انتہا پسندی اور شدت پسندی کا چیلنج
- تحریر سلمان عابد
- جمعہ 10 / دسمبر / 2021
- 7340
انتہا پسندی، شدت پسندی او راس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی دہشت گردی سمیت پرتشدد سیاسی، سماجی او رمذہبی رجحانات ایک بڑا ریاستی چیلنج بنا ہوا ہے۔کیونکہ انتہا پسندی پر مبنی مسائل سے جڑے واقعات نے ہمارا داخلی اور خارجی سطح پر مقدمہ کمزور کرکے رکھ دیا ہے۔
اگرچہ یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ دہشت گردی کے تناظر میں صورتحال ماضی سے کافی بہتر اور مختلف ہے مگر جو جنگ ہمیں فکری اور علمی بنیادوں پر ایک بڑے قومی بیانیہ کی سطح پر لڑنی ہے اس میں کافی مسائل اور تضادات نمایاں ہیں۔سانحہ سیالکوٹ جیسے واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ داخلی محاذ پر ہماری حکمت عملی اور عملدرآمد کے نظام میں بنیادی نوعیت کی خرابیاں ہیں۔ایک عمومی رویہ ریاستی، حکومتی سطح پر یہ غالب رہتا ہے کہ ہم عالمی سازشوں کا شکار ہیں۔ یہ پورا سچ نہیں بلکہ آدھا سچ ہے اور تسلیم کرنا ہوگا کہ ہمارا آدھا سچ داخلی سطح سے جڑے مسائل ہیں اور ان کا حل بھی ہمیں ہی تلاش کرنا ہوگا۔
پاکستان نے انتہا پسندی، شدت پسندی سمیت دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے قومی سطح پر چار مختلف نوعیت کی پالیسیوں پر مبنی حکمت عملیاں ترتیب دی ہوئی ہیں۔ ان میں سانحہ اے پی ایس کے نتیجہ میں بننے والا بیس نکاتی نیشنل ایکشن پلان، فرقہ واریت کے خاتمہ کے لیے پیغام پاکستان کی دستاویز، عورتوں کی شمولیت کے لیے دختران پاکستان پروگرام اور قومی سیکورٹی پالیسی جیسے اہم منصوبے یا پالیسیاں شامل ہیں جن کی بنیاد پر اس جنگ سے نمٹا جارہا ہے۔لیکن ہمارا مسئلہ حل ہونے کی بجائے زیادہ گھمبیر او رپیچیدہ ہوتا جارہا ہے۔یہ ہی وجہ ہے ہماری سیاسی اور عسکری قیادت سمیت اہم پالیسی ساز ادارے ان خطرات سے نمٹنے کے لیے مختلف نوعیت کی حکمت عملیاں ترتیب دیتے رہتے ہیں۔
لیکن ہمارا مسئلہ ان قومی حساس معاملات میں ایک ردعمل کی سیاست سے جڑا نظر آتا ہے۔ یعنی واقعات ہونے کی صورت میں ہمارا ردعمل بہت سخت ہوتا ہے او ربظاہر لگتا ہے کہ ہمیں نہ صرف ان واقعات پر تشویش ہے بلکہ ہم واقعی ان معاملات سے نمٹنا چاہتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی واقعات کی شدت میں کمی ہوتی ہے تو ہم بھی خاموش ہوجاتے ہیں۔ ہمیں لانگ ٹرم، مڈٹرم اور شارٹ ٹرم پالیسی سے جڑی حکمت عملی کی سطح پر بدستور کافی مسائل کا سامنا ہے۔ اصل مسئلہ پالیسی بنانا، قانون سازی کرنا یا بیانیوں کی تشکیل کے مراحل نہیں ہوتے بلکہ ان پر عمل کرنا اہم ہوتا ہے۔عملدرآمد کی بڑی ذمہ داری ریاستی اداروں اور حکومتی سیاسی کمٹمنٹ سے جڑی ہوتی ہے او روہ ان اہم طے شدہ پالیسیوں نگرانی، شفافیت او رجوابدہی کے نظام کی مدد سے آگے بڑھتی ہے۔
بیانیہ کی جنگ یا علمی و فکری محاذ پر لوگوں میں مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرنے کا عمل ریاستی یا حکومتی سطح پر کسی سیاسی تنہائی میں ممکن نہیں ہوتا۔ یہ عمل اسی صورت میں ممکن ہوتا ہے کہ جب ریاست او رحکومت خود بھی داخلی تضادات سے باہر نکلے او ردوسروں کو بھی اس بحران سے نکال کر ایک بڑی جنگ کو عملی بنیادو ں پر لڑے۔ عمومی طور پر بیانیہ کی جنگ علمی و فکری محاذ پر ہی لڑی جاسکتی ہے او راس میں ہمارے تعلیمی ادارے، مدارس سے جڑے استاد، محقق او رطالب علم ان محرکات کو پہلے سمجھیں اور پھر تجزیہ کرکے ایک متبادل حکمت عملی کا خاکہ قوم کے سامنے پیش کریں کہ ہم کو کیسے آگے بڑھنا ہے۔فرقہ وارانہ اور سیاسی بنیادوں پرتقسیم کے عمل نے اس انتہا پسندی کے رجحانات میں کمی کی بجائے اضافہ کیا ہے اور اس میں ہماری سیاسی اور مذہبی قیادت بھی برابر کی ذمہ دار ہے۔
میڈیا کے محاذ پر جو جنگ ہمیں انتہا پسندی او رپرتشدد رجحانات کے خلاف لڑنی تھی اس کے لیے ہم ابھی تک کوئی جامع پالیسی کوترتیب نہیں دے سکے۔سوشل میڈیا کے محاذپر موجود ہائبرڈ یا ففتھ جنریشن وار نے انتہا پسندی کی اور بگڑی شکلیں بناڈالی ہیں۔ نفرت انگیز مواد کی تشہیر، تعصب پر مبنی لٹریچر، فرقہ وارانہ او رلسانی معاملات کو ابھارنا، گالم گلوچ،تنقید کے مقابلے میں تضحیک اور عدم برداشت جیسے امو رنے اس جنگ کو اور زیادہ مشکل بناڈالا ہے۔وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین تسلسل کے ساتھ انتہا پسندی او رمیڈیا کے معاملات کو ریگولیٹ کرنے کی جو جنگ لڑرہے ہیں اس پر ان کو بدستور مسائل کا سامنا ہے۔بدقسمتی سے میڈیا سے جڑے افراد یا تنظیمیں خود بھی ان معاملات پر اپنا داخلی محاسبہ کرنے اور خود سے کوئی متبادل کوڈ آف کنڈکٹ بنانے کے لیے تیار نہیں۔فواد حسین چوہدری حکمران طبقہ میں ان لوگوں میں سے ہیں جو عملی طور پر انتہا پسندی کے خلاف ایک مضبوط آواز سمجھے جاتے ہیں۔ان کے بقول اگر اس مسئلہ کو ریاستی سطح پر سب فریقین نے مل کر کوئی مستقل علاج تلاش نہ کیا تو یہ مرض پورے ریاستی نظام کو بگاڑ کے رکھ دے گا۔ لیکن ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ اس اہم او رحساس معاملات پر ریاستی یا حکومتی سمیت معاشرے کے دیگر طبقات میں ایک بڑی تقسیم پائی جاتی ہے۔ یہ تقسیم اگر مگر کے ساتھ بلاوجہ انتہا پسندی کو ایک جواز فراہم کرتی ہے جو کہ مسئلہ کے حل کی بجائے اور زیادہ مسائل کو پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔
انتہا پسند عناصر کے بارے میں سیاسی سمجھوتوں کی کہانی نے بلاوجہ ان عناصر کو سیاسی طاقت فراہم کی ہے او روہ بغیر کسی ڈر او رخوف کے ریاستی نظام اور اس کی رٹ کو چیلنج کرتے ہیں۔انتہا پسند عناصر کا قومی دھارے میں آنا درست مگر اہم سوال یہ ہے کہ وہ اس قومی دھارے میں کن کی شرائط پر آنا چاہتے ہیں۔یعنی شرائط ریاست، آئین او رقانون کی ہوگی یا ان انتہا پسند عناصر کی اس فرق کو سمجھے بغیر اس مسئلہ کا حل مستقل طور پر نہیں نکل سکے گا۔اسی طرح انتہا پسندی کا مقابلہ کاایک چیلنج قانون کی حکمرانی سے جڑا ہوا ہے۔ قانون کی حکمرانی اسی صورت میں ممکن ہوتی ہے جب ریاستی سطح پر افراد کے مقابلے میں اداروں او ر قانون کی حکمرانی ہو۔ ہمیں اس وقت ریاستی محاذ پر ایک بڑا چیلنج ادارہ جاتی عمل میں اصلاحات کی صورت میں موجود ہے۔لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں جو اداروں سمیت سیاست کے اندر ایک بڑا مافیا کا گٹھ جوڑ ہے وہ حکومتی اور ریاست کے مقابلے میں نہ صرف طاقت ور ہے بلکہ اصلاحات میں بڑی رکاوٹ بھی پیدا کرتے ہیں۔
ریاستی اور حکومتی سطح پر اہم کام انتہا پسندی کی جنگ میں قوم کو یکجا کرنا ہے۔ لیکن اس کے لیے جو ریاستی وحکومتی سطح پر جھول ہے اس کو دور کرکے ہی قوم کو یکجا کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح جو بھی ریاستی نظام او راس کی رٹ کو چیلنج کرتا ہے یا جتھوں کی بنیاد پرطاقت کے استعمال سے اپنی مرضی یا اپنا فیصلہ لوگوں پر مسلط کرتا ہے یا تشدد کو بطور ہتھیار استعمال کرتا ہے اس کے خلاف ہر طرح کے سمجھوتوں کی سیاست کا خاتمہ کرنا ہوگااور اس تاثر کی نفی کرنا ہوگی کہ ان عناصر کو ریاست یا حکومت میں کہیں نہ کہیں سیاسی سرپرستی حاصل ہے۔اس میں حکومت کو خاص طور پر نوجوان نسل چاہے وہ پڑھی لکھی ہو یا ناخواندہ ہو، رسمی تعلیم میں ہوں یا مدارس سے جڑی تعلیم یا شہروں میں ہو یا دہیات میں بشمول لڑکیوں کو امن کی جنگ میں ایک بڑے سفیر کے طور پر استعمال کرنا ہوگا اور ان کو ترغیب دینی ہوگی کہ وہ سوشل میڈیا کی مدد سے کیسے اس بیانیہ کی جنگ میں ذمہ داری کا کردار ادا کرسکتے ہیں۔جو کھیل نفرت کا سوشل میڈیا پر جاری ہے اس کے متبادل بیانیہ میں نوجوان ہی کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں۔
اس عمل میں محض تقریروں کی بجائے عملی سرگرمیاں ترتیب دینی ہوں گی۔ خاص طور پر نوجوانوں کی صحت مندانہ سرگرمیاں، کھیل اور مثبت تعمیری کام کو بنیاد بنا کر نوجوانوں کو امن کی جنگ میں حصہ بنا کر ہم عملی طور پر بیانیہ کی جنگ جیت سکتے ہیں۔اس لیے اب وقت آگیا ہے کہ ہم پہلے سے موجود پالیسیوں میں موجود خامیوں کا تجزیہ کرکے اپنی خامیوں کو تسلیم کریں۔کیونکہ ہماری سیاسی قیادت کو اس جنگ کی قیادت کرنی ہے اور جو غیر معمولی حالات ہیں ان میں غیر معمولی اقدامات کے ساتھ آگے بڑھ کر قومی ذمہ داری کا حق ادا کرنا چاہیے۔