سانحہ سیالکوٹ: ہماری بیمار ذہنیت کا غماز

درویش نے ساری زندگی مولویت و مذہبیت میں گزاری ہے۔ تفاسیر صحاح ستہ پرافت کی لائف کے ہمہ جہتی پہلو یعنی سیرۃ و مغازی، اسلامی فقہ و تاریخ قانون شریعت کو پڑھنے اور سمجھنے میں اپنی طرف سے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ لیکن سچائی یہ ہے کہ آج اس کا سینہ جل رہا ہے، کلیجہ پھٹ رہا ہے۔

برسوں کی تپسیا و ریاضت سے جو حقائق اور سچائیاں اس پر آشکار ہوئی ہیں۔ افسوس اپنے اس مادر وطن میں ان پر اظہار خیال کی کوئی سبیل نہیں پا رہا ہے۔ سوسائٹی کی جہالت اس قدر خونخواری تک پہنچا دی گئی ہے، جہاں ثواب دارین کیلئے روایتی و رسمی مواعظات کی جگالی تو کی جاسکتی ہے، تمامتر تہذیبی بندشوں کے ساتھ، لاجک و منطق یا عقل و شعور پر مبنی استدلال و بیان ممنوع و حرام قرار پایا ہے۔ یہاں مذہب و عقیدے کا مطلب ہے ون سائیڈڈ پروپیگنڈہ، نعت خوانی و درود شریف کے فضائل بیان کرتے ہوئے، جس غلو تک مرضی چلے جاؤ سواد اعظم کی ایک مخصوص ڈگر پر رطب ویابس جو چاہو ہانکتے جاؤ، کوئی پوچھنے یا روکنے ٹوکنے والانہیں۔

 لیکن اگر خالص علمی اسلوب میں حقوق بشر یا مذاہب عالم کا تقابل کیا تو فوری توہین مذہب کے مرتکب قرار پا سکتے ہیں۔ اگر اس کے ساتھ لفظ رسالت مل گیا تو پھر خدائے رحمن و رحیم کی اس وسیع کائنات میں کہیں آپ کے لئے جائے امان و پناہ نہیں ہے۔ اقبال یہاں نام نہ لے علم خودی کا، موزوں نہیں مکتب کے لئے ایسے مقالات، بہتر ہےکہ بیچارے ممولوں کی نظر سے پوشیدہ رہیں، باز کے احوال ومقامات مقام حیرت ہے الہٰیات پر جو اظہار بیان قرون اولیٰ یا دور ملوکیت کے سفاک جبر میں بھی روا تھا۔ آج اس میں بھی چار سو چالیس وولٹ کا کرنٹ چھوڑ دیا گیا ہے۔ معتزلہ جیسی منطقی اپروچ عباسیوں کے تشدد میں اس امہ کے اندر پروان چڑھتی رہی مگر مابعد راسخ العقیدگی اس قدر حاوی ہوئی کہ حریت فکر کا قطع قمع کرتی چلی گئی۔ سرسیدؒ تو ابھی کل کی بات ہے الہٰیات پر انہوں نے آزادی کے ساتھ کیا کچھ نہیں لکھا۔ کیا آج کوئی اس کا تصور بھی کر سکتا ہے۔

 مذہبیت کی موجودہ فضا میں تو سرسید کیا، اقبال بھی قتل ہو جاتے۔ ہماری آج کی مذہبیت و مولویت اندھی جہالت و منافرت میں اس قدر ڈوب چکی ہے کہ اگر کوئی بھی شخص بغیر ریفرنس بتائے کئی مقدس آیات و احادیث اپنے آرٹیکل میں اوریجنل الفاظ کے ساتھ لکھ دے تو فوری طور پر توہین رسالت کا مرتکب اور قابل گردن زدنی قرار پائے۔ ہمارے روایتی علماء یا متکلمین واضح فرمائیں یہ بات بے بات ’’سرتن سے جدا‘‘ کا نعرہ کہاں سے آیا ہے؟ آج کل کس زور و شور سے من شبا نبییا فقتلہ کے نعرے لگائے جا رہے ہیں اور ایسے متشدد گروہوں اور جتھوں کے پلیٹ فارم سے منافرت میں ڈوبی ہوئی جس نوع کی تقاریر بنیادی عقائد کے اسلوب میں دہرائی جاتی ہیں۔ کبھی اس گھن سے ناآشنا لوگوں نے یہ سوچا کہ یہ لوگ آج اکیسویں صدی کے انسانوں کو کسی قہر مذلت میں ڈبونے لے جا رہے ہیں۔

سیالکوٹ میں وقوع پذیر ہونے والاحالیہ سانحہ کیا مذہبیت کی ہولناک شبیہ واضح کرنے کے لئے کافی نہیں ہے؟ سری لنکا کے اس معصوم و بے گناہ انسان پریانتھا کمارا نے کون سی مذہبی حرمت پامال کی تھی؟ اگر وہ یہ کہتا تھا کہ تنخواہ لیتے ہو تو اسے حق حلال کرنے کے لئے کام بھی کرو تو فیکٹری کے جنرل یا پروڈکشن مینجر کی حیثیت سے کیا یہ اس کی ڈیوٹی نہ تھی؟ وہ بیچارہ تو اردو یا عربی کے الفاظ پڑھنے یا سمجھنے سے بھی ناآشنا تھا۔ اسے کیا معلوم کہ کسی پوسٹر یا سٹکر پر یا حسین لکھا ہے یا حضرت خادم حسین۔ ہمارے یہ روایتی لوگ بخاری کی حدیث اول بیان کرتے نہیں تھکتے کہ عملوں کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ یہاں کہاں کون سی بدنیتی کسی مورکھ کو بھی دکھائی دیتی ہے؟ درویش عرض گزار ہے کہ بالفرض ہو بھی آپ کو مذہب کی ٹھیکیداری کا حق کس نے تھما دیا ہے؟

ایک معصوم انسان پر اتنا ظلم اتنی سفاکی، اتنی کمینگی کہ تم نے بھاگ کر اوپر چوتھی منزل پر چھپنے والے کو پکڑا اور مار مار کر اس کے جبڑے توڑ دیے۔ اس کے چہرے پر چاقو مارے، چھریوں، مکوں، گھونسوں اور ٹھڈوں سے اس پر سفاکانہ تشدد کیا۔ دعویٰ ہے کہ تم رحمۃ اللعالمین کے عاشقان ہو، حرکات ہیں کہ شمر کی اولاد بھی شرمائے۔ ظالمو! تمہیں اس کے معصوم بچوں کی یتیمی کا بھی خیال نہ آیا، تم نے اس کی جواں سال شریک حیات کو لمحوں میں بیوہ بنا دیا۔ اس کی بوڑھی ماں کا بھی خیال نہ آیا جب وہ یہ خبر سنے گی تو اس کی چیخیں اور آہیں ساتویں آسمان تک پہنچ جائیں گی۔ یہ انسانیت سوز درندگی کرتے ہوئے تم نعرے کیا لگا رہے تھے؟ ’’لبیک، لبیک یا رسول اللہ ؐ‘‘۔ کس منہ سے اس ہستی کا نام لے رہے تھے جس کو دوسرے منہ سے رحمۃ اللعالمین قرار دیتے ہوئے تمہارے گلے خشک نہیں ہوتے۔ دنیا کو کیا پیغام دے رہے ہو کہ یہ ہے رحمۃ اللعالمینی۔ پوری دنیا کے سامنے اپنے آقا کے اس ٹائٹل کو سوالیہ نشان بنا رہے ہو۔

شرم سے ڈوب مرو، تم نے پریانتھا کمارا جی کو جس سفاکی سے مارا ہے اور آگ میں جلا کر اس کے جسم کو جس طرح خاکستر بنایا ہے درحقیقت تم نے اپنے مذہب اور اس کی تعلیمات کے بلند بانگ دعوئوں کو بھسم کر ڈالا ہے ۔ اس کے بعد اپنے سری لنکن بھائیوں کو پاکستانی کس منہ سے کہہ سکیں گے کہ ہمارا مذہب امن وسلامتی یا رحمت کا دین ہے۔ ذلت و رسوائی کی اخیر ہے کہ اس مملکت کا ایک وفاقی وزیر اور حکومتی پایا میڈیا کے سامنے کھلے بندوں یہ کہہ رہا ہے کہ ہمارے بچوں کا یہ ایمانی و مذہبی جذبہ تھا جوانی میں ایسے ہو جاتا ہے۔ یہ کوئی ایسی بڑی بات نہیں، میں بھی جوانی میں ایسے ہی تھا۔ کیا ایسے ہولےاور غیر ذمہ دارانہ بیان کے بعد یہ شخص اس قابل ہے کہ وزیر دفاع کی حیثیت سے خود کو قوم کے سامنے پیش کرے۔ اس کا فیصلہ محکمہ دفاع والوں کو کرنا چاہیے اور جو شخص مذہبی تشدد پر اکسانے والوں یا ان کے سہولت کاروں کو گلے لگانے یا گلدستے پیش کرنے میں پیش پیش ہو، اسے کیا حق ہے کہ وہ خود کو سیاستدان کہے۔

فواد چودھری نے جس ’’بیہودہ حرکت‘‘ کی نشاندہی کی ہے اس کے مرتکب کو لیڈری کا کوئی حق نہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے دہشت گردوں کے حوالے سے اولین جو بیان دیا اور ن لیگ کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے آگے بڑھ کر اس کی جن الفاظ میں گرفت کی، ذمہ دارانہ رویے کی یہ ایک روشن مثال ہے جس پر مولانا نے سفاکی و بربریت کی غیر مشروط مذمت فرمائی اور اب مختلف مسالک کے دیگر مذہبی رہنما بھی اس حوالے سے یک زبان ہو کر مذمتی بیانات دے رہے ہیں یہ ایک مثبت اقدام ہے۔ اے کاش! آگے بڑھ کر یہ علماء اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے بلاسفیمی قوانین کو بہتر بنانے کے لئے بھی اسی انسان نوازی کے جذبے سے کام لیں۔ آخر میں ملک عدنان جیسے ہونہار نوجوان کیلئے ڈھیروں نیک تمنائیں۔ کاش ہماری جوان نسل ایسے نوجوانوں کو اپنا رول ماڈل بنائے نہ کہ پرویز خٹک جیسی بیمار ذہنیت کو۔