پنجاب میں مقامی حکومتوں کا نیا سیاسی نظام

پاکستان میں مضبوط، مربوط،خود مختار مقامی حکومتوں کے نظام کی تشکیل جمہوریت، سیاست اور شفاف گورننس کے لیے سیاسی، قانونی، آئینی ضرورت کا تقاضہ کرتی ہے۔جو بھی ریاست کا نظام مقامی حکومتوں کے نظام یا اختیارات کی نچلی سطح پرسیاسی، انتظامی او رمالی خود مختاری کی نفی  کرے گا تو اسے کسی بھی طور پر مکمل جمہوریت پر مبنی نظام قرار نہیں دیا جاسکتا۔

1973کے دستور کی شق 140اے اور 32یا 7اس بات کی طرف توجہ دلاتی ہے کہ  مقامی حکومتوں کا نظام آئین کی روح کے منافی نہیں ہونا چاہیے۔پاکستان کا حکمرانی سے جڑا مسئلہ عدم مرکزیت کا نظام ہے او راس کے لیے ہمیں ہر سطح سے مرکزیت پر مبنی نظام کی نفی کرنا ہوگی۔ 18ویں ترمیم بھی اسی بات کی طرف توجہ  دلاتی ہے کہ وفاق کے بعد صوبے بھی ضلعی سطح پر اختیارات کی تقسیم کو یقینی بنائیں کیونکہ صوبائی خود مختاری کا عمل بھی اسی صورت میں ممکن ہوسکتا ہے جب حکمرانی کے نظام میں ضلعی خود مختاری کے اصول کو تسلیم کیا جائے گا۔

پنجاب میں نیا مقامی حکومتوں کا نظام نافذ ہوگیا ہے۔حکومتی سطح پر مختلف فریقین کی طویل باہمی مشاورت کے ساتھ اس نئے نظام کو حتمی شکل دی گئی ہے۔ یہ نظام ماضی کے  نظام سے نہ صرف مختلف ہے بلکہ زیادہ فعال اور خود مختاری دیتا ہے۔شہباز شریف کا مقامی حکومتوں کا ماڈل زیادہ تر صوبائی مرکزیت تک محدود تھا جس میں 55سے زیادہ اتھارٹیاں او رکمپنیاں موجود تھی جو برا ہ راست وزیر اعلی یا صوبائی حکومت کے ماتحت تھی۔جبکہ اس نظام میں پی ایچ اے، ترقیاتی اتھارٹیاں، واسا، ٹیپا، سولڈ ویسٹ مینجمنٹ اور پارکنگ کمپنیاں بھی مقامی حکومتوں کے ماتحت کی گئی ہیں۔اسی طرح پانچ اہم صوبائی محکموں جن میں خواندگی،  تعلیم، پرائمری او رسیکنڈری صحت، بہبود آبادی، کھیل کے محکمے بھی مقامی حکومت کے ماتحت ہوں گے۔

اہم بات تحریک انصاف کی یہ ہے کہ اس نے پاکستان میں پہلی بار پنجاب سمیت خیبرپختونخواہ اور اسلام آباد کے مقامی انتخابات میں میئر اور ڈپٹی میئر کے براہ راست انتخابات کا  فیصلہ کیا ہے۔ اگرچہ اس فیصلہ پر خود پی ٹی آئی میں تقسیم تھی مگر وزیر اعظم عمران خان بضد تھے کہ یہ انتخابات براہ راست ووٹروں کی بنیاد پر ہوگا۔اس لیے ملک میں پہلی بار لوگوں کو سیاسی جماعتوں کی سطح پر ایک بڑا سیاسی دنگل میئر اور ڈپٹی میئر کے براہ راست انتخاب کی صورت میں دیکھنے کو ملے گا۔ اسی طرح پنجاب میں کونسلرز کی سطح پر بھی مختص کی گئی نشستیں جن میں مزدور، کسان، عورتیں، اقلیتیں، نوجوان اور تاجر طبقہ کی نشستوں کا انتخاب بھی براہ راست ہی ہوگا۔ضلعی سطح پر پہلی بار ملک میں معذور اور بزرگ افراد کی نمائندگی کو ممکن بنایا گیا ہے۔پورے پنجاب کے تمام ڈویثرنل ہیڈ کواٹربشمول سیالکوٹ او رگوجرانولہ شہر میٹروپولیٹن کارپوریشنز ہوں گی جبکہ ان شہری علاقوں کے علاوہ وہاں ضلع کونسل ہوں گی۔البتہ لاہو رکا پورا ضلع میٹروپولیٹن کارپوریشن ہوگا۔لاہو رکا سربراہ لارڈ میئر جبکہ دیگر شہروں کے سربراہ سٹی میئر ہوں گے۔

اہم بات یہ ہے کہ پنجاب میں ابتدائی طور پر ویلج او رنیبر ہڈ کونسل کی سطح پر غیر جماعتی انتخابات کا فیصلہ کیا گیاتھا مگر اب یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ پنجاب میں تمام سطحوں کا جماعتی بنیادوں پر انتخاب ہوگا۔ یہ عمل یقینی طور پر سیاسی جماعتوں کی مضبوطی اور جمہوری کلچر کو آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہوگا۔کیونکہ آدھا جماعتی اور آدھا غیر جماعتی انتخاب کی منطق سمجھ سے بالاتر تھی۔یہ انتخابات پینل کی بنیادوں پر ہوں گے او ر اگر آزاد امیدوار حصہ لینا چاہتے ہیں تو ان کو بھی پینل کی طرز پر ہی انتخاب لڑنے کی اجازت ہوگی۔تحصیل کونسل،میونسپل کارپوریشنز، میونسپل کمیٹیاں او ر ٹاؤن کمیٹیوں کو ختم کرکے میٹرو پولیٹن کارپوریشنز اور ضلع کونسل جبکہ یونین کونسل کو ختم کرکے نیبرہڈ او رویلج کونسل کا نظام لایا گیا ہے۔جبکہ نچلی سطح پر ایک او راہم ادارہ شہروں میں کمیونٹی کونسلزاور دیہاتوں میں پنچایت کونسلز قائم کی جائیں گی جن کی تعداد 9ارکان پر مشتمل ہوگی او ران میں دو خواتین کی مخصوص نشستیں بھی ہوں گی اور ان کونسلز کو نیبر ہڈ اورویلج کونسلز کے ارکان نامزد کریں گے۔ان کو بھی نظام میں کافی اختیارات حاصل ہوں گے۔

اس نظام کی خاص بات یہ ہے کہ پہلی بار نیبر ہڈ اور ویلج کونسل کو صوبائی حکومت کی جانب سے براہ راست مالی وسائل دیے جائیں گے تاکہ وہ خود اپنے منصوبے بنائیں اور مقامی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں۔ماضی میں کونسلرز کی سطح پر اختیارات کی واضح تقسیم نہیں تھی جبکہ  موجودہ نظام میں کونسلرز کی سطح اختیارات کی واضح تقسیم کو نمایاں کیا گیا ہے تاکہ وہ بھی فعالیت کے ساتھ اپنا کردار ادا کرسکیں۔عورتوں کی نمائندگی کو بھی اس نئے نظام میں بڑھایا گیا ہے۔ نیبر ہڈ اور ویلج کونسل کی سطح پر موجود تیرہ ارکان میں سے دو نشستیں عورتوں کے لیے،  کمیونٹی او رپنچایت کی سطح پر دو نشستیں اور ضلعی  میٹروپولیٹن  سطح پر بھی عورتوں کی خاطر خواہ نمائندگی کو ممکن بنایا گیا ہے۔اسی نظام میں اپوزیشن لیڈر کی بھی قانونی حیثیت کو قبول کیا گیا ہے۔پہلی بار اسی نظام میں مختلف فریقین جن میں میڈیا، سول سوسائٹی شامل ہے ان کو اس نظام میں نگرانی کے تناظر میں آبزور کی حیثیت بھی دی گئی ہے تاکہ وہ بھی اس نظام کا حصہ بن سکیں۔ضلعی سطح پر پہلی بار کابینہ کی تشکیل کا فیصلہ کیا گیا ہے جس میں منتخب افراد مختلف پروفیشنل سطح کے افراد کو اپنی کابینہ میں شامل کرسکیں گے۔

پنجاب میں 11میٹروپولیٹن، 25ڈسٹرکٹ کونسل، 3433ویلج کونسل او ر2171نیبرہڈ کونسل ہوں گی۔جبکہ کمیونٹی کونسل شہروں میں جبکہ پنچایت گاؤں کی سطح پر بڑی تعداد میں موجود ہوں گی۔ووٹرزنوجوان کونسلر کی عمر 18برس سے 32برس ہوگی جبکہ دیگر کونسلرزکے لیے عمر کی شرط 21برس ہوگی۔میئر، ڈپٹی میئر، نیبر ہڈ یا ویلج کونسل کے چیرمین کی عمرکی حد 25برس جبکہ ان کے لیے تعلیمی شرط کے تحت انٹرمیڈیٹ ہونا لازمی ہونا ہوگا۔طریقہ انتخاب میں متناسب نمائندگی کا اصول بھی اپنایاگیا ہے۔انتخابات دو مراحل میں ہوں گے۔پہلے مرحلے میں نیبرہڈ اور ویلج کونسلز جبکہ دوسرے مرحلے میں میٹرو پولیٹن اور ضلعی کونسل کے انتخابات ہوں گے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ پنجاب میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کو قانونی بنیادوں پر ایکٹرانک ووٹنگ مشین پر کروانے کا اعلان کیاگیا ہے۔ کیا ایسا ممکن ہوسکے خود ایک بڑا چیلنج ہے البتہ اگر یہ عمل پورے پنجاب کے انتخابات پر ممکن نہ ہوسکا تو کم ازکم اس بات کا امکان ہے کہ میئر اور ڈپٹی میئر کے انتخابات الیکٹرانک ووٹنگ پر ہوسکتے ہیں او ریہ عمل عام انتخابات سے قبل تجرباتی بنیادوں پر پرکھا جاسکتا ہے۔

مجموعی طور پر پنجاب کا مقامی حکومتوں کا نظام باقی صوبوں جن میں بلوچستان اور سندھ شامل ہیں کافی مختلف بھی ہے او رمضبوط بھی۔ اس میں کافی حد تک اختیارات کی واضح تقسیم اور مقامی حکومتوں کے مقابلے میں متبادل نظام کو قائم کرنے کی نفی کی گئی ہے۔اس میں کوشش کی گئی ہے کہ اختیارات بیوروکریسی کے مقابلے میں عوام کے منتخب نمائندوں کو زیادہ مل سکیں۔ اب اس نظام کو واقعی شفافیت کے ساتھ عمل درآمد کا حصہ بنادیا جائے تو خاطر خواہ نتائج سامنے آسکتے ہیں۔کیونکہ ہماری سیاست، جمہوریت او رگورننس سمیت عام آدمی کے مفادات کو یقینی بنانے کے لیے مقامی حکومتوں کا خود مختار نظام ہماری اولین ترجیح ہونا چاہیے۔پنجاب کی سطح پر اس نئے نظام کی تشکیل میں وزیر اعظم عمران خان سمیت پنجاب حکومت، وزیر بلدیات میاں محمود الرشید اور وفاقی وزیر چوہدری فواد حسین جو اس نظا م کی مضبوطی کے بڑے حامیوں میں سمجھے جاتے ہیں۔ چوہدری فواد حسین تو گلہ ہمیشہ برملا کرتے رہے ہیں کہ صوبائی حکومتوں کی عدم توجہ کی وجہ سے مقامی نظام مستحکم ہونے کی بجائے کمزور رہا ہے۔

البتہ تین بنیادی باتوں پرتوجہ دیے بغیر یہ نظام کامیاب نہیں ہوسکے گا۔ اول وفاق کو آئین میں ترمیم کرکے اس نظام کو مکمل طور پر قانونی تحفظ دینا ہوگا اور یہ آئین میں درج ہونا چاہیے تاکہ اس نظام کے تسلسل کو برقرار رکھا جاسکے۔ دوئم جب تک مقامی حکومتوں کے انتخاب عام انتخاب کے ساتھ نہیں ہوں گے یا عام انتخابات کے بعد 120دن میں ان کی شرط کو برقرار رکھنا او ر سب کی مدت ایک جیسی نہیں ہوگی یہ نظام اپنا تسلسل قائم نہیں رکھ سکے گا۔ سوئم وفاق کو یقینی بنانے کے لیے کہ صوبہ اس نظام کو تسلسل کے ساتھ او رآئین کی شقوں کی بنیاد پر خود مختار نظام کو یقینی بنائیں کہ لیے کچھ بنیادی اصول وضع کرنا ہوں گے او رصوبہ وفاق کو جوابدہ ہو۔