وزیر اعظم نے گوادر کے ماہی گیروں کے مطالبات کا نوٹس لے لیا
- اتوار 12 / دسمبر / 2021
- 3230
وزیرِ اعظم عمران خان نے گوادر کے ماہی گیروں کے جائز مطالبات کا نوٹس لے لیا ہے۔ انہوں نے یہ بات ٹوئٹر پر جاری ایک بیان میں کہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ٹرالرز کے ذریعے غیر قانونی ماہی گیری کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔ غیر قانونی ٹرالرز سے مچھلی کے شکار پر وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سے بات کروں گا۔ واضح رہے کہ گزشتہ 27 روز سے گوادر میں ’بلوچستان کوحق دو تحریک‘ کا دھرنا جاری ہے جس نے تاریخ رقم کی ہے۔
گوادر میں گزشتہ روز ہزاروں افراد کی تاریخی احتجاجی ریلی میں سڑکوں پر انسانوں کا سمندر امڈ آیا۔ دھرنے کی کمان خواتین نے سنبھال رکھی تھی۔ ’بلوچستان کوحق دو‘ تحریک کے روحِ رواں مولانا ہدایت الرحمٰن کا کہنا تھا کہ عزتِ نفس کی بحالی اور بنیادی حقوق پر سمجھوتا نہیں کریں گے۔ صوبائی حکومت کو بہانے تلاش کرنے کا موقع نہیں دیں گے، حق لے کر رہیں گے۔
بلوچستان کے ممتاز سیاستدان عبدالحکیم لہڑی اور سابقہ صوبائی وزیر میر اسلم بلیدی نے دھرنے میں شرکت کر کے تحریک کی حمایت کا اعلان کیا۔ خیال رہے کہ جماعت اسلامی بلوچستان کے جنرل سیکریٹری مولانا ہدایت الرحمٰن کی قیادت میں ساحلی شہر کے لوگوں نے 28 روز قبل ’گوادر کو حق دو‘ تحریک کا آغاز کیا تھا۔
اس سلسلے میں ہونے والے احتجاجی دھرنوں میں خواتین اور بچوں سمیت عوام کی بڑی تعداد شریک ہے، جن کا مطالبہ ہے کہ پینے کا صاف پانی اور ’ٹرالر مافیا’ کا خاتمہ کیا جائے۔ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں وزیراعظم نے کہا ہے کہ میں نے گوادر کے محنتی ماہی گیروں کے انتہائی جائز مطالبات کا نوٹس لیا ہے۔
وزیراعظم نے ٹرالرز کی جانب سے غیر قانونی ماہی گیری کے خلاف سخت اقدامات کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس سلسلے میں وہ وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو سے بھی بات کریں گے۔
وزیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو نے کہا ہے کہ گوادر دھرنے کے 16 مطالبات حکومت نے پورے کر دیے ہیں جبکہ تین مطالبات وفاقی حکومت کے ہیں۔
قبل ازیں ڈان ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے احتجاج کی قیادت کرنے والے مولانا ہدایت الرحمٰن نے کہا تھا کہ مجموعی طور پر 19 میں سے کم سے کم دو بنیادی مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا، جس میں ٹرالر مافیا کے خلاف کارروائی اور ایرانی سرحد پر درپیش مسائل کا حل شامل ہے۔