کراچی کا مینجمنٹ سسٹم ٹھیک کرنا ہوگا: وزیراعظم

  • جمعہ 10 / دسمبر / 2021
  • 3660

وزیراعظم عمران خان نے کراچی میں گرین لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم (بی آر ٹی ایس) منصوبے کا افتتاح کیا۔ جمعہ کو کراچی میں گرین لائن بس منصوبے کا افتتاح کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کوئی بھی جدید شہر جدید ٹرانسپورٹ کے بغیر نہیں چل سکتا۔

اگر آپ چین کے جدید شہر دیکھیں تو وہ شہر بے انتہا آبادی کے باوجود اس لیے کامیابی سے چلتے ہیں کیونکہ وہاں جدید ٹرانسپورٹ کا نظام ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی پاکستان کی ترقی کا انجن ہے، کراچی جب خوشحال ہوتا ہے تو پاکستان خوشحال ہوتا ہے۔ ہر ملک میں ایسا شہر ہوتا ہے جو سارے ملک کو چلاتا ہے جیسے لندن برطانیہ کو چلاتا ہے، لندن میں خوشحالی آتی ہے تو پورے برطانیہ پر اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جبکہ نیویارک کے امریکا پر بہت بڑے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اسی طرح پیرس کے فرانس پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی کو فنکشنل اور کامیاب کرنے کا مطلب یہی ہے کہ ہم پاکستان کی مدد کررہے ہیں۔ ٹرانسپورٹ نظام کسی بھی شہر کو جدید بنانے میں پہلا قدم ہوتا ہے اور اتنی حکومتیں آنے کے باوجود سب سے زیادہ ریونیو دینے والے شہر کے ٹرانسپورٹ کے نظام پر کسی نے بھی توجہ نہیں دی۔ گرین لائن اس سلسلے میں پہلا قدم ہے۔

عمران خان نے کہا کہ میں 50سال سے کراچی کو دیکھ رہا ہوں، ہم نے اس شہر کو تبدیل ہوتے دیکھا ہے، یہ روشنیوں کا شہر ہوتا تھا لیکن ہم نے آہستہ آہستہ اس شہر کو کھنڈر بنتے دیکھا کیونکہ کراچی کے مینجمنٹ سسٹم پر کبھی زور نہیں دیا گیا۔ ایران پر عالمی پابندیوں کے باوجود تہران ایک جدید شہر نظر آتا ہے کیونکہ اس شہر کی مینجمنٹ جدید ہے۔ اس کی وہی مینجمنٹ وہی ہے جو لندن، پیرس یا نیویارک کی ہے۔ ان شہروں کی مینجمنٹ ایک ملک کی طرح ہے جو پانی، ٹرانسپورٹ اور سیوریج کے نظام سمیت شہر کو تمام سہولتیں خود فراہم کرتا ہے۔ پیسہ بھی وہ خود اکٹھا کرتا ہے، خرچ بھی وہ خود کرتا ہے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بلدیاتی الیکشن کراچی کے لیے ضروری ہیں تاکہ اس شہر کو خودمختاری دی جائے۔ اگر لاہور کی طرز پر کراچی میں بلدیاتی الیکشن ہو تو اس شہر کا میئر شہر کو اسی طرح چلائے گا جیسے کوئی جدید شہر چلتا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ کراچی ٹرانسفارمیشن پلان میں ہم نے جو وعدے کیے تھے وہ سب چل رہے ہیں۔ نالوں کی صفائی اور فریٹ کوریڈور بہت ضروری ہے لیکن سب سے زیادہ خوشی کے فور منصوبے کی ہے تاکہ کراچی کا پانی کا مسئلہ حل کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ اگلے مہینے کےفور منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا جائے گا اور 14 سے 15 مہینے میں یہ منصوبہ مکمل ہو جائے گا۔ اس طرح 2023 کے اگست یا ستمبر تک کراچی کو اس منصوبے کے تحت پانی پہنچا دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ میں سندھ حکومت سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس منصوبے کی اجازت دیں کیونکہ اس سے سارا فائدہ سندھ کو ہے۔ وفاقی حکومت کو تو صرف زرمبادلہ کا فائدہ پہنچے گا جس سے ملک کا بھی فائدہ ہے لہٰذا یہ انتہائی ضروری ہے کہ صوبائی حکومت ہیلتھ کارڈ اور بنڈل آئی لینڈ جیسے منصوبوں میں شریک ہو۔