کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا جنگ بندی ختم کرنے کا اعلان

  • جمعہ 10 / دسمبر / 2021
  • 5910

کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے حکومت کے ساتھ ایک ماہ تک جاری رہنے والی جنگ بندی میں توسیع کرنے سے انکار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت وعدوں پر عمل کرنے میں ناکام رہی۔

 اس اعلان سے امن کی ابتدائی کوششوں کو دھچکا لگا ہے۔ ٹی ٹی پی کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں 6 نکاتی معاہدے کی تفصیلات بتائی گئی ہیں جس میں کہا گیا کہ ان کا 25 اکتوبر 2021 کو ’اسلامی اماارت افغانستانکی حمایت سے حکومت کے ساتھ سمجھوتہ ہوا تھا۔ معاہدے کے مطابق فریقین نے قبول کیا تھا کہ آئی ای اے ثالث کا کردار ادا کرے گی اور دونوں فریق پانچ رکنی کمیٹیاں تشکیل دیں گے جو ثالث کی نگرانی میں آئندہ کے لائحہ عمل اور دونوں جانب کے مطالبات پر بات چیت کریں گی۔

بیان میں کہا گیا کہ فریقین نے یکم نومبر سے 30 نومبر 2021 تک ایک ماہ کی جنگ بندی، حکومت کی جانب سے 102 ’قیدی مجاہدین‘ کی رہائی، انہیں اسلامی امارات افغانستان کے ذریعے ٹی ٹی پی کے حوالے کرنے اور یکم نومبر 2021 کو جنگ بندی کے حوالے سے مشترکہ بیان جاری کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ حکومت نہ صرف فریقین کے درمیان طے شدہ فیصلوں پر عمل درآمد کرانے میں ناکام رہی بلکہ اس کے بجائے سیکیورٹی فورسز نے ڈیرہ اسمٰعیل خان، لکی مروت، سوات، باجوڑ، صوابی اور شمالی وزیرستان میں چھاپے مار کر عسکریت پسندوں کو ہلاک اور حراست میں لے لیا۔

کالعدم ٹی ٹی پی کا کہنا تھا کہ ’ان حالات میں جنگ بندی میں توسیع ممکن نہیں ہے‘۔ اس سے قبل ایک آڈیو میں مفتی نور ولی محسود نے جنگ بندی ختم کرنے کا اعلان کیا اور اپنے جنگجوؤں سے کہا کہ وہ رات 12 بجے کے بعد حملے دوبارہ شروع کردیں، جنگ بندی 9 نومبر کو عمل میں آئی تھی۔