خیبرپختونخوا میں لگاتار دوسرے دن پولیو ٹیم پر حملہ، پولیس اہلکار قتل

  • اتوار 12 / دسمبر / 2021
  • 3050

صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع ٹانک میں لگاتار دوسرے دن پولیو ٹیم پر حملہ کیا گیا اور پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیمز کی سیکیورٹی پر مامور پولیس اہلکار کو قتل کردیا گیا۔

پولیس اور پولیو پروگرام کے حکام نے بتایا کہ فائرنگ کا واقعہ ایس ایم اے پولیس تھانے کی حدود میں گرہ شدہ کے علاقے میں پیش آیا۔ ڈسٹرک پولیس افسر (ڈی پی او) سجاد احمد نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ پولیس اہلکار ڈیرہ اسمٰعیل خان کے قریب کولاچی کے علاقوں میں بنیادی صحت کے مرکز میں پولیو ٹیمز کی سیکیورٹی پر تعینات تھا۔

انہوں نے بتایا کہ صوبے میں 5 روزہ پولیو مہم کے دوران بنیادی صحت کے مرکزمیں پولیو ٹیم کے لیے 2 اہلکار تعینات کیے گئے تھے اور اہلکار کو اسی مرکز کے باہر نشانہ بنایا گیا۔ ڈی پی او نے کہا کہ ’اہلکار دکان سے کوئی چیز خریدنے کے لیے مرکز صحت سے باہر نکلا تو ایک مسلح شخص اس پر فائر کر کے پیدل فرار ہوگیا۔

مقتول اہلکار کی شناخت نذیر خان کے نام سے ہوئی جو موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ حملے کے فوراً بعد سیکیورٹی اہلکار اور محکمہ انسداد دہشت گردی کی ٹیمز جائے وقوع پر پہنچ گئیں تاہم اس سلسلے میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

دوسری جانب ضلع لکی مروت میں بھی پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں پر حملہ ہوا۔ پولیس پروگرام کے فوکل پرسن ایمل خان نے بتایا کہ ایک مسلح شخص نے ان کی ٹیم کے ہمراہ موجود پولیس اہلکار پر فائر کیا جس کے نتیجے میں اہلکار پاؤں میں گولی لگنے سے زخمی ہوگیا۔ زخمی پولیس اہلکار نے فوری طور پر جوابی فائر کیا اور فائرنگ کے تبادلے میں حملہ آور بھی زخمی ہوا۔

خیال رہے کہ یہ 2 روز میں پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں پر حملے کا تیسرا واقعہ ہے جن میں 2 اہلکار شہید ہو چکے ہیں۔ گزشتہ روز ضلع ٹانک میں پولیو ٹیم پر ہوئے ایک حملے کے نتیجے میں ایک حوالدار شہید اور ایف سی کا جوان زخمی ہوگیا تھا۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے واقعے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ حملے میں 2 پولیس اہلکار قتل ہوئے تھے۔