عمران خان پر میانوالی کا احسان : مصارف قومی خزانہ برداشت کرے گا

یوں تو  وزیر اعظم عمران خان  کبھی بھی کچھ بھی کہہ سکتے ہیں۔  اب صرف ان کے مخالفین ہی نہیں بلکہ حامی اور پرستار بھی سمجھنے لگے ہیں کہ ان تلوں میں تیل نہیں ہے۔ ایک دن منصوبہ کا اعلان ہوتا  ہے اور چند روز بعد اس  کا نام و نشان لینے والا بھی دستیاب نہیں ہوتا۔    ایسا ہی ایک وعدہ اب میانوالی کے عوام سے کیا گیا ہے کہ بس پانچ سال پورے ہونے دیں یہ شہر  اپنی شکل نہیں پہچان پائے گا۔ عمران خان اس شہر کےاحسانوں کا بدلہ اتارنے کے  لئے سرکاری خزانوں کے منہ کھولنے والا ہے۔

عمران خان نے اسی تقریر میں قومی سطح پر ہر گروہ سے مذاکرات اور مصالحت کی بات کرتے ہوئے  یہ اعلان بھی کیا تھا کہ  وہ کرپٹ عناصر کے سوا ہر  کسی سے بات چیت کرنے اور کسی مصالحت  تک پہنچنے کے لئے تیار ہیں ۔ خواہ اس گروہ کا تعلق دائیں بازو سے ہو  یا بائیں بازو سے۔ وہ بلوچستان کے قوم پرست ہوں یا جنوبی وزیرستان کے انتہا پسند، عمران خان اور ان کی حکومت کھلے دل سے بات چیت کرکے معاملات طے کرے گی۔  وزیر اعظم کے اس بیان سے کم از کم کوئی انکار نہیں کرسکتا کیوں کہ  براہ ر است فائرنگ میں پولیس اہلکاروں کو ہلاک کرنے والے گروہ تحریک لبیک پاکستان  کو تحریک انصاف کی اسی حکومت نے اعزاز اور حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ عطا کیاہے جو  چند روز پہلے ہی انہیں بھارت کا ایجنٹ، ملک دشمن اور دہشت گرد قرار دے رہی تھی۔

اسی طرح تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ افغانستان کی طالبان حکومت کے تعاون سے بات چیت شروع کرتے ہوئے انہیں عام معافی دینے اور مین اسٹریم کا حصہ بننے کی پیشگی پیش کش خود وزیر اعظم کرچکے ہیں۔   حالانکہ اس گروہ کے ہاتھ 80 ہزار پاکستانیوں کے خون سے رنگے ہیں اور  وہ  اب بھی حکومت پاکستان کی شرائط پر نہیں بلکہ اپنی شرائط پر ’مصالحت‘ چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ابتدائی معاہدے کے مطابق  ایک سو  ایک دہشت گردوں کی رہائی میں تاخیر پر اس قدر ناراضی کا اظہار کیا  گیا ہے کہ ٹی ٹی پی نے دو روز پہلے  حکومت پاکستان کے ساتھ عبوری جنگ بندی ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے   دوبارہ حملے شروع کرنے  کا دعویٰ کیا گیا۔ گزشتہ دو روز کے دوران پولیو ٹیموں کی حفاظت پر مامور دو پولیس اہلکاروں کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کرکے اس دعوے کا ثبوت بھی فراہم کردیا گیا ہے۔

ٹی ٹی پی کی شرائط پر  بات چیت کرنے اور مصالحت کی خاطر پیشگی ’عام معافی‘ کے وعدے کرنے والی حکومت اور وزیر اعظم کی اس سے زیادہ بے بسی کیا ہوگی کہ یہ مذاکرات پاکستان کی بجائے افغانستان میں ہورہے ہیں اور افغان  وزیر داخلہ  ذاتی طور پر  بات چیت کی نگرانی کرتے رہے  ہیں۔     تحریک طالبان کے ساتھ معاملات میں پیدا ہونے والے تعطل پر کوئی قابل ذکر رد عمل سامنے نہیں آیا، جس سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ  پاکستان بدستور  کابل میں اپنی ’محسن حکومت‘ کی طرف سے کسی نظر کرم کا انتظار کررہا ہے۔ اگرچہ وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے  یہ دعویٰ کیا ہے کہ ’ٹی ٹی پی نے  اگر پاکستانی قانون کا  احترام نہ کیا تو  جنگ ہوگی اور پاکستان نے پہلے بھی مقابلہ کیا ، اب بھی مقابلہ کرے گا‘ ۔ تاہم فواد چوہدری کا یہ بیان بظاہر  صورت حال کی حقیقی تصویر کشی کرتا دکھائی نہیں دیتا۔  یوں لگتا ہے کہ افغان طالبان ٹی ٹی پی کو پاکستان پر دباؤ بڑھانے اور عالمی سفارت کاری میں اپنے ایجنڈے کی تکمیل کے لئے اسلام آباد کو مجبور کرنے کے لئے استعمال کررہے ہیں۔

ایک اخباری رپورٹ کے مطابق  پاکستان کے سرکاری ذرائع کا اندازہ ہے کہ اگر عالمی طاقتوں نے جلد از جلد طالبان حکومت کی مدد کے لئے سرگرمی نہ دکھائی اور افغانستان کو اس کے حال پر چھوڑ دیا گیا تو غربت، احتیاج اور وسائل کی کمیابی کی صورت حال میں طالبان ملک پر 6 سے 12  ماہ سے زیادہ قبضہ برقرار نہیں رکھ پائیں گے۔  افغانستان سے مکمل عالمی لاتعلقی  سے ملک میں از سر نو خانہ جنگی کا آغاز ہوسکتا ہے اور طالبان کی  گرفت ڈھیلی پڑ سکتی ہے۔ متعدد باغی  گروہوں کے خلاف عسکری کارروائی میں مصروف ہونے پر طالبان حکومت عوامی ضرورتیں پوری کرنے   کے لئے  اتنی توجہ بھی نہیں دے پائے گی جو وہ اس وقت ممکن ہورہا ہے۔ خانہ جنگی کی طرف بڑھتا ہؤا افغانستان ، پاکستان اور علاقے کے لئے نہایت خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان ایک بار پھر افغانستان کی امداد بحال کروانے اور  طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کے لئے  سفارتی کوششیں شروع کرنا چاہتا ہے۔

اس رپورٹ کے تناظر میں دیکھا جائے تو سمجھا جاسکتا ہے کہ جو بات پاکستانی ماہرین اور سرکاری تجزیہ نگار سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں، طالبان کو بھی اس کا ادراک ہوگا۔ دنیا سے براہ راست رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے ان کا واحد ذریعہ پاکستان کو آگے کرنا ہے اور کسی بھی طرح اسلام آباد کے تعاون سے امریکہ اور مغربی ممالک  کی امداد کے دروازے کھلوانا ہے۔  پاکستان  سے سفارتی مفاد حاصل کرنے کے لئے ٹی ٹی پی سے مصالحت کا جھانسہ یا اس کی طرف سے  عبوری جنگ بندی ختم کروانے جیسے اعلانات کروانا ایک باقاعدہ حکمت عملی کا حصہ ہوسکتا ہے۔ افغان طالبان نے ہمیشہ پاکستانی طالبان کے ساتھ مل کر کام کیا ہے۔ اب بھی ٹی ٹی پی کے  امیر  نور ولی محسود نے  دعویٰ کیا  ہے کہ افغان حکومت اور  تحریک طالبان پاکستان ایک ہی ہیں۔ اس سے پہلے آئی ایس آئی بھی ایک پارلیمانی بریفنگ میں افغان اور پاکستانی طالبان کو ایک ہی سکے کے دو رخ قرار دے  چکی ہے۔ اب افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے گو کہ  نور ولی محسود کے بیان کی تردید کی ہے لیکن ایسا اشتعال انگیز بیان دینے کے باوجود   دشمنوں سے سختی نمٹنے کی شہرت رکھنے والے طالبان نے  اس کے خلاف کوئی کارروائی کرنا ضروری نہیں سمجھا۔  یہ حکمت عملی یوں بھی قابل فہم ہے کہ  اگر پاکستان کے سرکاری  تجزیہ کے مطابق اگلے ایک سال کے دوران  کابل پر  طالبان کی گرفت ڈھیلی پڑ تی ہے  تو  افغان طالبان کو ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کے تعاون ہی کی ضرورت ہوگی۔  ایسے بحران میں  پاکستان  اس بار شاید افغان طالبان کی پشت پناہی  میں  بہت زیادہ کارآمد ثابت نہ ہوسکے۔

شدت پسند گروہوں کے سامنے عاجز دکھائی دیتی عمران خان کی حکومت البتہ ملکی منظر نامہ میں کسی مصالحت  کے لئے تیار نہیں ہے۔ گزشتہ روز عمران خان نے کسی کرپٹ کو این آر او نہ دینے کا  اعلان کرتے ہوئے درحقیقت   اپنی اس سیاسی مجبوری کا اعتراف کیا ہے کہ  ان کے پاس پرانے نعروں کو زیادہ شدت سے اچھالنے اور عوام کو اگلی حکومت ملنے کے بعد   کامیابی کی نئی منزل کی طرف لے جانے کے پر فریب نعروں کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔  وزیر اعظم نے  دو روز قبل   الیکشن کمیشن کے حکم کی خلاف ورزی کرکے پشاور میں  پاکستان کارڈ منصوبے کا  اعلان کیا  ہے۔ ایک اندازے کے مطابق  یہ اعلان دھوکے  کے سوا کچھ نہیں ہے کیوں کہ  پاکستان کے پاس  اتنے وسائل ہی دستیاب نہیں ہیں  جو  عمران خان عوام پر صرف کرنے کے وعدے کررہے ہیں۔  پاکستان کارڈ کے تحت رفاہی منصوبوں پر اخراجات کا تخمینہ کل قومی پیداوار سے بھی زیادہ ہے۔ اب کون ہوشمند ایسے دعوؤں اور وعدوں پر یقین کرسکتا ہے۔ تاہم عمران خان نے  سیاست میں  نہایت استقامت سے جھوٹ بولنے کا فن سیکھا ہے۔  اسی لئے وہ یقین رکھتے ہیں کہ کرپشن کے  الزامات کے ساتھ وسیع تر قومی رفاہ کے اعلانات کو ملاکر وہ ایک بار پھر ووٹروں کو دھوکہ دے سکیں گے۔  حالانکہ قومی آمدنی اور  بجٹ کا یہ حال ہے کہ  عوامی بہبود کی قیمت پر آئی ایم ایف سے معاہدہ حکومت کی مجبوری بن چکا تھا۔ اب حکومت منی بجٹ  کی تیاری کررہی ہے اور عوام  کو اس کی قیمت   ادا کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔

کرپشن کے خلاف اخلاقی کردار کا اعلیٰ نمونہ اور مزاحمتی دیوار بننے والے وزیر اعظم نے  ہی  البتہ میانوالی کے عوام کو یقین دلایا ہے کہ  وہ  ان کی بہبود کے متعدد منصوبے شروع کررہے ہیں اور  موجودہ حکومت کا دورانیہ پورا ہونے تک  میانوالی کی حالت تبدیل ہوچکی ہوگی۔ اس کی وجہ بتاتے ہوئے  عمران خان نے کہا ہے کہ’ اگر آج میں وزیر اعظم ہوں تو میانوالی کے کارکنان کی وجہ سے ہی بنا ہوں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ آپ تب میرے ساتھ تھے جب میرے ساتھ کوئی نہیں تھا۔میں نے وعدہ کیا تھا کہ اللہ جب موقع دے گا میں میانوالی  کا  یہ احسان اتاروں گا۔  آپ دیکھیں  گے  کہ جب ہمارے پانچ سال مکمل ہوں گے،  میانوالی میں اتنی ترقی ہوگی کہ کسی دور میں نہیں ہوئی ہوگی‘۔

یوں تو  کوئی بھی سیاست دان اپنے حلقہ انتخاب میں تقریر کرتے ہوئے   جھوٹ اور فریب سے لبریز ایسے ہی  وعدے کرتا ہے۔   یا جن سیاست دانوں کو عمران خان کی لغت میں ’بدعنوان‘ کہا جاتا ہے،  وہ بھی ترقیاتی فنڈز کے زور پر اپنے علاقوں میں کچھ منصوبے شروع کرکے آئیندہ انتخابات میں لوگوں  کے ووٹ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔  اس طریقہ کی وجہ سے ملک کا جمہوری  نظام مجروح ہؤا ہے اور  سیاسی پارٹیوں  نے وسائل کو اپنی سیاسی ضرورتوں کے مطابق صرف کرنے کے مقصد سے ہی کبھی بلدیاتی اداروں کو مضبوط نہیں ہونے دیا۔ بلدیاتی ادارے بننے سے  قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کو ترقیاتی فنڈز نہیں مل سکتے  اور ملک بھر میں چند گنے چنے حلقوں میں ترقی کی بجائے   بلدیاتی اداروں کے ذریعے تمام لوگوں کی  بہتری کے منصوبے شروع ہوسکتے ہیں۔ تاہم ستم ظریفی یہ  ہے کہ  دوسرے سیاست دان اگر یہ طریقہ اختیار کرتے رہے ہیں تو وہ بدعنوانی اور قومی دولت کی چوری  ٹھہرائی جاتی ہے لیکن جب عمران خان چوری کرنے کے اسی دیرینہ طریقہ کو  اپنانے کا اعلان کررہے ہیں تو اسے عوامی بہبود اور میانوالی کے عوام کے احسان کا بدلہ چکانے کا عزم کہا جارہا ہے۔

البتہ اس حوالے سے صرف یہ  نکتہ  قابل غور اور یہ  سوال جواب طلب ہے کہ میانوالی کے لوگوں نے ہمیشہ عمران خان کا ساتھ دے کر  ان  پر ذاتی  احسان کیا۔ اس احسان کا بدلہ اس ملک کے شہری عمران خان کو خود اپنی محنت اور جیب سے ادا کرنا چاہئے۔ عمران خان پر کئے گئے ذاتی احسان کا  بدلہ چکانے  کے لئے قومی خزانے کا منہ کھولنا  دیانت کی  کون سے تعریف میں  درست کہا جائے گا؟ اگر ملک بھر کے تمام حلقوں میں اتنے ہی وسائل صرف ہو سکیں جو  میانوالی میں عمر ان خان کے حلقہ  انتخاب میں صرف ہورہے ہیں پھر تو اسے انصاف اور حکومت کی اعلیٰ کارکردگی کہا جائے گا لیکن اگر میانوالی  میں وسائل صرف اس لئے  صرف ہورہے ہیں کہ وہاں کے لوگ عمران خان کو منتخب کرتے رہے ہیں تو اس سے بڑی بے ایمانی اور بدعنوانی کیا ہوگی؟