احتساب کا ڈراپ سین: عوامی راحتوں کا خیالی پلاؤ
- تحریر امتیاز عالم
- اتوار 12 / دسمبر / 2021
- 4440
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی پاکستان میں کرپشن کے حوالے سے شرمناک ترین رپورٹ پر ابھی پشیمانی ختم نہیں ہوئی تھی کہ وزیراعظم عمران خان نے پشاور میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کے دوران ایک حیرتناک نیا پاکستان کارڈ میں شامل چھ احساس پروگرامز کا اعلان کر کے حیرت زدہ کردیا۔
نوجوانوں کی تکنیکی تربیت کو چھوڑ کر دیگر پانچ پروگرام پر جو خرچ آنا ہے وہ پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار
کے تقریباً مساوی ہے۔ پاکستان کا کل جی ڈی پی 280 ارب ڈالرز ہے۔ 177روپے کی ڈالرز سے شرح تبادلہ پر یعنی 49560 ارب روپے جبکہ 5 احساس پروگرام پہ اُٹھنے والا خرچ 49258 ارب روپے بنتا ہے۔ طلبا اور نوجوانوں کے لیے قرضے علیحدہ ہیں۔ نیا پاکستان کارڈ کا اعلان چونکہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے دو روز بعد ہوا تو ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کو خبر نہ تھی کہ عوامی سہولیات کے لیے اعلان کردہ احساس پروگراموں میں اس قدر گمراہ کن و خوش کن تاریخی جھوٹ اتنی ڈھٹائی سے بولے جاسکتے ہیں۔ (کاش! یہ اعلانات گمراہ کن نہ ہوتے؟)
پہلے ہم ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی 2021 کے کرپشن پرسیپشن انڈیکس کو دیکھتے ہیں جس کے لیے ملک کے طول و عرض میں 14 سے 27 اکتوبر کے درمیان رائے عامہ جاننے کے لیے سروے کیے گئے۔ خیر سے کرپشن سے پاک عمران حکومت کے دور میں کرپٹ ممالک کی فہرست میں پاکستان کا نمبر 180 ملکوں میں 120 سے 124ویں نمبر پر گرگیا ہے یعنی کرپشن میں مزید چار درجے اضافہ ہوا ہے۔
کرپشن کو جڑ سے اُکھاڑنے اور چوروں اور کرپٹ سیاستدانوں کا کڑا احتساب کرنے کے ایجنڈے پہ قائم ہونے والی حکومت کے بارے میں 85.9فیصد عوام نے عمران حکومت کے احتساب پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے بلکہ ان کی حکومت میں کرپشن اور بڑھ گئی ہے۔ بھاری اکثریت کے خیال میں وفاقی حکومت کی خود احتسابی بھی اطمینان بخش نہیں، جبکہ 66.8 فیصد لوگوں کی رائے میں احتساب یک طرفہ ہے۔ مہنگائی سے بلبلاتے عوام میں 92.9 فیصد کی رائے میں موجودہ حکومت کے دور میں انہیں بدترین مہنگائی کا سامنا ہے اور 85.9 فیصد کے تئیں ان کی آمدنی اور قوت خرید کم ہوگئی ہے۔
پولیس اور عدلیہ میں اصلاحات لانے کی دعویدار حکومت کے دور میں پولیس کرپشن میں (41فیصد) اول اور عدلیہ (17.4 فیصد) دوسرے نمبر پر آئی ہے۔ پولیس کی اصلاحات کے بار بار دعوے کیے گئے لیکن اس کی حالت اور بگڑ گئی۔ عدلیہ کی حالت بھی بہتر نہ ہوئی۔ اب کرپشن اور احتساب کا ایجنڈا اپنی ساکھ کھو بیٹھا تو عمران حکومت کو عوامی فلاح کے سنہرے خوابوں کا نمائشی و فرضی ماحول بنانے کی سوجھی کہ اب عام انتخابات کا موسم شروع ہوا چاہتا ہے۔
نہایت ہی نفیس خاتون محترمہ ثانیہ نشتر کرتیں بھی کیا کہ انہیں صبح و شام خان صاحب کی فرمائشوں کی تکمیل کے لیے نت نئے منصوبوں کا اعلان کرنے پہ مجبور کیا گیا۔ کبھی وہ بے گھروں کے لیے چھتیں فراہم کرتیں اور آرام گاہیں بناتی نظر آئیں، تصویریں کھنچیں اور دو چار جگہ پہ یہ بنیں بھی اور ویران ہوگئیں۔ پھر بھوکوں کے لیے دسترخوان بنوائے گئے۔ دو چار ٹرکوں پہ کھانا فراہم کرنے کا بندوبست کیا گیا، خان صاحب بہ نفس نفیس معائنہ کرنے پہنچے اور جانے پھر گھومتے پھرتے ٹرک کہاں غائب ہوگئے۔ پوچھنا پڑتا ہے کہ وہ جو پبلک ٹائلٹس کا پروگرام شروع کیا گیا تھا، اب جو پشاور میں اعلان کیا گیا ہے وہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا پروگرام ہے۔
غریبوں کے دکھوں کے مداوے کا سب سے عظیم تر پروگرام، عقل حیران ہے کہ کسی نے بیٹھ کر حساب کتاب بھی کیا ہے کہ اس پر کیا خرچ آنا ہے اور اتنی رقم کہاں سے اور کیسے آنی ہے۔ بھلا شیخ چلیوں کو اس کی کیا پڑی ہے؟ نیا پاکستان کے چھ احساس پروگرامز کی تفصیل ملاحظہ ہو۔ پاکستان کی آبادی 22 کروڑ ہے اور اوسط خاندان 6.5افراد پر مشتمل ہے۔ عمران حکومت کے نیا پاکستان کارڈ کا زور 37 لاکھ خاندانوں پر ہے۔ یوں دو کروڑ 22 لاکھ نفوس اس کے چھ احساس پروگراموں سے مستفید ہوں گے۔
37 لاکھ خاندانوں کے گھروں کے لیے فی کس 27 لاکھ روپے قرض بینکوں سے دلوایا جائے گا جس پر 8.75فیصد سالانہ شرح سود حکومت نے ادا کرنا ہے۔ بینک 9990 ارب روپے کا قرض کہاں سے فراہم کریں گے۔ مزید برآں حکومت کو اس پر سالانہ 870 ارب روپے سود دینا ہوگا (جبکہ کل ترقیاتی پروگرام کم ہوکر 700 ارب روپے کا رہ گیا ہے) ۔
37 لاکھ خاندانوں کے لیے فی کس 5لاکھ قرض برائے کاروبار کے لیے بینکوں کو 187ارب روپے قرض فراہم کرنا ہوگا جس پر حکومت کو 211 ارب روپے سود کی مد میں ادا کرنے ہوں گے۔ ساڑھے بارہ ایکڑ تک کے مالک کسانوں (56 لاکھ) کو فی کس 5 لاکھ روپے، بینک 2800 ارب روپے قرض دیں گے جس پر حکومت سالانہ 320 ارب روپے ادا کرے گی۔ ہیلتھ کارڈ سب کے لیے ہے۔ 3 کروڑ 38 لاکھ خاندانوں پہ کل خرچ 33800 ارب روپے آئے گا جو حکومت ادا کرے گی۔
دو کروڑ لوگوں کے لیے سستے راشن پر (فی کس 15000 روپے ماہانہ) حکومت 30فیصد ادا کرے گی جو 1080 ارب روپے بنتا ہے۔ نوجوانوں، علما اور ناداروں کے لیے پروگرام علیحدہ ہیں۔ ان سب کو ملا لیا جائے تو کل اخراجات پاکستان کی مجموعی قومی آمدنی سے کہیں بڑھ جاتے ہیں۔ آخر یہ عوامی خدمت اور فلاح کا ڈرامہ کیا ہے؟ فرض کریں اعلان کردہ آبادی میں سے 5فیصد بھی ان پروگرامز سے فیضیاب ہوجائیں تو باقیوں کو اُمید پہ زندہ رکھا جاسکتا ہے۔
ابھی سے تحریک انصاف کے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے اراکین اور مقامی حکومتوں کے اُمیدواروں کو ہدایات کردی گئی ہیں کہ وہ اپنے اپنے حلقوں میں جائیں اور احساس پروگرام کے مختلف خالی فارموں کو امداد کے منتظر عوام اور رائے دہندگان سے پُرکروائیں اور تحریک انصاف کو ووٹ دینے کا لالچ دیں۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ وہ بعد میں تحریک انصاف اور اس کے لیڈروں کو کوستے پھریں گے۔
جو بات انتہائی قابل اعتراض ہے وہ یہ کہ جب غربت اور گھریلوآمدنی کے حوالے سےسروے ہوچکے ہیں اور ان چھ احساس پروگراموں کے لیے سافٹ ویئر بھی بن چکے ہیں تو پھر تحریک انصاف کے امیدوار کیوں فارم بھرواتے پھریں گے، سوائے اس کے کہ وہ ان خیالی کارڈوں کے بدلے ووٹ خریدیں۔ اس ملک میں کیا کیا تماشے ہیں جو نہیں کیے گئے۔ اِک تماشہ اور سہی۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)