سیالکوٹ واقعہ سے پاکستان سری لنکا تعلقات متاثر نہیں ہوں گے: وزیر خارجہ
- ہفتہ 04 / دسمبر / 2021
- 4130
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ سیالکوٹ واقعے پر سری لنکا سے ہمارے سفارتی تعلقات خراب نہیں ہوئے ہیں اور سری لنکا نے پاکستانی موقف اور بروقت کارروائی کو سراہا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز سیالکوٹ میں مشتعل ہجوم نے سری لنکا سے تعلق رکھنے والے مقامی فیکٹری کے منیجر پر توہین مذہب کا الزام عائد کرتے ہوئے بہیمانہ تشدد کرکے قتل کیا اور ان کی لاش نذرِ آتش کردی تھی۔ وزیر خارجہ نے لاہور میں گورنر ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ سیالکوٹ کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے۔ حکومت نے واقعے میں متاثرہ خاندان سے رابطہ کیا ہے، متاثرہ خاندان جیسے چاہے گا ویسے ہی آگے بڑھیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ سری لنکا کے وزیر خارجہ سے رابطہ ہوا ہے، سری لنکا سے ہمارے سفارتی تعلقات خراب نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ واقعے پر سب کو دکھ ہوا ہے، واقعے کے ملزمان کو کیفرکردار تک پہنچائیں گے، وزیراعظم خود اس کی نگرانی کررہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان 19 دسمبر کو او آئی سی کے ایک خصوصی سیشن کی میزبانی کرےگا جس کی بنیادی توجہ افغانستان ہوگا۔ افغانستان میں بروقت توجہ نہ دی گئی تو انسانی المیہ جنم دے سکتا ہے۔ اگر افغانستان کے اثاثے منجمند رہے تو معاشی بحران جنم لے سکتا ہے اور یہ حالات تشویش ناک ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ بین الاقوامی اندازوں کے مطابق 2 کروڑ 28 لاکھ افغان غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں اور 32 لاکھ بچے خوراک کی کمی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ کونسل آف فارن منسٹرز کا اجلاس 41 برس بعد منعقد ہو رہا ہے۔ 19 دسمبر کے اجلاس سے پہلے 18 تاریخ کو او آئی سی کے اعلی حکام پاکستان آ جائیں گے۔
اجلاس کے لیے امریکا، چین، برطانیہ، روس کے نمائندہ سمیت یورپی یونین اور یو این ایجنسی کے متعلقہ نمائندوں اور ورلڈ بینک کے نمائندوں کو بھی دعوت دے رہے ہیں۔ جرمنی، جاپان، کینیڈا اور آسٹریلیا کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کے نمائندوں کو بھی بلایا جا رہا ہے۔ ہم افغانستان کے ایک اعلی سطحی وفد کو بھی دعوت دیں گے کہ وہ بین الاقوامی مندوبین کو اصل صورتحال سے آگاہ کریں۔