حکومت کا جسٹس (ر) وجیہہ کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ کرنے کا اعلان
- جمعرات 16 / دسمبر / 2021
- 3960
عمران خان پر الزامات لگانے پر حکومت نے جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ایک باقاعدہ مہم کے ذریعے لوگوں پگڑیاں اچھالی جارہی ہیں۔
یہاں وزیر اعظم کی عزت بھی محفوظ نہیں ہے۔ اس وقت پاکستان کے عوام کی عزت نفس ایک طرف اور کچھ لوگوں کے مفادات ایک طرف ہیں۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ آئین کا آرٹیکل 9 اور 14 پاکستان کے شہریوں کی عزت نفس محفوظ رکھنے کا حق دیتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان کے میڈیا کی جانب سے اس حق کی مسلسل خلاف ورزی کی جارہی ہے۔
یہاں پر عام شہری کی عزت تو کیا وزیر اعظم کی عزت بھی محفوظ نہیں ہے، لوگوں کی عزت نفس کو مجروح کرنے کے لیے باقاعدہ مہمات چلائی جاتی ہیں۔ پی ٹی آئی کی حکومت کے آنے کے بعد نجم سیٹھی نے ایک پروگرام کیا جس میں انہوں نے کہا کہ عمران خان نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے۔ اس کے بعد کہا گیا کہ اسلام آباد کے چیف کمشنر کو اس لیے تبدیل کیا گیا تاکہ بنی گالہ کی مرمت کی جائے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیر اعظم پر یہ الزام بھی لگایا گیا کہ جہانگیر ترین عمران خان کا خرچ اٹھاتے رہے ہیں۔ ملک کے وزیر اعظم کے ذاتی مسئلوں کو ٹی وی پر لایا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ دو روز قبل بول ٹی وی کے پروگرام تبدیلی میں گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کےسابق رہنما جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد نے کہا تھا کہ ’یہ سوچ بالکل غلط ہے کہ عمران خان کوئی دیانت دار آدمی ہے‘۔
انہوں نے الزام لگایا تھا کہ عمران خان کی صورت حال یہ ہے کہ انہوں نے سالہاسال سے کبھی اپنا گھر خود نہیں چلایا۔ ابتدا میں جہانگیر ترین والے لوگ 30 لاکھ روپے ماہانہ دیا کرتے تھے، ان کا گھر چلانےکے لیے۔ پھریہ رقم 50 لاکھ ماہانہ کردہ گئی۔
وفاقی وزیر کا پریس کانفرنس میں کہنا تھا عمران خان کو کرکٹ میچز جیتنے میں جو انعامات ملے انہوں نے کسی لالچ کے بغیر شوکت خانم ہسپتال کے لیے وقف کیے۔ وزیراعظم نے اپنے ذاتی خرچ کے لیے کبھی پاکستان کے خزانے پر بوجھ نہیں ڈالا۔ وجیہہ الدین اور نجم سیٹھی جیسے افراد کا کیا جائے، نجم سیٹھی پر تین سال سےکیس چل رہا ہے لیکن انہوں نے عدالت سے اسٹے لے لیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہمارا عدالتی نظام کیا کر رہا ہے۔
جب ملک کے وزیر اعظم پر اس قسم کے الزامات لگائے جاتے ہیں تو ملک کے لوگوں کا اعتماد اٹھ جاتا ہے۔ اس لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم وجیہہ الدین احمد پر کیس فائل کر رہے ہیں۔
فواد چوہدری نے ہائیکورٹس کے چیف جسٹس سے مطالبہ کیا کہ وہ ضلعی اور صوبائی سطح خصوصی بینچز قائم کریں تاکہ اس قسم کے کیسز پر فیصلے کے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم ان ٹیلی ویژن کو بھی نوٹس دے رہے ہیں، جنہوں نے الزامات کو مہم کا حصہ بنایا اور اسے نشر کیا۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم نے میڈیا کے لیے قوانین تشکیل دیے تھے لیکن صحافیوں نے دھرنا دے دیا۔ اور اب پاکستان کے شہریوں کی عزت نفس ایک طرف اور چند لوگوں کا مفاد ایک طرف ہے۔ اسے متوازن کرنا ہے۔ ہم چاہتے ہیں یہ ’فیک نیوز‘ کا سلسلہ جو ہاتھ سے نکل گیا ہے اس پر سخت قوانین بنائے جائیں۔
کسی شخص کا بیان نشر کرنے کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال پر فواد چوہدری نے کہا کہ دنیا میں کہیں ایسا نہیں ہوتا کہ الزامات پر مبنی بیان چلا دیا جائے سب سے پہلے ان الزامات کی تصدیق کی جاتی ہے، اس لیے یہ اہم ہے کہ اس پر قانون بنایا جائے۔