سری لنکن منیجر کی ہلاکت، ملزمان کی گرفتاری کیلئے پولیس کے رات بھر چھاپے
- ہفتہ 04 / دسمبر / 2021
- 6560
سیالکوٹ میں فیکٹری منیجر کو قتل کرنے اور اس کی لاش جلانے کے الزام میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لئے پولیس کے چھاپے اور آپریشن رات بھر جاری رہا۔
پنجاب پولیس کے ترجمان کے بیان کے مطابق آر پی او گوجرانولہ کی سربراہی میں پولیس ٹیمیں ملزمان کی گرفتاری کے لیے پوری رات چھاپے مارتی رہیں اور آئی جی پنجاب راؤ سردار علی خان رات بھر آپریشن کی خود نگرانی کرتے رہے۔ ڈی پی او سیالکوٹ چھاپہ مار ٹیموں اور نفری کے ساتھ فیلڈ میں موجود رہے۔ رات سے 50 سے زائد مقامات پر پولیس نے چھاپے مارے جبکہ اسپیشل برانچ، سی ٹی ڈی اور پولیس کے متعلقہ سینئر حکام آپریشن میں شامل رہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ زیر حراست ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور واقعے ملوث دیگر ملزمان کی نشاندہی میں مدد مل رہی ہیں۔ سی سی ٹی وی فوٹیج اور ویڈیوز کی مدد سے ملزمان کی شناخت اور تلاش کا عمل جاری ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز سیالکوٹ میں مشتعل ہجوم نے سری لنکا سے تعلق رکھنے والے مقامی فیکٹری کے منیجر پر توہین مذہب کا الزام عائد کرتے ہوئے بہیمانہ تشدد کرکے قتل کیا اور ان کی لاش نذرِ آتش کردی تھی۔ سیالکوٹ کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) عمر سعید ملک نے کہا ہے کہ مقتول کی شناخت پریانتھا کمارا کے نام سے ہوئی ہے۔
سیالکوٹ پولیس کے سربراہ ارمغان گوندل نے غیرملکی خبر ایجنسی ’اے پی‘ کو بتایا کہ فیکٹری کے ملازمین نے مقتول پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے پوسٹر کی بے حرمتی کی جس پر پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا نام درج تھا۔ واقعے کے چند گھنٹے بعد وزیراعلیٰ پنجاب کے معاون خصوصی حسان اور آئی جی پنجاب راؤ سردار علی خان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی امور حافظ طاہر محمود اشرفی نے علما کی جانب سے اس واقعے کی مذمت کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ اس وحشت پر پاکستانی قوم، پاکستان کے تمام مکاتب فکر کے علما، مشائخ اور تمام مذاہب کے ماننے والوں کی طرف سے مذمت کرتا ہوں۔ بعد ازاں پنجاب پولیس نے ٹوئٹر پر بیان میں کہا کہ سیالکوٹ واقعے میں پولیس نے تشدد کرنے اور اشتعال انگیزی میں ملوث ملزمان میں سے ایک مرکزی ملزم فرحان ادریس کو گرفتار کر لیا ہے۔
100 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ آئی جی پنجاب سارے معاملہ کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔
دوسری جانب سری لنکا کی وزارت خارجہ نے بیان میں کہا کہ انہیں پاکستانی حکام سے توقع ہے کہ وہ تفتیش اور انصاف کو یقینی بنانے کے لیے مطلوبہ کارروائی کریں گے۔ سری لنکا کے میڈیا کے ادارے نیوز فرسٹ نے وزارت خارجہ کے ترجمان سوگیشوارا گونارتنا کے حوالے سے کہا کہ اسلام آباد میں سری لنکا کے ہائی کمیشن واقعے کی تفصیلات کی تصدیق کے لیے پاکستانی حکام سے رابطے میں ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ٹوئٹ میں لکھا کہ ’سیالکوٹ میں فیکٹری پر وحشت ناک حملہ اور سری لنکن منیجر کو زندہ جلانا پاکستان کے لیے ایک شرم ناک دن ہے’۔ میں تفتیش کی نگرانی کر رہا ہوں اور تمام ذمہ داران کو قانون کے مطابق سزا دلانے کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی’۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ سیالکوٹ میں ہجوم کی جانب سے بےگناہ قتل قابل مذمت اور شرم ناک ہے، اس طرح کا ماورائے قانون قتل کسی قیمت معاف نہیں کیا جاسکتا ہے۔ آئی ایس پی آر کےمطابق آرمی چیف نے اس وحشت ناک واقعے کے ملزمان کی گرفتاری کے لیے سول انتظامیہ کی ہر ممکن مدد کرنے کی ہدایت کردی۔