سرائیکی شناخت، علیحدگی کی تحریک نہیں
- تحریر نصرت جاوید
- جمعہ 10 / دسمبر / 2021
- 5210
بدھ کی سہ پہر سے اپنا سر پکڑے بیٹھا ہوں۔ دوستوں اور شناساؤں کی جانب سے واٹس ایپ کی بدولت ایک وڈیو کلپ ملتی رہی۔ لاہور کی نجی شعبے میں چلائی یونیورسٹی سے منسلک رہے ایک پروفیسر اس وڈیو میں کسی تقریب سے خطاب کر رہے ہیں۔
موصوف کو مطالعۂ پاکستان کہلاتے مضمون کا ماہر گردانا جاتا ہے۔ کیوں؟ اس سوال کا جواب مجھ جاہل کے پاس موجود نہیں۔ قیام پاکستان کی وجوہات سمجھنے کو اگرچہ میں نے کئی کتابیں بہت غور سے پڑھ رکھی ہیں۔ اس ضمن میں ہوئی جستجو کے سفر سے گزرتے ہوئے میں نے مذکورہ پروفیسر کا ذکر کبھی نہیں سنا۔ بہرحال موصوف کو اب اس اتھارٹی کا مدارالمہام بھی بنا دیا گیا ہے جو وزیر اعظم عمران خان صاحب نے پرخلوص عقیدت ولگن سے قائم کی ہے۔ مقصد اس اتھارٹی کا ہمارے نبی پاکﷺ کی حیات طیبہ کے ان تمام پہلوؤں کو علمی تحقیق کے جدید تر ذرائع استعمال کرتے ہوئے دنیا کے روبرو لانا ہے جنہوں نے انہیں ہمارے لئے ہی نہیں بلکہ پوری کائنات کے لئے بھی مجسم رحمت بنا دیا۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تقریر میں لیکن آپﷺکی ذات بابرکت کا ذکر نہیں ہوا۔ پاکستان کی بقا کو یقینی بنانا غالباً پروفیسر صاحب کی وائرل ہوئی تقریر کا بنیادی موضوع تھا۔ اس موضوع پر توجہ دیتے ہوئے موصوف نے نہایت اعتماد سے دعویٰ کیا کہ صہیونیت کا ایک عالمی ایجنڈا ہے۔ پاکستان کی تباہی اس کا کلیدی ہدف ہے۔ اس ہدف کے حصول کے لئے سندھو دیش کے خواب دکھائے جاتے ہیں۔ پختون قوم پرستی کے جذبات اکسانے کے لئے پی ٹی ایم نامی تنظیم بھی کھڑی کردی گئی ہے۔ پاکستان کو لسانی اور نسلی بنیادوں پر تقسیم کرنے والی سازشوں کا ذکر میں 1960 کی دہائی سے سنتا چلا آ رہا ہوں۔ سکول کا طالبعلم تھا تو پاکستان مغربی اور مشرقی حصوں پر مشتمل تھا۔ ہمارے گھر آنے والے اخبارات اور رسائل اگرچہ تسلسل سے مجھے بتاتے رہے کہ پاکستان کے ازلی دشمنوں نے مشرقی پاکستان میں شعبہ تعلیم کو اپنا یرغمال بنالیا ہے۔ وہاں پر چھائے اساتذہ کمال ہوشیاری سے معصوم ذہنوں کو نظریہ پاکستان کے بنیادی اصولوں پر سوال اٹھانے کی ترغیب دیتے ہیں۔ 1971 کے دسمبر میں ہوئے سقوط ڈھاکہ کو اس سازش کا منطقی نتیجہ بتایا گیا۔
مشرقی پاکستان بنگلہ دیش میں بدل گیا تو ہمیں یہ فکر لاحق ہو گئی کہ بقیہ پاکستان کو نسلی اور لسانی تفریق سے کیسے محفوظ رکھا جائے۔ اس ضمن میں سندھودیش نامی تحریک کا ذکر تو ہوا مگر بھرپور توجہ نیشنل عوامی پارٹی نامی سیاسی جماعت کو تباہ کرنے پر مرکوز رکھی گئی۔ یہ پختون اور بلوچ قوم پرستوں کی نمائندہ جماعت تھی۔ اس جماعت نے 1973 ء کے آئین کو متفقہ طور پر منظور کروانے میں اہم ترین کردار ادا کیا تھا۔ ان کی حب الوطنی اس کے باوجود مشکوک گردانی گئی۔ بالآخر اس جماعت کو سپریم کورٹ کے ہاتھوں کالعدم ٹھہرادیا گیا۔ حیدر آباد کی جیل میں اس کے ولی خان اور غوث بخش بزنجو جیسے رہ نماؤں پر غداری کے مقدمات بھی چلائے گئے۔
ابھی ان مقدمات کا حتمی نتیجہ برآمد ہی نہیں ہوا تھا کہ جنرل ضیاء نے 1977 میں مارشل لاء لگادیا۔ وہ اسلام اور نظریہ پاکستان کے کٹر محافظ شمار ہوتے تھے۔ اس شہرت کے باوجود انہو ں نے ولی خان اور ان کے ساتھیوں کے خلاف درج ہوئے مقدمات ختم کردیے۔ ان کے ساتھ دوستانہ ملاقاتیں بھی کرتے رہے۔ سندھودیش کے پیغامبر شمار ہوتے جی ایم سید کو بھی وہ تواتر سے پھولوں کے گلدستے بھجواتے رہے۔ مجھ جیسے سادہ لوح پاکستانی کبھی سمجھ ہی نہ پائے کہ مبینہ غداروں کے ایسے نخرے کیوں اٹھائے جا رہے ہیں۔ ہمیں اگرچہ یہ سمجھانے کی کوشش ہوتی رہی کہ جنرل ضیاء الحق کے مشفقانہ رویے نے پشتون اور بلوچ قوم پرستی کے جذبات کا خاتمہ کر دیا ہے۔ سندھودیش کے خواب بھی ان کی وجہ سے چکنا چور ہو گئے ہیں۔
عمران خان صاحب کی جانب سے ایک اہم اتھارٹی میں تعینات ہوئے پروفیسر صاحب کو یہ بھی یاد نہیں رہا کہ ان کے مربی کی بنائی جماعت یعنی تحریک انصاف 2013 سے ماضی میں سرحد اور اب خیبرپختونخوا کہلاتے صوبے میں مسلسل برسراقتدار ہے۔ ہمارے وزیر اعظم طالبان کی کابل میں فاتحانہ واپسی کی بابت بھی بہت شاداں محسوس کر رہے ہیں۔ ان کے ہوتے ہوئے صہیونیت کم از کم پشتون علاقوں میں تو پاکستان دشمن جذبات پھیلا نہیں سکتی۔ بلوچستان میں بھی ان کی جماعت باپ نامی جماعت کے ساتھ مل کر نیا پاکستان تشکیل دے رہی ہے۔ پاکستان کی بقاء کے بارے میں انتہائی فکر مند نظر آتے پروفیسر صاحب ایسے ٹھوس اور مثبت حقائق کے بارے میں لاعلم نظر آئے۔ سندھودیش اور پشتون قوم پرستی کا ذکر تو ویسے بھی مجھ جیسے لوگ بچپن سے سن رہے تھے۔ پروفیسر صاحب کی نگاہ دوربین نے مگر جنوبی پنجاب میں بھی علیحدگی پسندی کے رجحانات دریافت کرلئے ہیں۔
1975 سے پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر بطور رپورٹر مسلسل نگاہ رکھے ہوئے ہوں۔ اس کی بدولت سرائیکی شناخت کو اجاگر کرنے والی تحریک کے بارے میں بھی باخبر ہوں۔ میری دانست میں اس کا بنیادی مقصد محض لسانی اور ثقافتی شناخت کو اجاگر کرنا ہے۔ سیاسی اعتبار سے اگرچہ یہ مطالبہ بھی ہوتا ہے کہ سرائیکی بولنے والوں کی اکثریت رکھنے والے جنوبی پنجاب کے علاقوں کو الگ صوبہ بنا دیا جائے۔ بنیادی طور پر یہ ریاستی انتظام سے جڑا معاملہ ہے۔ تخت لہور کی بالادستی سے پریشان۔ پاکستان سے علیحدہ ہو کر سرائیکستان نامی ملک بنانے کی تحریک کم از کم مجھے تو کبھی نظر نہیں آئی۔
جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے والا مطالبہ اگرچہ وقتاً فوقتاً بہت شدت سے ابھرتا ہے۔ آخری بار یہ مطالبہ مخدوم خسروبختیار نے 2018 کے انتخاب کے قریب بہت شد و مد سے اٹھایا تھا۔ جنوبی پنجاب صوبے کے لئے تحریک چلانے ہی والے تھے تو عمران خان صاحب نے ان سے رابطہ کیا اور خسروبختیار اور ان کے ساتھیوں نے اپنی تنظیم کو فی الفور تحریک انصاف میں مدغم کر دیا۔ اب وہ عمران حکومت کے طاقت ور وزیروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے چھوٹے بھائی پنجاب کی اہم ترین وزارت کے منصب پر براجمان ہیں۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ جناب عثمان بزدار صاحب کا تعلق بھی سرائیکی علاقے سے ہے۔ ان کے علاوہ وفاقی حکومت کے اہم ترین وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی تو خاندانی اور روحانی اعتبار سے سرائیکی وسیب کی علامت شمار ہوتے ہیں۔
ایسے قدآور لوگوں کے ہوتے ہوئے بھی لیکن لاہور کی نجی یونیورسٹی میں مطالعہ پاکستان پڑھاتے پروفیسر صاحب سرائیکی شناخت سے محبت کو پاکستان توڑنے کی سازش ٹھہرارہے ہیں۔ ان کی فکر مندی دیکھتے ہوئے امید باندھ رہا ہوں کہ عمران خان صاحب وفاقی اور پنجاب حکومت میں شامل سرائیکی علاقوں سے آئے اپنے تمام وزراء کی مذکورہ پروفیسر صاحب سے ملاقات کروائیں گے۔ فقط یہ پروفیسر صاحب ہی عثمان بزدار، شاہ محمود قریشی اور مخدوم خسرو بختیار جیسے سرائیکیوں کو سمجھاسکتے ہیں کہ ان کے زیر اثر علاقوں میں پاکستان سے علیحدگی کے جذبات کیسے پھیل رہے ہیں۔ شاید ان کے دیے لیکچر کے بعد مذکورہ صاحبان اقتدار وجاہ وجلال بیدار ہو کر پاکستان کی بقا کو یقینی بنانے میں اپنا بھرپور حصہ ڈالنے کو آمادہ ہوجائیں۔
(بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت)