روسی صدر کا دورہ بھارت، تجارتی اور دفاعی معاہدے

  • منگل 07 / دسمبر / 2021
  • 4050

روس کے صدر ولادی میر پوٹن اس وقت بھارت کے دورے پر ہیں۔ اس دوران ماسکو اور نئی دہلی کے درمیان تجارت، دفاع اور اسلحے کی خریداری سمیت متعدد معاہدوں پر دستخط ہوئے ہیں۔

روس بھارت کو چھ لاکھ کلاشنکوف رائفلز کی تیاری میں بھی مدد دے گا۔ روس کے صدر پوٹن پیر کو بھارت کے دورے پر نئی دہلی پہنچے تھے جہاں اُنہوں نے بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے ساتھ ملاقات کی۔ دورے کے دوران روس کے وزیرِ خارجہ اور دفاع بھی روسی صدر کے ہمراہ تھے۔

روس اور بھارت نے دفاعی اور تیکنیکی تعاون کو 2031 تک وسعت دینے اور باہمی تجارت کے حجم کو 2025 تک 30 ارب ڈالرز تک لے جانے پر اتفاق کیا ہے۔ روس کے صدر ایسے موقع پر بھارت کے دورے پر ہیں جب امریکہ اور روس کے تعلقات میں تناؤ پایا جاتا ہے اور بھارت کی جانب سے روسی ساختہ ایس 400 میزائل کی خریداری پر امریکہ نے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

پیر کو پوٹن، مودی ملاقات کے بعد جاری کیے گئے مشترکہ اعلامیے میں دونوں ممالک نے دفاعی تعاون کو فروغ دینے اور اسلحے کی مشترکہ پیداوار پر بھی اتفاق کیا ہے۔ دفاعی معاہدے کے تحت بھارت کو اے کے 203 اسالٹ رائفلز کی تیاری میں مدد دینے سمیت روس نے اس خواہش کا بھی اظہار کیا ہے کہ وہ بھارت کو ایس 400 ایئر ڈیفنس میزائل سسٹم کی فراہمی کا سلسلہ جاری رکھنا چاہتا ہے۔

وائس آف امریکہ کے مطابق وزیرِ اعظم مودی نے ولادی میر پوٹن سے ملاقات کے موقع پر کہا کہ عالمی سطح پر متعدد بنیادی تبدیلیوں کے باوجود بھارت روس دوستی برقرار ہے۔ دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے حساس معاملات پر اپنی توجہ مرکوز کرنے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ قریبی تعاون کیا ہے۔ صدر پوٹن نے بھارت کو عظیم طاقت اور وقت کی کسوٹی پر کھرا اترنے والا دوست قرار دیا۔

روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاروف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی جانب سے مخالفت کے باوجود بھارت اور روس کے درمیان ایس۔400 میزائل نظام کے سودے پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت کے دوران روس کی جانب سے انڈو پیسفک اسٹریٹجی اور آسٹریلیا، برطانیہ اور امریکہ پر مشتمل گروپ آکس کے سلسلے میں بھی گفتگو ہوئی۔

بھارت کے خارجہ سیکریٹری ہرش شرنگلا نے ایس۔400 میزائل نظام کی خرید اور اس پر امریکہ کی تشویش کے سلسلے میں کہا کہ بھارت اور روس کی اپنی آزاد خارجہ پالیسی ہے اور اس حوالے سے ہمیں کسی دوسرے ملک سے اپنے رشتوں کو دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔

بھارت کے وزیرِ خارجہ ہرش وردھن کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری کے 28 معاہدوں پر دستخط ہوئے ہیں۔ ان معاہدوں میں اسٹیل، جہاز سازی، کوئلے اور توانائی کے شعبوں میں تعاون بھی شامل ہے۔ بھارتی وزیرِ خارجہ نے تصدیق کی کہ بھارت کی جانب سے ایس 400 میزائل کی خریداری کے کنٹریکٹ پر بھی عمل درآمد کیا جا رہا ہے اور رواں ماہ سے ایس 400 میزائل سسٹم کی فراہمی کا سلسلہ شروع ہو جائے گا اور یہ جاری و ساری رہے گا۔