افغانستان میں سابق سیکیورٹی عہدیداران کو پھانسی کی اطلاعات، امریکہ کی تنقید
- اتوار 05 / دسمبر / 2021
- 4270
امریکا اور اس کے اتحادیوں نے افغان سیکیورٹی فورسز کے سابق اراکین کی مبینہ طور پر پھانسی پر طالبان کی شدید مذمت کی ہے اور فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ ہیومن رائٹس واچ اور دیگر تنظیموں کی جانب سے افغان سیکیورٹی فورسز کے سابق ارکان کی ہلاکتوں اور جبری گمشدگیوں کی رپورٹس پر ہمیں گہری تشویش ہے۔
یہ بیان امریکا کے علاوہ یورپی یونین، آسٹریلیا، برطانیہ، جاپان اور دیگر کی جانب سے جاری کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مبینہ کارروائیاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہیں اور طالبان کی اعلان کردہ عام معافی کے منافی ہیں۔ افغانستان کے نئے حکمرانوں سے مطالبہ کیا گیا کہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ عام معافی نافذ ہو اور ملک بھر میں ان کی صفوں میں اس پر عمل کیا جائے۔
خیال رہے کہ رواں ہفتے کے اوائل میں ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو ) نے ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں افغان نیشنل سیکیورٹی فورسز کے 47 سابقہ اراکین اور دیگر فوجی اہلکاروں کی گمشدگی یا مقدمہ چلائے بغیر ہلاکت کا ذکر کیا گیا تھا جنہوں نے اگست سے اکتوبر کے درمیان طالبان فورسز کے سامنے ہتھیار ڈال دیے تھے یا انہیں گرفتار کیا گیا تھا۔
یوکرین، نیوزی لینڈ، کینیڈیا اور متعدد یورپی ممالک نے بیان میں کہا کہ رپورٹ شدہ کیسز کی فوری اور شفاف طریقے سے تحقیقات کی جانی چاہیے اور ذمہ داروں کا احتساب ہونا چاہیے، ساتھ ہی ان اقدامات کو مزید ہلاکتوں اور گمشدگیوں کی فوری روک تھام کے لیے واضح طور پر عام کیا جانا چاہیے۔
بیان میں کہا گیا کہ ہم طالبان کو ان کی کارروائیوں سے جانچنے کا عمل جاری رکھیں گے۔ خیال رہے کہ طالبان نے امریکا انخلا کے پیشِ نظر افغان حکومت کے خاتمے کے بعد اگست میں اقتدار سنبھالا تھا اور طالبان رہنما بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیے جانے کے خواہاں ہیں۔
اس کے باوجود نئی حکومت نے پرتشدد سزاؤں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، جبکہ امریکا ان 'معتبر الزامات' پر تشویش کا اظہار کرچکا ہے کہ طالبان عام معافی کے اعلان کے باوجود انتقامی کارروائیاں کررہے ہیں۔