مقبوضہ علاقوں سے انخلا پر ہی سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کرے گا
- بدھ 15 / دسمبر / 2021
- 5370
اقوامِ متحدہ کے لیے سعودی عرب کے مستقل مندوب عبداللہ المعلمی نے روزنامہ عرب نیوز کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریاض عرب اقدام برائے امن کے حوالے سے پرعزم ہے۔ اس بنیاد پر اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات معمول پر لانے کو بھی تیار ہے۔
عرب اقدام کے مطابق 1967 میں قبضہ کیے گئے تمام علاقوں سے اسرائیلی انخلا اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے بدلے آزاد فلسطینی ریاست قائم کی جائے گی۔ اس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہوگا۔
عبداللہ المعلمی کا کہنا تھا کہ ’سعودی عرب کی سرکاری اور حالیہ پوزیشن یہ ہے کہ اسرائیل جتنی جلدی 2002 میں پیش کردہ سعودی امن اقدام کے عناصر پر عملدرآمد کرے ہم اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کو تیار ہوں گے‘۔ جب اسرائیل اس اقدام پر عملدرآمد کرلے گا اسے نہ صرف سعودی عرب بلکہ اسلامی تعان تنظیم کے تمام 57 ممالک، پوری مسلم دنیا تسلیم کرلے گی۔
مندوب کا کہنا تھا کہ ’وقت درست یا غلط کو تبدیل نہیں کرتا، اسرائیل کا فلسطینی علاقوں پر قبضہ غیر قانونی ہے چاہے وہ کتنا ہی پرانا کیوں نہ ہو‘۔
گزشتہ ماہ اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ تقریباً 20 امریکی یہودی رہنماؤں پر مشتمل ایک وفد نے سعودی عرب کا دورہ کیا اور وہاں سینیئر عہدیداروں سے ملاقات کی۔ وفد نے جن عہدیداروں سے ملاقات کی ان میں 6 حکومتی وزرا اور سعودی شاہی گھرانے کے سینیئر نمائندے بھی شامل تھے، ملاقات کا مقصد ریاض اور تل ابیب کے درمیان تعلقات قائم کرنے کے امکانات پر نظرِ ثانی کرنا تھا۔
سعودی عرب نے بارہا اسرائیل کے ساتھ امن کے لیے عرب پیرامیٹرز کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے جس کا اظہار 2002 کے سعودیہ کے تجویز کردہ عرب اقدام میں کیا گیا تھا۔ خیال رہے کہ اسرائیل نے 1967 کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران مشرقی یروشلم پر قبضہ کیا تھا اور 1980 میں پورے شہر کا الحاق کرلیا تھا۔ اسرائیل کے اس اقدام کو عالمی برادری نے کبھی تسلیم نہیں کیا۔
یاد رہے کہ مصر اور اردن کے بعد متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم کرلیا تھا۔ اس کے بعد بحرین نے بھی اسرائیل کو تسلیم کرلیا تھا۔