پاکستانی علما مذہبی شدت پسندی کے خلاف 10 دسمبر کو ’یوم مذمت‘ منائیں گے

  • منگل 07 / دسمبر / 2021
  • 3180

پاکستان کے مختلف مکاتبِ فکر کے علما نے سیالکوٹ میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں سری لنکن شہری کے قتل اور لاش جلائے جانے کو بھیانک اور خوف ناک واقعہ قرار دیا ہے۔ علما نے  10 دسمبر کو ملک بھر میں 'یومِ مذمت' کے طور پر منانے کی اپیل کی ہے۔

اسلام آباد میں مختلف مکاتبِ فکر کے علما نے سری لنکن ہائی کمیشن کا دورہ کیا اور  سری لنکن حکام اور ہائی کمشنر موہن وجے وکراما سے ملاقات کی۔ علما نے تین دسمبر کے واقعے پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ اس روز سیالکوٹ میں ایک فیکٹری کے سری لنکن مینیجر کو مشتعل ہجوم نے مبینہ طور پر توہینِ مذہب کے الزام میں تشدد کرکے قتل کر دیا تھا اور بعد ازاں ان کی لاش کو سڑک پر آگ لگا دی تھی۔

سری لنکن حکام سے ملاقات کے بعد علما کی جانب سے کی گئی پریس کانفرنس میں مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ آج کی ملاقات کا مقصد اپنے دلی جذبات کا اظہار اور واقعے کی مذمت کرنا تھا۔ سری لنکا ہمارا برادر ملک ہے۔ جو لوگ اس واقعے میں ملوث ہیں وہ بدترین سزا کے مستحق ہیں۔ انہوں نے متاثرہ خاندان کو مناسب معاوضہ ادا کرنے پر بھی زور دیا۔

وفاقی المدارس العربیہ کے سربراہ قاری حنیف جالندھری نے کہا کہ اس سانحے کا پاکستان اور اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ تمام مکاتبِ فکر کے علما سے اپیل کرتے ہیں کہ جمعہ 10 دسمبر کو یومِ مذمت کے طور پر منایا جائے اور علما نمازِ جمعہ کے خطبات میں امن و محبت کے پیغام اور اقلیتوں کے حقوق پر روشنی ڈالیں۔

اس موقع پر سری لنکن ہائی کمشنر موہن وجے وکراما نے کہا کہ پاکستان کے اعلیٰ سطح وفد نے ہائی کمیشن کا دورہ کیا۔ یہ واقعہ انتہائی خوف ناک تھا جو پاکستان سمیت دنیا کے کسی ملک میں نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے پاکستان میں اعلیٰ حکام کی جانب سے واقعے پر ردِ عمل اور ملوث افراد کی گرفتاری و قانونی چارہ جوئی کے آغاز پر تسلی کا اظہار کیا۔

پاکستان کے وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی طاہر اشرفی نے کہا کہ واقعے کے ملزمان اپنے انجام کو پہنچیں گے۔ آج کے اجلاس میں چیف جسٹس آف پاکستان سے یہ درخواست کی گئی ہے کہ ملزمان کا تیزترین ٹرائل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ میں سری لنکن ہائی کمشنر کو یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان انصاف کے تقاضے پورے کرے گا اور جو ممکن ہو گا وہ متاثرہ خاندان کے لیے کیا جائے گا۔

پریس کانفرنس کے بعد جاری ایک مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ سری لنکن ہائی کمیشن کا دورہ تین دسمبر کے واقعے پر اظہارِ تعزیت اور اظہارِ یکجہتی کے لیے کیا گیا۔ سیالکوٹ کا سانحہ ایک المیہ ہے جس پر پاکستان سمیت دنیا بھر میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

ہجوم کی شکل میں ایک انسان پر تشدد کیا گیا اور اسے موت کی گھاٹ اتار کر اس کی لاش جلائی گئی۔ ماورائے عدالت قتل کا یہ بھیانک اور خوف ناک واقعہ ہے۔ بغیر ثبوت کے توہینِ مذہب کا الزام لگا کر ایک غیر شرعی حرکت کی گئی۔ مشترکہ اعلامیے میں اس تمام صورتِ حال کو قرآن، آئینِ پاکستان اور ملک میں رائج جرم و سزا کے قوانین کے خلاف قرار دیا گیا۔

اعلامیے کے مطابق سری لنکن شہری کا قتل ملک، قوم اور پاکستان کے لیے سبکی کا باعث بنا ہے۔ اس کے علاوہ پیغامِ پاکستان سے بھی سراسر انحراف ہے۔ ان شرپسند عناصر کے خلاف ملکی قوانین کے مطابق سخت اقدامات کیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ سیالکوٹ واقعے میں پنجاب پولیس نے اب تک 131 ملزمان کو حراست میں لیا ہے جس میں سے پولیس کے بقول 26 ملزمان کا مرکزی کردار سامنے آیا ہے۔

علما کے اعلامیے میں سری لنکن شہری کو ہجوم سے بجانے کی کوشش کرنے والے ملک عدنان کے اقدام کو قابلِ تقلید قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ ہم وزیرِ اعظم کی جانب سے انہیں تمغۂ شجاعت دینے کے اعلان کی تائید کرتے ہیں۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اسلام میں تشدد اور انتہا پسندی کی کوئی جگہ نہیں۔ علما اعتدال پسندی کو فروغ دیں گے اور انتہا پسندی کو روکنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔