بنگلہ دیش میں یونیورسٹی کے 20 طلبہ کو سزائے موت

  • جمعرات 09 / دسمبر / 2021
  • 3120

بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے بدھ کو یونیورسٹی کے 20 طالب علموں کو ایک نوجوان کے وحشیانہ قتل کے الزام میں سزائے موت سنائی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق 21 سالہ ابرار فہد کی مسخ شدہ لاش یونیورسٹی کے ہاسٹل میں اس وقت ملی جب اس نے ایک فیس بک پوسٹ لکھی جس میں وزیر اعظم شیخ حسینہ کو بھارت کے ساتھ پانی کی تقسیم کے معاہدے پر دستخط کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

طالب علم ابرار فہد کو حکمران جماعت عوامی لیگ کے طلبہ ونگ کے 25 اراکین نے 6 گھنٹے تک کرکٹ کے بلے اور دیگر اشیا سے مارا تھا۔ فہد کے والد برکت اللہ نے فیصلے کے بعد عدالت کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں فیصلے سے خوش ہوں، مجھے امید ہے کہ سزاؤں پر جلد عمل ہوگا۔

پراسیکیوٹر عبداللہ ابو نے بتایا کہ باقی 5 مجرموں کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ سزائے موت پانے والے تمام افراد کی عمریں 20 سے 22 سال کے درمیان ہیں اور وہ فہد کے ساتھ بنگلہ دیش یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں تعلیم حاصل کررہے تھے۔

ملزمان میں سے 3 ابھی تک مفرور ہیں جبکہ باقی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ مدعا علیہان کے وکیل نے کہا کہ سزا کے خلاف اپیل کی جائے گی۔

فہد نے اپنی موت سے چند گھنٹے قبل فیس بک پر ایک پوسٹ ڈالی تھی جو وائرل ہوگئی تھی۔ پوسٹ میں فہد نے حکومت کو ایک معاہدے پر دستخط کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا جس کے تحت بھارت کو ایک دریا سے پانی لینے کی اجازت دی گئی جو دونوں ممالک کی سرحد پر واقع ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی، میں فہد کو بی سی ایل کے کچھ کارکنوں کے ساتھ ایک ہاسٹلری میں دیکھا گیا تھا۔

 6 گھنٹے بعد طلبہ نے اس کی لاش کو باہر نکال کر زمین پر لٹا دیا۔ بی سی ایل حالیہ کچھ برسوں میں بدنام ہوئی ہے۔ اس کے کچھ ارکان پر قتل، تشدد اور بھتہ خوری کے الزامات لگائے گئے۔ 2018 میں اس کے ارکان نے مبینہ طور پر ایک بڑے حکومت مخالف طلبہ کے احتجاج کو دبانے کے لیے تشدد کا استعمال کیا تھا۔  

وزیر اعظم حسینہ واجد نے حملوں کے فوراً بعد اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ قاتلوں کو "سب سے بڑی سزا" ملے گی