اختیار کیا گیا۔ (ملوث کرداروں اور فاتر العقل ملزم سے گہری تفتیش اور تفصیلی تحقیق سے معلوم کیا جا سکتا ہے کہ فاتر العقل ملزم نے مبینہ شنیع عمل کیوں کیا؟ یاد رہے پچھلے ہفتے مندنی کے قریبی علاقے سخا کوٹ میں بھی ایک فاتر العقل شخص نے اے این پی کے جلسے کے دوران اے این پی کے سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین کی پستول سے جان لینے کی کوشش کی تھی جو کارکنان کی مستعدی کی بنا پر ناکام کردی گئی) ۔
پختونخوا میں مذہب کو سیاست کی خاطر استعمال نہ کرنے والی جماعتوں اور خصوصاً قوم پرستوں کے سامنے اس دفعہ توہین کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا آٹھواں سمندر ہے۔ سہواً ادا کیا گیا کوئی لفظ، جلدی اور غلطی میں دیا گیا کوئی ذومعنی حوالہ، ان کے لئے بڑا مہلک مسئلہ بنایا جا سکتا ہے۔ آتش بدہن مولوی اور آتش بدست ہجوم تیار ہے۔ زبانی تقریریں، فی البدیہہ اور فوری جوابات، اور روانی میں بلا تکلف بولنے سے، نپے تلے الفاظ، سوچے سمجھے حوالے اور لکھی ہوئی تقریریں بہترین تحفظ ہے۔
(بشکریہ: ہم سب لاہور)