سانحات سے سیکھنا ہوگا
- تحریر مظہر چوہدری
- سوموار 13 / دسمبر / 2021
- 4980
تقریبا ًتمام ملکوں اور قوموں کی تاریخ میں کچھ ایسے واقعات اور سانحات ضرور ہوتے ہیں جن کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ مملکت خداداد پاکستان کے ساتھ بدقسمتی یہ رہی کہ یہاں وقت کے ساتھ ساتھ ایسے دلخراش واقعات اور ناقابل فراموش سانحات کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ امر بھی تشویش ناک ہے کہ ملکی تاریخ میں وقت کے ساتھ ساتھ دسمبرکا مہینہ ملک اور قوم کے لیے بھاری سے بھاری تر ہوتا جا رہا ہے۔آج سے پچاس سال قبل دسمبر کے مہینے میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی مسلمانوں،بالخصوص پاکستانی قوم کے لیے ایک عظیم سانحے سے کم نہیں تھی۔ مسلمانوں کی تاریخ میں سقوط بغداد،سقوط سپین اورسقوط دہلی کے بعد سقوط ڈھاکہ چوتھا بڑا سانحہ جبکہ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا بڑا ناقابل فراموش اور عبرت انگیز سانحہ تھا۔دسمبر2007میں دہشت گردوں کے ہاتھوں محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت اس لحاظ سے کسی بڑے سانحے سے کم نہیں تھی کہ وہ ایک طرف مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم کا اعزاز رکھتی تھیں تو دوسری طرف وہ اپنی موت تک جمہوریت اور سول بالادستی کے حصول کے لیے جدوجہد کرتی رہیں۔ سات سال قبل دسمبرمیں ہی قوم کو اس وقت ایک اوربڑا سانحہ برداشت کرنا پڑا جب دہشت گردوں نے آرمی پبلک اسکول پشاورپر حملہ کرکے 132معصوم بچوں سمیت 142افراد کو بے دردی سے شہید کر دیا۔
آپریشن ضرب عضب کے ردعمل میں دہشت گرد وں نے انسانیت کو شرمندہ کرنے والی بدترین دہشت گردی کا ارتکاب کیا۔ویسے تو اس سانحے سے پہلے دہشت گردی کی جنگ میں ہزاروں پاکستانیوں کی جانیں جا چکی تھیں لیکن دہشت گردوں نے اس سے پہلے کسی اسکول کے معصوم بچوں کوایسے ظلم وبربریت کا نشانہ نہیں بنایا تھا۔دسمبر کے مہینے میں ہونے والا تازہ ترین سانحہ دو ہفتے قبل سیالکوٹ میں اس وقت رونما ہوا جب مشتعل ہجوم نے توہین مذہب کے الزام پر خود ہی مدعی، منصف اور جلاد بنتے ہوئے ملکی تاریخ میں پہلی بار کسی غیر ملکی کو بھیانک تشدد کے بعد زندہ جلا دیا۔
مشرقی پاکستان کا سانحہ کسی وقتی یا جذباتی سبب کا نتیجہ نہیں تھا اور نہ ہی کسی ایک فرد یا واقعے نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی ممکن بنائی بلکہ اس کے پیچھے دو دہائیوں سے زائد وہ سیاسی ومعاشی استحصال کارفرما تھا جو کہ مغربی پاکستان کے حکمرانوں نے مشرقی پاکستان کے عوامی نمائندوں اور عوام کے ساتھ روا رکھا۔ہمارے ہاں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی تمام تر ذمہ داری صرف بھارت پر ڈال کر دیگر اہم وجوہات کو دانستہ نظر انداز کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے اسباب تاریخی بھی ہیں،دستوری بھی ہیں، معاشی بھی ہیں،سماجی بھی ہیں،انتظامی بھی ہیں،جغرافیائی بھی ہیں،سیاسی بھی ہیں،فوجی بھی ہیں،قومی بھی ہیں اور بین الااقوامی بھی ہیں۔ اگر حقیقت پسندی سے جائزہ لیا جائے تو بنگالیوں نے ہم سے الگ ہونے کے لیے ضرورت سے بہت زیادہ وقت لے لیا ورنہ قیام پاکستان کے فوری بعد سے جس طرح سے بنگالیوں کا سیاسی و معاشی استحصال کیا گیا،ان کی جگہ کوئی اور ہوتا تو شاید دس سال بھی نہ نکالتا۔ایوب خان کے دور میں 33بڑے سیاسی و انتظامی عہدوں پر مغربی پاکستانی فائز تھے، صرف اسپیکر کا عہدہ ایک بنگالی کے پاس تھا اور اس کی وجہ بھی دستوری تھی۔ مشرقی پاکستان کے المیے کی طرح، آرمی پبلک اسکول کا سانحہ کسی وقتی یا جذباتی ردعمل کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ اس کے پس پردہ تین دہائیوں کی ریاستی و حکومتی سطح پر اختیار کی گئی پالیسیاں کا عمل دخل تھا۔ گذشتہ کئی برسوں سے پاکستان میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کی بدترین لہر جاری رہنے کی سب سے بڑی وجہ ریاستی و حکومتی سطح پر دہشت گردی کے خلاف واضح اور دو ٹوک پالیسی کی عدم موجودگی تھی۔ سیاسی و سماجی سطح پرنہ صرف اچھے اور برے طالبان کی تفریق روا رکھی جاتی تھی بلکہ انتہا پسند دانشوراور لکھاری میڈیا کے توسط سے دہشت گردی کی کاروائیوں کو امریکی ڈرون حملوں اور فوجی آپریشن کا ردعمل قرار دیکر قوم کوکنفیوز کر نے میں مگن تھے۔
قوموں کی زندگی میں المیے اورسانحات رونما ہوتے ہی رہتے ہیں،اسی طرح قوموں کو فتح و شکست اور عروج و زوال کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے لیکن زندہ قومیں اپنے ماضی،اپنی شکست اور اپنے دشمن کو کبھی فراموش نہیں کرتیں۔مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور آرمی پبلک اسکول پرحملہ جیسے سانحات کی تلافی اسی صورت میں ممکن ہو سکتی ہے جب ان سے سبق سیکھتے ہوئے مستقبل میں ایسے کسی سانحے کے امکانات کو یکسر ختم کر دیا جائے۔خوش آئند بات یہ ہے کہ ریاست نے اٹھارویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کے صوبائی خودمختاری کے دیرینہ مطالبے کو تسلیم کر کے مشرقی پاکستان جیسے سانحے کو روکنے کا کسی حد تک سیاسی و انتظامی بندوبست کیا ہے۔ اگرچہ فوجی و سیاسی قیادت نے بلوچستان کے امن اور ترقی کے لیے سنجیدہ کوششیں اور ٹھوس اقدامات اٹھا کر مشرقی پاکستان جیسے کسی بڑے سانحے کا راستہ تو کافی حد تک مسدودکر دیا ہے۔
تاہم گوادر میں " حق دو"تحریک کے تحت تقریباایک ماہ سے جاری دھرنے کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ بلوچستان کی سیاسی و معاشی محرومیاں مکمل طور پر ختم نہیں ہوئیں ۔ مبصرین کے مطابق گوادر میں گزشتہ دنوں میں نکلنے والی ریلیاں نہ صرف گوادر بل کہ بلوچستان کی تاریخ کی بھی سب سے بڑی ریلیاں تھیں۔گوادر میں دھرنا دئیے لوگوں کے جم غفیر نے مجموعی طور پر19مطالبات پیش کیے ہیں جن میں بلوچستان کی سمندری حدود سے ٹرالروں کے ذریعے غیر قانونی ماہی گیری کا خاتمہ،صاف پانی کی فراہمی اور ایران کے ساتھ سرحدی تجارت پر عائد پابندی کے خاتمے جیسے اہم مطالبات سرفہرست ہیں۔
مستقبل میں ایسے سانحات سے بچنے کے لیے ریاست و حکومت کو جہاں ایک طرف سیاسی ومعاشی استحصال سے پاک پالیسیوں پر عمل پیرا ہونا پڑے گا وہیں معاشرے کی رگ و پے میں سرایت کیے ہوئے شدت پسندی اور انتہا پسندی کے رجحانات کی بیخ کنی کے لیے منظم اور مربوط اقدامات کرنے ہوں گے۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ گزشتہ دہائی میں دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے شروع کیے گئے آپریشنز اورنیشنل ایکشن پلان کے تحت ہونے والی کاروائیوں سے انتہا پسندی اور دہشت گردی میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے لیکن بدقسمتی سے سابقہ ایک دہائی میں اختیار کی گئی کچھ ناعاقبت اندیش پالیسیوں اور ضرر رساں حکمت عملیوں کی وجہ سے ملک اور معاشرے میں میں ایک نئی قسم کی انتہا پسندی شدت سے پروان چڑھ چکی ہے۔
دو ہفتے قبل سیالکوٹ میں ہونے والا سانحہ بھی انتہا پسندی کی اس نئی قسم کا ہی نتیجہ تھا۔مستقبل میں کسی اور بڑے سانحے کی روک تھام کو یقینی بنانے کے لیے جہاں ایک طرف معاشرے کی رگ و پے میں سرائیت کی ہوئی انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اقدامات ناگزیر ہیں وہیں دوسری طرف بلوچستان اور سندھ سمیت دیگر صوبوں میں عوامی و سیاسی سطح پر پائے جانے والی بے چینی کو دور کرنا بھی ریاست کی اولین ترجیح ہونا چاہیے۔