عمران خان، نواز شریف سے سیاسی بازی ہار رہے ہیں

وزیر اعظم عمران خان نے ایک بار پھر قومی دولت لوٹنے والوں کو کسی صورت این آر او نہ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا  ہے کہ بدعنوان اور کرپٹ عناصر کے سوا،  وہ ہر قسم کے لوگوں اور گروہوں سے بات کرنے اور مل جل کر مسائل حل کرنے پر تیار ہیں۔  عمران خان  نے  یہ  اعلان  تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے   جنگ بندی  ختم کرنے اور  ایک بار پھر حملے شروع کرنے کا  پیغام سامنے آنے کے بعد  کیا ہے۔ ان دو واقعات میں کوئی تعلق نہ بھی ہو  توبھی ٹی ٹی پی کی خود سری اور وزیر اعظم کی نرم خوئی سے یہی سمجھا جائے گا کہ حکومت شدت پسند عناصر کے سامنے مسلسل پسپا ہورہی ہے۔

بظاہر وزیر اعظم عمران خان نے میانوالی کے دورہ کے دوران مذاکرات کی بات مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے لیڈروں کے تناظر میں کی ہوگی ۔ ان کا مقصد اپنے ووٹر تک یہ پیغام پہنچانا تھا  کہ انہوں نے تمام تر دباؤ کے باوجود  بدعنوانی عناصر کے سامنے  ہتھیار نہیں پھینکے لیکن  عمران خان کو یہ بھی احساس ہونا چاہئے تھا کہ وہ   حکومتی سربراہ ہیں اور ایک روز پہلے ہی ایک شدت پسند گروہ حکومت کی مصالحانہ کوششوں کو مسترد کرکے یہ بتاچکا ہے کہ نہ تو انہیں کمزور سمجھا جائے اور نہ ہی وہ کسی معاہدے کے لالچ میں اپنی حرکتوں سے باز آنے پر تیار ہیں۔ اسی اعلان کا نتیجہ ہے کہ آج خیبر پختون خوا  میں ٹانک کے مقام پر ایک پولیو ٹیم پر حملہ کرکے اس کی حفاظت پر  مامور ایک پولیس افسر کو ہلاک کردیا گیا اور فوری طور سے تحریک طالبان نے اس کی ذمہ داری قبول کی۔ اس سے حکومت کی پسپائی اور کمزوری  کا واضح تاثر سامنے آیاہے۔

گزشتہ ماہ کے دوران ممتاز وفاقی وزرا ٹی ٹی پی کے ساتھ مصالحت کی بات چیت اور جنگ بندی کے فیصلہ پر گرمجوشی کا مظاہرہ کرتےرہے تھے اور یہ دعویٰ بھی کیا جارہا تھا کہ اب ملک میں انتشار اور بدامنی کا خاتمہ ہوجائے گا ۔ فطری طور  سے عمران خان کی  ’شاندار حکمت عملی‘ کو اس کا کریڈٹ دینے کی مکمل کوشش بھی کی گئی۔ تاہم گزشتہ روز جب  تحریک طالبان کا لیڈر نور ولی  محسود ایک بار پھر پاکستان کے خلاف دہشت گردی شروع کرنے کا اعلان کررہا تھا تو کسی وزیر کو اس کا جواب دینے یا صورت حال کی وضاحت کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ ایک ماہ پہلے جو واقعہ ایک بہت بڑی خبر اور پیش رفت کے طور پر پیش کیا گیا تھا، اب اس پر پوری حکومت کی خاموشی حیران کن تھی۔ تاہم  ایک ہی روز بعد ٹی ٹی پی کے باغیانہ بیان پر کوئی تبصرہ کرنے کی بجائے جب عمران خان ایک بار پھر مصالحت کی بات کرتے دکھائی دیے تو ان کا یہ بیان حکومت کی کمزوری اور ناقص حکمت عملی کی علامت بن کر  سامنے آیا ہے۔

یہ درست ہے کہ وزیر اعظم دراصل ایک بار پھر نواز شریف کو نشانہ بنا کر  تحریک انصاف کے ووٹروں  کو  یہ دھوکہ دینے کی کوشش کررہے تھے کہ ان کی حکومت کرپشن کے خلاف سینہ سپر ہے۔ عمران خان    کا خیال  ہے کہ معاشی اور سفارتی لحاظ سے متعدد  معاملات پر حکومت کی مسلسل پسپائی کے بعد اب کرپشن کا نعرہ ہی  انہیں کوئی ایسی سیاسی بنیاد فراہم کرسکتا ہے جو مستقبل میں ان کی سیاسی فیس سیونگ کے کام آئے گا۔ عمران خان ضرور یہ خواہش رکھتے ہیں کہ وہ آئیندہ انتخابات میں بھی کامیابی حاصل کریں لیکن معروضی حالات میں اس بات کا امکان دکھائی نہیں دیتا۔ بلکہ تسلسل سے یہ اطلاعات سامنے آرہی ہیں کہ اسٹبلشمنٹ کے ساتھ تبدیل ہوتے تعلقات کی روشنی میں کسی بھی وقت کوئی ایسی صورت حال رونما ہوسکتی ہے کہ قومی اسمبلی میں عدم اعتماد کی تحریک پیش ہوجائے اور حکومت  کے پاس اسے ناکام بنانے کے لئے مناسب تعداد میں ووٹ بھی نہ ہوں۔

 میانوالی میں وزیر اعظم کے ’دائیں بائیں، بلوچستان اور جنوبی وزیرستان کے تمام عناصر سے مصالحت‘ کے بیان سے البتہ  کرپشن کے خلاف بیانیہ  مضبوط ہونے کا امکان نہیں ہے لیکن ٹی ٹی پی کی جارحیت اور سرکشی کے جواب میں  سربراہ حکومت کا مصالحت پر اصرار کسی ممکنہ مصالحت کی کوششوں کو ناکام بنائے گا۔ تحریک انصاف اور عمران خان نے اپنی پالیسی کے ذریعے خود ہی یہ تاثر عام کیا ہے کہ  وہ دباؤ کا سامنا نہیں کرسکتے۔ جب بھی کوئی گروہ   حکومت کو چیلنج کرتا ہے تو وہ پسپائی اختیار کرتی ہے اور اسے ’ہر جنگ کا اختتام مصالحت پر ہوتا ہے‘ کا نام دے کر سرخرو ہونے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ٹی ایل پی کے سامنے ہتھیار پھینکنے کے بعد ٹی ٹی  پی سے سلسلہ جنبانی کرتے ہوئے بھی یہی طرز عمل  دیکھنے میں آیا تھا۔ اسی لئے عمران خان کو کرپشن کے خلاف اپنے ناکام بیانیہ کو نئی زندگی دینے کے لئے کسی دوسرے وقت  یا موقع کا انتظار کرنا چاہئے تھا تاکہ اسے  حکومت کی  کمزوری کی بجائے پالیسی  سمجھا جاسکتا ہے ۔  ایک گروہ کی سرکشی کا  جواب دیے بغیر  مصالحت اور کرپشن کے  بیانیہ کو ملا کر پیش کرنے سے  خود وزیر اعظم  دفاعی پوزیشن میں دکھائی دینے لگے ہیں۔  فی  البدیہہ تقریر کا شوق اپنی جگہ لیکن ملک کے وزیر اعظم کو موقع کی مناسبت  سے   گفتگو  کرنی چاہئے اور ایسے بیان سے پرہیز کرنا چاہئے جس سے  حکومت اور مملکت بیک وقت کمزور اور بے بس بھی دکھائی دینے لگیں۔

سیاسی مخالفین کے خلاف  بدعنوانی کا مقدمہ مضبوط کرتے ہوئے عمران خان کو ٹرانسپرنسی  انٹرنیشنل پاکستان کے حالیہ جائزے پر نگاہ ڈال لینی چاہئے تھی جس میں 85 فیصد لوگوں نے  کہا ہے کہ موجودہ حکومت خود احتسابی میں ناکام ہے۔  لگ بھگ 67 فیصد لوگوں کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کا احتساب جانبدارانہ ہے۔ اس کے علاوہ اس سروے میں  چار  شعبوں  کو بدعنوانی میں سر فہرست قرار دیا گیا تھا۔   عوامی رائے کے مطابق  بدعنوانی میں پولیس پہلے اور عدلیہ  دوسرے نمبر پر ہے۔ جبکہ تیسرے نمبر پر ٹینڈر اور ٹھیکے دینے کا عمل آتا ہے  اور شعبہ صحت بدعنوانی کے حوالے سے چوتھے نمبر پر پہنچ گیا ہے۔  سیاسی مخالفین  کے خلاف  بدعنوانی کا مقدمہ مضبوط کرنے کے  شوق میں عمران خان یہ بھول جاتے ہیں کہ ان سب شعبوں میں اصلاحات اور اور صورت حال کو بہتر بنانے کا کام تو  حکومت ہی کرسکتی ہے لیکن اگر وہ ملک کے نظام میں کرپشن کا خاتمہ کرنے میں ناکام رہے ہیں تو وہ عوام  کو  کیسے  یقین دلائیں  گے کہ وہ اب بھی  بدعنوانی کے خلاف سینہ سپر ہیں۔ اسے سیاسی مناقشت اور ضد ہی کہا جائے گا  جس کی وجہ سے ملک پہلے ہی مشکلات  میں گھرا ہؤا ہے۔

دوسروں کے خلاف کرپشن کا مقدمہ پیش کرتے ہوئے اور کبھی اس مقصد کو ترک نہ کرنے کا اعلان کرنے کے باوجود عمران خان خود اپنی صفوں میں موجود بدعنوان عناصر کا احتساب کرنے  میں ناکام ہیں۔  تحریک انصاف 7 سال گزرنے کے باوجود فارن فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن کو مطمئن کرنے اور اس معاملہ میں ذمہ داری قبول کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ اب بھی جوابی الزام  تراشی اور   بیانات سے کام چلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔  اس سال اکتوبر کے شروع میں   جاری ہونے والے پنڈورا پیپرز میں متعدد حکومتی عہدیداروں کے نام سامنے آئے  تھے لیکن وزیر اعظم اپنے کسی ساتھی کے خلاف تحقیقات کروانے یا اس کے جرائم سامنے لانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔  اسی طرح دو ہفتے پہلے آئی ایم ایف کے دباؤ پر وزارت خزانہ کو کورونا مصارف کی آڈٹ رپورٹ  ظاہر کرنا پڑی۔ اس رپورٹ میں چالیس ارب روپے کی بدعنوانی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ قومی دولت چوری کرنے کے معاملے پر آہ و زاری کرنے اور اخلاقی درس دینے والے وزیر اعظم نے اس معاملہ کو بھی دبانے اور اس رپورٹ کو مسترد کرنے ہی میں عافیت سمجھی۔  انہیں یہ جاننے کی خواہش نہیں ہوئی کہ وبا  کے فنڈز میں خرد برد ایک سنگین معاملہ ہے  اور اس میں ذمہ داروں کا تعین ہونا بہت ضروری ہے۔ اس کے برعکس وہ متعدد شعبوں میں اپنے چہیتوں کی حفاظت کرتے دکھائی دیے۔ اس  حکومتی رویہ سے   کرپشن کا مقدمہ کمزور ہؤا ہے اور لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ معاملہ  کرپشن کی بجائے سیاسی اختلاف اور حصول اقتدار  کا ہے۔

تاہم بدعنوانی کے خلاف مہم جوئی کے دعوؤں کو سب سے زیادہ نقصان  حکومتی  ناقص کارکردگی نے پہنچایا ہے۔ حکومت معاشی اصلاح کا کوئی منصوبہ کامیابی سے نہیں چلا سکی ۔ ملک میں روز افزوں مہنگائی کو بدستور بیرونی عوامل اور  کورونا وبا سے منسلک کرکے    حکومت گو کہ سیاسی  طور سے اپنا بچاؤ کرنے کی تدبیر کرتی ہے لیکن  یہ دلائل اتنے کمزور اور بے معنی ہیں کہ لوگ ان سے مطمئن نہیں ہوتے۔  وزیر اعظم خود اور ان کے وزرا  مغربی ممالک یا  علاقے کے دیگر ملکوں میں اشیائے صرف کی قیمتوں کا حوالہ دے پر پاکستان کو سب سے سستا ملک ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکں معلومات عام ہونے کے اس دور میں عام شہری  بھی یہ جانتا ہے کہ قوت خرید   کا درست تخمینہ آمدنی و اخراجات کے توازن  سے ہی سامنے آسکتا ہے۔ ایسے جائزوں میں پاکستان کے شہری سب سے پیچھے کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔

 بدعنوانی کی بنیاد پر   مخالف سیاسی لیڈروں اور خاص طور سے نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) سے  ’مصالحت ‘   نہ کرنے یا این آر او  نہ دینے کی بات کرتے ہوئے وزیر اعظم کو اب یہ بھی سوچنا چاہئے کہ جن لوگوں کو وہ  اصرار سے معافی نہ دینے کا اعلان کرتے ہیں یا جن کے ساتھ مصالحت سے انکار  کررہے ہیں، کیا وہ خود بھی ایسی کسی معافی کے خواہاں ہیں یا عمران خان کو  محفوظ سیاسی ر استہ دینے پر آمادہ ہوں گے۔ عمران خان جانتے ہیں کہ  سیاست کی بازی میں اب  طاقت ور  پتّے نواز شریف کے ہاتھ میں ہیں۔ وہ  کیوں عمران خان  سے مصالحت کرکے جیتی ہوئی بازی ہاریں گے؟