سانحہ سیالکوٹ: مزید 6 مرکزی ملزمان گرفتار

  • اتوار 05 / دسمبر / 2021
  • 4720

پنجاب پولیس نے سری لنکن فیکٹری مینیجر پریانتھا کمارا کو تشدد کر کے قتل کرنے کے مقدمے میں مزید 6 افراد کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ 13 ملزمان کا ایک روزہ راہداری ریمانڈ بھی حاصل کرلیا گیا۔

سیالکوٹ کے 13 مرکزی ملزمان کو فوجداری عدالت کے جج ظریف احمد کے سامنے پیش کیا گیا، پولیس کی درخواست پر عدالت نے ایک روزہ راہداری ریمانڈ ریمانڈ دے دیا۔  ملزمان پر 3 دسمبر کو سری لنکن شہری کو بہیمانہ تشدد کر کے قتل کرنے میں مرکزی کردار ادا کرنے کے الزامات ہیں۔

اگوکی پولیس تھانے کے اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) ارمغان مقط کی درخواست پر راجکو انڈسٹریز کے 900 ورکرز کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302، 297، 201، 427، 431، 157، 149 اور انسداد دہشت گردی قانون کے 7 اور 11 ڈبلیو ڈبلیو کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ درخواست گزار نے کہا کہ مظاہرین نے ان کی موجودگی میں پریانتھا کو تھپڑ، ٹھوکریں اور مکے مارے اور لاٹھیوں سے تشدد کیا اور وزیرآباد فیکٹری سے گھسیٹ کر باہر لائے جہاں ان کی موت ہوگئی اور اس کے بعد ان کی لاش کو آگ لگادی۔

ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ اہلکاروں کی کمی کے باعث وہ مشتعل ہجوم کے آگے بے بس تھا۔ پنجاب پولیس کی جانب سے ٹوئٹر پر جاری ایک بیان کے مطابق گزشتہ 2 روز کے دوران پولیس 124 افراد کو گرفتار کرچکی ہے جس میں 19 مرکزی ملزمان بھی شامل ہیں۔ بیان میں بتایا گیا کہ سی سی ٹی وی وی فوٹیجز اور موبائل فون ڈیٹا کی مدد سے ملزمان کا شراغ لگایا جارہا ہے، جو اپنے عزیز و اقارب کے گھروں میں روپوش ہوگئے تھے۔

پولیس کا مزید کہنا تھا کہ 124 گرفتار افراد میں 19 نے اس بہیمانہ قتل میں مرکزی کردار ادا کیا تھا'۔ زیر حراست افراد میں سے اشتعال پھیلانے اور تشدد میں ملوث افراد کی نشاندہی کرنے کا عمل جاری ہے، وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار اور آئی جی پنجاب تحقیقات کے سارے عمل کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔

 فیکٹری مینیجر کے بہیمانہ قتل کے کیس میں سیالکوٹ کی گارمنٹس فیکٹری کے تقریباً 3 ہزار ورکرز گرفتاری سے بچنے کے لیے مفرور ہیں جنہیں شاید ملازمتوں سے فارغ کردیا جائے گا جبکہ فیکٹری بھی بند ہے اور پیداوار دوبارہ شروع کرنے کے لیے وقت کا تعین نہیں کیا جاسکا۔

فیکٹری مالک کے قریبی ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ اعجاز بھٹی واقعے کے وقت جرمنی میں موجود تھے، جنہوں نے ہفتے کے روز وطن واپس آکر ضلعی پولیس افسران اور متعلقہ حکام سے ملاقات کی اور وقوعہ پر تبادلہ خیال کیا۔

ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ فیکٹری میں ہر جگہ کلوز سرکٹ ٹیلی ویژن کیمرے نصب ہیں جن کی فوٹیج سے تفتیش کاروں کو اصل مجرموں کی شناخت میں مدد مل سکتی ہے۔ چینی گارمنٹ انڈسٹری سے مسابقت رکھنے والی جدید ٹیکنالوجی استعمال کرنے پر سیالکوٹ میں گارمنٹ یونٹ خاصی اہمیت کا حامل ہے جو ہوگو باس سمیت دنیا بھر کے 35 بڑے برانڈز کے لیے گارمنٹس تیار کرتے ہیں۔

فیکٹری کی ملکیتی لیبر کالونی میں فیصل آباد، ملتان، سرگودھا، وہاڑی اور دیگر شہروں سے تعلق رکھنے والے 500 کے قریب مزدور مقیم ہیں جہاں ایک ہسپتال انہیں مفت علاج، مفت کھانا اور مفت ٹرانسپورٹ فراہم کر رہا ہے۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ چین، ملائیشیا، انڈونیشیا، کوریا، سری لنکا اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے غیر ملکی شہری سیالکوٹ کی مختلف فیکٹریوں میں انتظامی عہدوں پر فائز ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ متوفی سری لنکن منیجر ٹیکسٹائل انجینئرنگ میں گولڈ میڈلسٹ تھے اور ان کا ایک بھائی اس وقت فیصل آباد کی ایک ٹیکسٹائل مل میں کام کرتا ہے۔