توہین عدالت کیس: رانا شمیم، دیگر کےخلاف فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی مؤخر

  • سوموار 13 / دسمبر / 2021
  • 2850

اسلام آباد ہائی کورٹ نے عدلیہ کے خلاف الزامات سے متعلق بیانِ حلفی پر گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم کے خلاف توہین عدالت کی فردِ جرم عائد کرنے کی کارروائی 20 دسمبر تک مؤخر کردی ہے۔

ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے انگریزی روزنامے میں شائع خبر پر توہین عدالت کیس کی سماعت پر کی۔ اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے کہا کہ رانا شمیم کو گزشتہ سماعت پر عدالت نے اصل بیان حلفی پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس لئے اب فرد جرم عائد کردی جائے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کل کوئی کسی جج کو خراب کرنے کے لیے بیان حلفی دے تو کیا اخبار اسے چھاپ دے گا۔ جس پر پی ایف یو جے کے سیکریٹری جنرل ناصر زیدی نے کہا کہ صحافی کا کام حقیقت پر مبنی رپورٹ کو شائع کرنا ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ خبر کی سرخی سے یہ تاثر دیا گیا کہ ججز ہدایات لیتے ہیں۔ یہ بھی لکھ دیا جاتا کہ وہ جج ان دنوں چھٹی پر تھے۔ زیر التوا اپیلوں پر اس طرح خبر نہیں چھاپی جاسکتیں۔ عجیب بات ہے رانا شمیم کہتے ہیں کہ انہوں نے تو بیان حلفی کسی کو نہیں دیا۔ ناصر زیدی نے کہا کہ ہماری تاریخ بڑی تلخ ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ تاریخ میں نہ جائیں۔ کوئی شک نہیں کہ تاریخ تلخ ہے، آپ نے بھی تو کوڑے کھائے ہیں وہ بھی تو تلخ حقیقت ہے۔

انہوں نے  کہا کہ میں صرف اس ہائی کورٹ کا ذمہ دار ہوں، میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ یہاں کوئی سیاسی تقریر نہیں سنوں گا یا تو اس عدالت کا کوئی فیصلہ بتا دیں جس میں ایسا کچھ ہوا۔ عوام کا اس عدالت پر اعتماد اس ایک خبر سے خراب ہوا ہے۔ برطانیہ میں اخبار کے ایڈیٹر ان چیف کو تین تین ماہ کی سزا ہوئی ہے۔ یہ عدالت عالمی عدالت کے فیصلے پر عملدرآمد کا کیس سن رہی ہے اور عوام کا اعتماد ختم کیا جا رہا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ رانا شمیم کہتے ہیں کہ نوٹری پبلک نے دستاویز لیک کیا۔ رانا شمیم کا جواب برطانیہ میں ریگولیٹر کو بھیج دیں تو نوٹری پبلک کے لیے مسئلہ بن جائے گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے کوئی کچھ بھی کہہ دے میں توہین عدالت کی کارروائی نہیں کروں گا لیکن جب کوئی انصاف کی فراہمی یا لوگوں کے اعتماد کو خراب کرنے کی کوشش کرے گا تو عدالت برداشت نہیں کرے گی۔

کوئی تین سال بعد زندہ ہو کر آ جائے تو اس کے پاس کوئی گراؤنڈ تو ہونی چاہیے، اس شخص کے بیان حلفی کی خبر آپ نے اخبار میں ایسے ہی چھاپ دی۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اگر میں یہاں بیٹھا ہوں تو اپنے لیے نہیں بلکہ ہزاروں سائلین کے لیے بیٹھا ہوں۔ کوئی بھی جج میرے لیے اسٹیک ہولڈر نہیں بلکہ صرف سائلین اسٹیک ہولڈر ہیں۔ یہ محض توہین عدالت کا کیس نہیں بلکہ یہ میرا احتساب ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ افسوسناک بات یہ ہے کہ آج کے دور میں جھوٹ سچ اور سچ جھوٹ بن رہا ہے، ہم صرف بول نہیں سکتے، آپ اس طرح اس ہائی کورٹ پر بداعتمادی نہیں پھیلا سکتے۔ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ پہلے یہ ہوتا رہا ہے تو اب بھی یہ ہوگا، یہ میرا اور میرے تمام ججز کا احتساب ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ رانا شمیم نے بیان حلفی میں لکھا کہ عدلیہ کی تضحیک کرنا ہوتی تو بیان حلفی پاکستان میں لکھ کر میڈیا کو جاری کرتا، رانا شمیم نے تسلیم کیا کہ ان کا بیان حلفی لیک کرنے کا مقصد عدلیہ کی تضحیک ہے۔

اٹارنی جنرل کا مزید کہنا تھا کہ رانا شمیم نے اصل بیان حلفی خود لیک کرکے دیگر ذرائع سے لیک ہونے کے خدشات بیان کیے، ساتھ ہی استدعا کی کہ عدالت توہین عدالت کیس میں فرد جرم عائد کرنے کی تاریخ مقرر کرے۔

صحافی انصار عباسی نے کہا کہ میں نے رانا شمیم سے مؤقف لیا تو انہوں نے بیان حلفی خفیہ ہونے کا نہیں کہا اور نہ ہی مجھے بیان حلفی کی خبر شائع کرنے سے روکا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کی ایک ہیڈلائن سے لوگوں کا اعتماد کتنا خراب ہوا، ہمارا ایک نعرہ ہے کہ اسٹیک ہولڈر صرف سائلین ہی۔ اگر سائلین کا اعتماد ختم ہو جائے تو کچھ باقی نہیں رہتا، اب جھوٹ سچ بن گیا ہے اور سچ جھوٹ لگنے لگ گیا ہے۔

انصار عباسی نے کہا کہ انشااللہ ہم جھوٹ کے ساتھ کبھی کھڑے نہیں ہوں گے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ چلیں چھوڑ دیں۔ عدالت قانون کے مطابق کارروائی کرے گی، انصار صاحب نہ آپ اور نہ ہم اہم ہیں، اہم سائلین ہیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ انصار عباسی اور رانا شمیم کے بیانات میں واضح فرق ہے، رانا شمیم نے جو بیان حلفی جمع کرایا، انصار عباسی کاؤنٹر بیان حلفی جمع کرائیں۔ چیف جسٹس نے انصار عباسی کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے اور کچھ نہیں کرنا بس عدالت کو مطمئن کریں کہ آپ کی خبر قانون کے مطابق ہے یا نہیں۔ عدالت نے انصار عباسی کو ہدایت کی کہ آپ نے جو بھی بتانا ہے بیان حلفی میں بتائیں۔

عدالت نے ناصر زیدی سے استفسار کیا کہ آپ اتنا بتا دیں کہ کیا میری اس عدالت کا کوئی قصور ہے، وکلا اور کورٹ رپورٹرز سے کچھ نہیں چھپا۔ ان کو سب چیزوں کا پتا ہے۔ عدالتی معاون ناصر زیدی نے عدالت سے درگزر کرنے کی استدعا کی جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر میں آج یہاں رک گیا تو سلسلہ چلتا رہے گا اور عوام بداعتماد ہوں گے۔

چیف جسٹس نے رانا شمیم کے خلاف توہین عدالت کیس میں فرد جرم کا فیصلہ مؤخر کرتے ہوئے انہیں آئندہ سماعت پر اصل بیان حلفی جمع کروانے کا حکم دیا۔ عدالت نے تمام فریقین کو کاؤنٹر بیان حلفی جمع کرانے کی بھی ہدایت کی اور کیس کی سماعت 20 دسمبر تک کے لیے ملتوی کردی۔