رانا شمیم نے اپنے بیان حلفی کی تصدیق کردی لیکن میڈیا کو جاری نہیں کیا
- منگل 07 / دسمبر / 2021
- 3560
اسلام آباد ہائی کورٹ نے گلگت بلستان کے سابق چیف جج رانا شمیم کی بیرونِ ملک جانے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر پیر تک اصل بیانِ حلفی جمع نہ کرایا گیا تو ان کے خلاف توہین عدالت کی فردِ جرم عائد کردی جائے گی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے انگریزی اخبار میں اعلیٰ عدلیہ کے حوالے سے الزامات پر توہین عدالت کیس کی سماعت کی۔ سماعت میں سابق چیف جج رانا شمیم، صحافی انصار عباسی، عامر غوری کے علاوہ اٹارنی جنرل خالد جاوید خان، ایڈیشنل اٹارنی جنرل قاسم ودود اور ایڈوکیٹ جنرل نیاز اللہ نیازی عدالت میں پیش ہوئے۔ میر شکیل الرحمٰن نے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی۔
دورانِ سماعت رانا شمیم کے وکیل نے اخبار میں شائع ہونے والے بیان حلفی کے متن کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیان حلفی کا متن درست ہے لیکن شائع کرنے کیلئے نہیں دیا گیا تھا۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ جو بیانیہ بنایا جا رہا ہے وہ تکلیف دہ ہے۔ ان الزامات کا کوئی ایک ثبوت لے کر آ جائیں، اگر اس بیانیے میں ذرا سی بھی حقیقت ہے تو میں ذمہ داری لیتا ہوں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے اس ہائی کورٹ کے ایک ایک جج پر اعتماد ہے، ہم نے اس ہائی کورٹ کے کلچر کو تبدیل کیا ہے۔ رانا شمیم کی پیروی کرنے والے سینیئر وکیل لطیف آفریدی نے عدالت کو بتایا کہ اصل بیان حلفی رانا شمیم کے نواسے کے پاس ہے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ رانا شمیم کو بیان حلفی لینے کے لیے بیرونِ ملک جانے کی اجازت دیں۔ جسٹس اطہر من اللہ نے استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ باہر نہیں جاسکتے۔
سماعت میں رانا شمیم نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اظہارِ وجوہ کے نوٹس کا جواب انہوں نے 7 روز قبل اپنے وکیل کو دے دیا تھا۔ عدالتی معاون فیصل صدیقی ایڈوکیٹ نے گزشتہ سماعت کا تحریری فیصلہ پڑھ کر سنایا اور کہا کہ خبر میں رجسٹرار ہائی کورٹ اور عدالت کا مؤقف شامل نہیں کیا گیا۔ عدالتی معاون نے سوال اٹھایا کہ حقائق کی تصدیق کے بغیر کیا ایمرجنسی تھی بیان حلفی یا خبر شائع کرنے کی؟
عدالتی معاون کا کہنا تھا کہ رانا شمیم نے کہا کہ بیان حلفی پرائیویٹ دستاویز تھی، میں نے شائع کرنے کا نہیں کہا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر یہ بیان حلفی ذاتی تھا تو صحافی سے سوال کیوں نہیں پوچھا گیا۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سربراہ لطیف آفریدی کے عدالت میں آنے پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ صرف یہاں رانا شمیم کے وکیل نہیں ہوں گے بلکہ آپ اس عدالت کے معاون بھی ہوں گے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے لطیف آفریدی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کو اس کیس کے حوالے سے بتانا چاہتا ہوں۔ ججز کے خلاف بیان بازی اور الزامات کا ایک بیانیہ تشکیل دیا گیا ہے۔ ہم ججز کوئی پریس کانفرنس نہیں کرسکتے کہ اپنا مؤقف پیش کریں، ججز کو اسی طرح پریشرائز کیا جارہا ہے۔
جسٹس اطہر من اللہ نے لطیف آفریدی سے کہا کہ سپریم کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس نے گلگت کے چیف جج کے سامنے فون پر بات کی۔ دو حاضر سروس ججز کی ملاقات ہوئی اور بات تین سال بعد باہر آئی۔ اس عدالت کے معزز جج کا نام لیا گیا، جو ان دنوں ملک میں موجود ہی نہیں تھے۔
جسٹس اطہر من اللہ نے مزید کہا کہ رانا شمیم نے تین سال بعد ایک بیان حلفی کیوں دیا؟ کسی مقصد کے لیے دیا ہو گا؟ یو کے کے کسی فورم پر جمع ہوا ہوگا، اسے کوئی لاکر میں تو نہیں رکھتا۔ عوام کو تاثر دیا گیا کہ اس عدالت کے ججز پر چیف جسٹس پاکستان نے دباؤ ڈالا، اس سٹوری شائع ہونے کی ٹائمنگ بھی بہت اہم ہے کیونکہ اپیل زیر سماعت ہے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سابق جج نے کہا کہ انہوں نے بیان حلفی میڈیا کو دیا ہی نہیں، کیسز کے حوالے سے بیان حلفی کو ہمیشہ عدالتی ریکارڈ پر رکھا جاتا ہے۔ بیان حلفی کہیں نہ کہیں تو جمع ہونا تھا، وہ لاکر میں رکھنے کے لیے تو نہیں تھا۔ جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ مجھے کسی اور عدالت کی فکر نہیں، مجھے اسلام آباد ہائی کورٹ کی فکر ہے۔ وکلا قیادت اور کورٹ رپورٹرز سے جج کا کوئی اقدام نہیں چھپ سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ مجھے میرے تمام ججز پر فخر اور بھروسہ ہے۔ اس عدالت پر تین سال بعد انگلی اٹھائی گئی، یہ عدالت کسی کو اجازت نہیں دے گی کہ لوگوں کا بھروسہ عدالتوں سے اٹھ جائے۔
سینیئر وکیل لطیف آفریدی نے کہا کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ ججز پر ایسے الزامات لگائے گئے ہیں۔ جس پر عدالت نے کہا کہ آپ اس کیس کو رانا شمیم کے وکیل کے حثیت سے نہیں عدالتی معاون کی حثیت سے دیکھیں۔ عدالیہ کی آزادی کے لیے میں نے ہمیشہ کوشش کی اور کرتا رہوں گا۔ جب سیاسی جماعتیں معاملات طے نہیں کر پاتیں تو عدالتوں کا رخ کرتی ہیں۔
لطیف آفریدی نے مزید کہا کہ رانا شمیم نے بیان حلفی سے انکار نہیں کیا لیکن انہوں نے بیان حلفی شائع ہونے کے لیے نہیں دیا۔ میرے موکل نے کہا کہ میں توہین عدالت سے انکار نہیں کررہا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ یہ بیانیہ ہائی کورٹ کو نقصان پہنچا رہا ہے، دستاویز اس وقت کہاں ہے؟ لطیف آفریدی نے بتایا کہ کاغذات درخواست گزار کے پوتے کے پاس ہے جو طالبعلم ہے اور آجکل انڈر گراؤنڈ ہے، اسے ہراساں کیا جارہا ہے۔ عدالت نے کہا کہ برطانیہ میں ایسا نہیں ہوتا کہ آپ کو خطرہ ہو اور آپ انڈر گراؤنڈ ہو، آپ بتائیں کہ کیا اس عدالت میں مسئلہ ہے۔ میں اس عدالت کا ذمہ دار ہوں اور مجھ پر ذمہ داری آتی ہے، اس ہائی کورٹ کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے۔
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ کیس کو آگے بڑھانے کے لیے اصل دستاویزات جمع کرانا ضروری ہے۔ اصلی بیان حلفی اس عدالت کو جمع کرائیں تو پتا چلے گا، اس عدالت پر اتنا بڑا الزام لگایا گیا اور آپ کے مؤکل اصل بیان حلفی جمع نہیں کرارہے۔
اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ انہوں نے عدالت کے تحریری فیصلے کے بعد رانا شمیم اور برطانیہ کو خط ارسال کیا تھا۔ رانا شمیم کے نواسے کو لندن میں ہراساں کرنے کے معاملہ پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ جوان لڑکے کو اگر برطانیہ میں ہراساں کیا جارہا ہے تو یہ سنگین مسئلہ ہے۔ بتایا جائے اسے کون ہراساں کررہا ہے۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم نے خط لکھا اور کہا کہ پاکستانی ہائی کمیشن کے ذریعے بیان حلفی دے دیں کیوں کہ رانا شمیم کا بیٹا اور نواسا اس وقت برطانیہ میں موجود ہیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ اگر رانا شمیم نے یہ بیان حلفی کسی اور مقصد کے لیے بنایا ہے اور اشاعت کے لیے نہیں دیا تو اس کے نتائج ہوں گے۔
جسٹس اطہر من اللہ نے لطیف آفریدی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ میں چیف جسٹس ہوں اور اگر میرے سامنے ایک چیف جسٹس بات کررہا ہے تو میں کیا کروں گا، جس پر لطیف آفریدی نے کہا کہ وہ آپ کا معاملہ ہے کہ آپ کیا کریں گے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اگر آپ کو اس عدالت پر شک ہو تو ٹھیک ہے مگر تمام ججز پر انگلی اٹھانا ٹھیک نہیں۔ میں چیلنج کرتا ہوں کہ میرے کسی جج نے کسی کے لیے کوئی دروازہ نہیں کھولا، مرحوم جسٹس وقار سیٹھ نے بھی کبھی کسی کے لیے دروازہ نہیں کھولا اسی وجہ سے پریشر نہیں لے رہے تھے۔ الزامات کسی اور پر نہیں بلکہ اس عدالت کے ججز پر ہیں، کیا آپ کہنا چاہتے ہیں کہ مجھ سمیت تمام ججز کی انکوائری شروع ہوجائے۔
بعدازاں عدالت نے رانا شمیم کو اصلی بیان حلفی جمع کرانے کی مہلت دیتے ہوئے خبردار کیا کہ پیر تک اصل بیان حلفی جمع نہ کرایا گیا تو فرد جرم عائد کی جائے گی۔ کیس کی سماعت پیر تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔
خیال رہے کہ 15 نومبر کو انگریزی روزنامے ’دی نیوز‘ میں شائع ہونے والی صحافی انصار عباسی کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا محمد شمیم نے ایک مصدقہ حلف نامے میں کہا تھا کہ وہ اس بات کے گواہ ہیں کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے ہائی کورٹ کے ایک جج کو ہدایت دی تھی کہ سال 2018 کے انتخابات سے قبل کسی قیمت پر نواز شریف اور مریم نواز کی ضمانت پر رہائی نہیں ہونی چاہیے۔