پاکستان کا نائن الیون اور بنگلہ قوم کا یوم آزادی؟

16 دسمبر کی اہمیت ہم پاکستانیوں کیلئے دو حوالوں سے ہے، ایک تو ہمارے اپنے کرتوتوں کی وجہ سے، اس روز یہ ملک محض چوبیس برس کی قلیل مدت میں ٹوٹ کر دو پھانگ ہو گیا۔ دوسرے ہماری مذہبی شدت پسندی و تنگ نظری پر مبنی پالیسیوں کی وجہ سے، پشاور میں ہمارے معصوم بچوں کے ساتھ دہشت گردی کا وہ دردناک سانحہ پیش آیا جسے یاد کرتے ہوئے آج بھی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں اور جسے بجا طور پر پاکستان کا نائن الیون قرار دیا جا سکتا ہے۔

کون سنگ دل ہے جو ان ماؤں کے درد کو محسوس نہیں کر سکتا جنہوں نے اپنے ان پھولوں جیسے نونہالوں کو ناشتہ کرواتے، سکول یونیفارم پہناتے، کتابوں سے بھرے بستے تھماتے، محبت و شفقت سے مسکراتے، سہانے خواب آنکھوں میں بساتے، حصول تعلیم کیلئے سکول بھیجا اور پھر اسی دوپہر انہی بچوں کی آگ اور خون میں لتھڑی جلی کٹی لاشیں ان دکھیاری ماؤں کے ہاتھوں میں تھما دی گئیں۔ یہ کہتے ہوئے کہ تمہارے بچے مقام شہادت پر فائزہو گئے ہیں۔ اس پر فخر کریں۔ ترانے گائے جاتے ہیں کہ ہم نے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے، بدنصیب مائیں آہ و زاری کرتی ہیں، روتے چلاتے پوچھتی ہیں کہ ہم نے تو اپنے بچوں کو کسی میدان جنگ میں نہیں بھیجا تھا۔ ہمیں یہ شہادتیں یہ رتبے نہیں چاہیں، ہم نے تو اپنے ان پھولوں اور کلیوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے لئے تابناک مستقبل بنانے کے لئے سکول بھیجا تھا۔ ہماری تو کسی سے کوئی دشمنی نہ تھی، پھر ہمارے اوپر یہ قیامت کیوں ڈھائی گئی؟

وہ اپنی آہوں بھری فریاد لے کر پشاور کے طاقتور ترین آفیسر کے پاس پہنچتی ہیں تو سفاکیت بھرے لہجے میں جواب ملتا ہے کہ ’یہاں لوگ روز شہید ہوتے ہیں تمہارے بچے انوکھے نہیں تھے، مر گئے ہیں تو نئے پیدا کر لو‘۔  جن ماؤں کے معصوم جگر گوشے مرے تھے انہیں بے حسی و سنگدلی کے یہ الفاظ کہنے والے کاسینہ پھٹ کیوں نہیں گیا؟ ایسے طاقتور لوگوں کے اندر کی یہ ہے غلاظت؟ رہ گئے وہ جنہوں نے اتنے محفوظ علاقے اور بلند و بالا دیواروں کے باوجود سکول میں گھس کر بے دردی سے ان پھولوں کو مسلا، ان سے پوچھا جاتا ہےکہ تم لوگ دعوے تو اتنے بڑے دین کی علمبرداری کے کرتے ہو، معصوم بچوں کے سروں اور سینوں میں یوں بے دردی سے گولیاں مارتے ہوئے تمہیں ذرا لاج نہ آئی ذرا رحم نہ آیا تو اس طالبانی لیڈر کاجو جوابی و توضیحاتی بیان آیا وہ پوری دنیا کے میڈیا میں مفصل پڑھا سنا گیا۔ اس مادر وطن میں آزادی اظہار کا یہ عالم ہے کہ درویش ان طالبانی دہشت گردوں کا وضاحتی جواب بلا کم و کاست تحریر تو کر سکتاہے مگر افسوس یہ چھپ نہیں سکتا اور نہ اس پر یہاں تنقیدی جائزہ پیش کیا جا سکتا ہے۔ ملفوف بات اتنی ہے کہ انہوں نے بنوقریظہ کے بچوں کا ریفرنس دیتے ہوئے پوری ڈھٹائی سے کہا کہ ہم نےجو کچھ کیا ہے شرع کے عین مطابق کیا ہے۔

کسے نہیں معلوم کہ ان کے ایک لیڈر اور ترجمان احسان اللہ احسان کو ہمارے طاقتوروں نے پکڑا یا مہمان بنا کر رکھا۔ قومی میڈیا کے سامنے انٹرویوز دیتے ہوئے دکھایا گیا اور پھر ایک دن چھوٹی سی خبر آئی کہ وہ تو ہمیں چکمہ دےکر فرار ہو گیا ہے۔ اب ملی جلی خبریں یہ آ رہی ہیں کہ ہم تو مائل بہ کرم ہیں مگر کیا کریں ٹی ٹی پی والے صلح صفائی کی طرف آ ہی نہیں رہے، وہ تو مطالبات ہی بڑے سخت کر رہے ہیں اس ساری صورت حال پر درویش کیا کہے۔ ڈوب مرنے کا مقام ہے۔ قدیم عرب میں حلف الفضول کی دہائی تھی، آج نیشنل ایکشن پلان کی پکار ہے۔

اب 16 دسبمر کی تلخ یادوں بھرے دوسرے ایشو پر آتےہیں درویش نے مشرقی کمان کے کمانڈو کمانڈر کو جب اس کے منہ پر کہا کہ کیا آپ ہی وہ جنرل نیازی ہیں جس نے اس ملک کے عوام ہی نہیں اس کے دو قومی نظریہ کے منہ پر بھی کالک مل دی جس نے ہمیں جھوٹے قومی تفاخر پر مبنی جعلی ترانے گانے کے قابل بھی نہیں چھوڑا تو وہ ہچکیاں لے کر رونے لگا۔ آج ہم کس کو دوش دیں؟ طاقتوروں کو آیا کمزوروں کو؟ یا اس ملک میں پھیلائی گئی جنونی جہالت کو؟ یا ہمارے تعلیمی اداروں میں پڑھائے جانے اور میڈیا میں پھیلائے جانے والے جنونی نظریہ کو یا اس کے معماروں کو؟

تحریک پاکستان تو اٹھی ہی بنگال سے تھی، 1906 میں بمقام ڈھاکہ ، مسلم لیگ تو بنائی ہی بنگالیوں نےتھی، جب جناح صاحب کانگریس میں بیٹھے ہندو مسلم ایکتا کے گیت گا رہے تھے۔ 1947 کی پارٹیشن سے قبل حسین شہید سہروردی پورے متحدہ بنگال کے منتخب وزیراعظم تھے۔ شیخ مجیب الرحمن بائیسکل پر گلی گلی، قریہ قریہ مسلم لیگ اور پاکستان کے نعرے لگاتے گھوم رہے تھے۔ یہ وہی شیخ مجیب الرحمن تھے جو مابعد بھی جناح صاحب کی بہن کے صدارتی الیکشن میں پولنگ ایجنٹی سے لے کر بڑے بڑے جلسوں تک پیش پیش تھے لیکن ان ھر دو قائدین کے ساتھ مغربی پاکستان کی نام نہاد قیادت، طاقتور اور مداری ہردو نےکیا ’حسن سلوک‘ کیا؟ وزیراعظم سہروردی کی اس ملک میں کس قدر تذلیل کی گئی۔ لیاقت علی سے لے کر لٹھ بردار تک کے بیانات ملاحظہ فرمائیں جو آج بھی اُس دور کے اخبارات میں موجود ہیں۔ کرپشن اور لوٹ مار کے گھٹیا اور جھوٹے الزامات عائد کرتے ہوئے انہیں جیل کی کال کوٹھڑیوں میں بند رکھا گیا۔ کس نے کہا تھا کہ ’میں سہروردی کے قبر میں پہنچنے تک اس کا پیچھا نہیں چھوڑوں گا‘۔ یہ کیسی جمہوریت تھی تین سو کے ایوان میں ایک سو اکسٹھ سیٹوں کی کلیئر میجارٹی لینےوالے کو تو جیل بھیجا جا رہا تھا اور محض اکاسی ممبران رکھنے والے کو وزارت عظمیٰ کے سنگھاسن پر بٹھائے جانے کی تیاریاں کی جا رہی تھیں۔ کیا اس پر مظلوم بنگالی عوام کا احتجاج نہیں بنتا تھا؟ جسے آپ نےا پنی طاقت کے نشے میں بھون کر رکھ دینے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔

جمہوریت کی تاریخ میں یہ پہلی مثال ہے کہ میجارٹی، مینارٹی کے استبداد سے، جیتنے کے باوجود، آزادی کی جنگ لڑ رہی تھی۔ یہاں آزادی اظہار کا یہ عالم ہے کہ درویش نےدو دہائیاں قبل ایک آرٹیکل تحریر کیا ’بنگلہ دیشی قوم کو ان کا یوم آزادی مبارک‘ مگر اپنے پیپر میں وہ چھپ نہیں سکتا۔ اگر استدلال کے کسی پوائنٹ پر اعتراض ہے تو بھائی ساتھ ہی اس کا جواب بھی چھاپو یا پھر کہو کہ ہم بنگلہ دیش کو ایک آزاد و خود مختار ملک کے طور پر تسلیم نہیں کرتے۔

 وہ بنگالی قوم جسے یہاں بھوکا ننگا کہہ کر ان کا مذاق اڑایا جاتا تھا۔ آج کسی بھی شعبہ حیات میں ذرا ان سے اپنا تقابل کرکے دیکھو ۔ یہ تمام تر فیضان ہے آپ کے استبداد سے نکلنے کا، اس لیے اب سقوط ڈھاکہ کے ٹسوے بہانا بندکرو اور سیدھے ، سبھاأؤ اپنے سیاہ کرتوتوں پر توبہ تائب ہوتے ہوئے بنگلہ دیشی بھائیوں کو ان کے پچاسویں یوم آزادی کی مبارکباد پیش کرو۔