لاپتہ افراد کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی برہمی، کیوں نہ آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی ہو
- سوموار 13 / دسمبر / 2021
- 3630
اسلام آباد ہائیکورٹ میں صحافی مدثر نارو کی بازیابی کی درخواست پر سماعت کے دوران اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے بتایا ہے کہ متاثرہ صحافی کے اہلخانہ کی روئیداد سن کر وزیر اعظم عمران خان سمیت ہم سب شرمندہ تھے۔
اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے بتایا کہ مدثر نارو کی فیملی کو وزیراعظم سے ملوایا۔ مدثر نارو نے ایسا کچھ نہیں کیا تھا کہ اسے لاپتا کر دیا جائے۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ ذمہ دار لوگ اپنا کام کریں تو کسی کو نہیں اٹھایا جا سکتا، لوگوں کے لاپتا ہوجانے کا ذمہ دار چیف ایگزیکٹو ہی ہوتا ہے۔ یہاں سابق چیف ایگزیکٹو لوگوں کے اٹھائے جانے کا فخر سے کتابیں لکھ کریڈٹ لیتے ہیں۔
خالد جاوید خان نے کہا کہ ریٹائر ہونے کے بعد سارے کتابیں لکھ کر دیانتدار بن جاتے ہیں۔ لوگوں کا لاپتا ہوجانا پاکستان پر دھبہ ہے یہ بدقسمتی ہے۔ لوگوں کے لاپتا ہونے کی کوئی وضاحت نہیں دے رہا لیکن موجودہ حکومت کو کیسز ورثے میں ملے ہیں۔ کئی لوگ جہاد کے نام پر بارڈر کراس کر کے چلے گئے اب وہ بھی لاپتا افراد کی کیٹیگری میں شامل ہیں۔ لیکن مدثر نارو صحافی تھے میں ان کے کیس کو اس کیٹیگری میں نہیں رکھتا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ریاست کہیں موجود ہوتی تو متاثرہ فیملی عدالت کیوں آتی؟ ہمیں کیوں کہنے کی ضروت پڑتی کہ آپ وزیراعظم کے نوٹس میں لائیں۔ یہاں تمام ادارے آکر کہتے ہیں ہمیں کچھ پتا نہیں بندہ کہاں ہے، ماورائے عدالت آپ کسی دہشت گرد کو بھی نہیں مار سکتے۔ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارا جغرافیہ ایسا ہے نیشنل سیکیورٹی کو بھی دیکھنا ہے۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیےکہ ’اٹارنی جنرل صاحب نیشنل سیکیورٹی شہریوں کی حفاظت میں ہے‘۔ ایسا رہا تو کیا کل کوئی ایس ایچ او بھی کسی کو اٹھا لے گا۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیےکہ’کیوں نہ لاپتا افراد پر سارے چیف ایگزیکٹوز پر آرٹیکل 6 لگادی۔ آرٹیکل6 لگا کر تمام متعلقہ چیف ایگزیکٹوز کا ٹرائل شروع کرا دیتے ہیں۔
اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے کہا کہ جس کو آرٹیکل 6 پر سزا ہوئی ہم تو اس پر عملدرآمد نہیں کرا سکے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیےکہ ایک ہال آف شیم بنا دیتے ہیں جس میں سب چیف ایگزیکٹو کی تصاویر ہوں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ صرف چیف ایگزیکٹو کیوں باقی ذمہ داروں کی بھی ہونی چاہئیں۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیےکہ حتمی ذمہ داری چیف ایگزیکٹو کی ہی ہوتی ہے، ہمیں ایک فیصلہ تو لکھنے دیں۔ کسی کو تو ذمہ دار ٹھہرائیں۔ جس پر اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے کہا کہ کچھ بیماریوں کا علاج فیصلوں سے نہیں، عوام کے پاس ہوتا ہے۔ 10 لاکھ لوگ سڑکوں پر نکلیں تو لاپتا ہونے کا سلسلہ رک جائے گا، ایران میں یہ سلسلہ ایسے ہی رکا ہے۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیےکہ مدثر نارو کے بچے کو عدالت آنے سے پہلے انصاف ملنا چائیے تھا، ہمیں توقع تھی بچے سے ملاقات کے بعد وفاقی کابینہ کچھ کرے گی۔ کیا اس شہر سے لوکل انتظامیہ کی مرضی کے بغیر کسی کو اٹھایا جا سکتا ہے؟ ایک بچے کو اٹھایا جاتا ہے واپس آکر کہتا ہے شمالی علاقوں کی سیر پر تھا۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیےکہ ہمیں نہیں معلوم کہ میڈیا آزاد ہے یا نہیں، آزاد میڈیا ہوتا تو لاپتا افراد کے خاندان کی تصویریں روز اخبار میں ہوتیں۔ عدالت تو آئین کے مطابق فیصلہ ہی دے سکتی ہے، اٹارنی جنرل آپ آئین کے مطابق معاونت کریں ہم فیصلہ دیتے ہیں۔ بتائیں آرٹیکل 6 کے تحت فیصلہ دے دیتے ہیں۔
اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے کہا کہ مجھے کچھ وقت دیں۔ میں نے ایسا کیس زندگی میں نہیں لڑا، میں اٹارنی جنرل ہوں معاونت کروں گا۔ اپنے خیالات عدالت کو بتاؤں گا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد کتاب میں نہیں لکھوں گا۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ جبری گمشدگی کرپشن کی بدترین شکل ہے، اگر کوئی کرپشن کے خلاف ہے تو اس سلسلے کو بند کرائے۔ فیصلے کے بعد کوئی اور عدالت آیا تو فیصلے کے مطابق کارروائی ہو گی۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اٹارنی جنرل کو معاونت کے لیے 4 ہفتے کا وقت دیتے ہوئے پوچھا کہ لاپتا افراد پر آئین کے مطابق کیا فیصلہ دیں، 18 جنوری کو بتائیں۔