ڈیڑھ گھنٹے کی تقریر سے 3 منٹ کا کلپ نکالا گیا: شبر زیدی کی وضاحت
- جمعرات 16 / دسمبر / 2021
- 3670
سوشل میڈیا پر کلپ وائرل ہونے کے بعد شبر زیدی نے وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ ’جامعہ ہمدرد میں کی گئی میری تقریر کو غلط رپورٹ کیا گیا۔ ڈیڑھ گھنٹے کی پریزینٹیشن میں سے صرف 3 منٹس کو نکال لیا گیا۔
ٹوئٹس میں اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ یہ تو میں نے کہا ہے کہ ’مسلسل کرنٹ اکاؤنٹ اور مالیاتی خسارے کے ساتھ دیوالیہ ہونے اور اگے بڑھنے کے مسائل ہیں لیکن اس کے حل پر توجہ دیں‘۔ میں نے جو کہا وہ بنیاد اور یقین کے ساتھ کہا، صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ پوری تقریر کو پڑھ اور سن لیں۔
خیال رہے کہ جامعہ ہمدرد میں ملکی معیشت کے حوالے سے ایک پریزینٹیشن دیتے ہوئے سابق چیئرمین ایف بی آر نے کہا تھا کہ ملک بہت اچھا چل رہا ہے، ہم نے بہت کامیابی حاصل کرلی، ہم تبدیلی لے کر آگئے لیکن میری نظر میں یہ ملک دیوالیہ ہوچکا ہے اور اکاؤنٹنگ کی تعریف میں آگے بڑھتا دکھائی نہیں دے رہا۔
انہوں نے کہا کہ پہلے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ تسلیم کرلیا جائے کہ ملک دیوالیہ ہوچکا ہے اور اب ہمیں آگے بڑھنا ہے۔ یہ بہتر ہے بجائے اس کے کہ کہا جائے کہ ملک اچھا چل رہا ہے، میں یہ کردوں گا وہ کردوں گا، یہ لوگوں کو دھوکہ دینے والی بات ہے۔
اپنی پریزینٹیشن میں سابق چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ صوبے این ایف سی سے پیسے وصول کرلیتے ہیں لیکن اسے آگے تقسیم نہیں کرتے اور وہاں کرپشن ہوجاتی ہے۔ پاکستان میں جگہ جگہ ایکسچینج کمپنیاں کھلی ہوئی ہیں، لوگ ڈالرز جیب میں لے کر گھوم رہے ہیں۔ اس پر ملک نہیں چلایاجاسکتا، یہ کام نہیں کرے گا کیوں کہ ایکسچینج کمپنیوں کے پیچھے حوالہ کی کمپنیاں قائم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایکسچینج پالیسی کی مکمل تجدید نو کرنی پڑے گی۔ دوسرا یہ کہ ملکی قرضے جو تقریباً 25 ہزار ارب روپے کے برابر ہیں انہیں ری ماڈل کرنا پڑے گا اور سوچنا پڑے گا کہ جو وفاقی حکومت کے اثاثے ہیں مثلاً اراضی وغیرہ، کیا انہیں قرضوں کی ادائیگی کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
اگر یہ قرضے جاری رہے تو ہماری معیشت میں اتنی گنجائش نہیں ہو گی کہ ہم عوامی فلاح کا کوئی پروگرام شروع کرسکیں اس لیے ملکی قرضوں کی ری ماڈلنگ کرنی پڑے گی۔ شبر زیدی نے کہا کہ یہ کہنے سے کہ قرض نواز شریف نے لیا تھا یا عمران خان نے لیا تھا، اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ قرض چاہے پرویز مشرف، آصف زرداری، نواز شریف یا عمران خان میں سے کسی نے بھی لیا ہو وہ قرض پاکستان کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قرضوں کی ادائیگی کرنی پڑے گی لیکن کس طرح کرنا ہے اصل سوال یہ ہے۔ ڈسکاؤنٹ ریٹ کا مذاق بنایا ہوا ہے اسے سیٹل کرنا پڑے گا، یہ نہیں ہوسکتا کہ اسٹیٹ بینک کے بورڈ روم میں 4 لوگ بیٹھ کر ڈسکاؤنٹ ریٹ کا فیصلہ کرلیں جبکہ ساری دنیا اس سے مختلف بات کررہی ہو۔
سابق چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ وہ 4 بندے کہاں سے آئے، انہیں کس نے تعینات کیا، ان کی کیا قابلیت ہے کیا بنیاد ہے۔ یہ اس طرح نہیں کیا جاسکتا۔ شبر زیدی نے کہا کہ کہا جاتا ہے کہ اسٹیٹ بینک کو خودمختاری دے دیں۔ ٹھیک ہے دے دیں تو اس کا بورڈ کون ہوگا اس میں تعیناتی کون کرے گا۔ یہ نہیں ہوسکتا ہے کہ اگر میں وزیر خزانہ ہوں تو میرے 4 جاننے والے بورڈ میں شامل ہوجائیں اور بیٹھ کر پاکستان کی قسمت کا فیصلہ کریں، یہ کام اس طرح نہیں ہوتا۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں کسی بھی ملک میں برآمدات کی ترقی اس صورت ہوئی کہ برآمدات ساحلی علاقوں میں تیار کی جارہی ہوں۔ یہ نہیں کرسکتے کہ یہاں سے توانائی ساہیوال لے کر جائیں، وہاں خام مال پہنچائیں پھر فیصل آباد میں تیار کریں اور کراچی لا کر برآمد کریں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایکسپورٹیبل سرپلس جب آئے گا جنوبی پاکستان سے آئے گا۔ دنیا میں جس نے بھی ایکسپورٹیبل سرپلس بنائے وہ صرف اس وقت آسکتے ہیں کہ قابل برآمد مصنوعات بندرگاہ کے نزدیک تیار کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ تین طرح کی ٹرانسپورٹ کے ساتھ برآمدات میں آپ کبھی مسابقت میں نہیں لاسکتے۔ اس کے لیے ایکسپورٹیبل سرپلس کو جنوبی پاکستان منتقل کرنا پڑے گا۔ ایک اور اہم چیز یہ ہے کہ ترسیلات زر کے تصور سے نکلنا پڑے گا کیوں کہ ترسیلات زر افرادی قوت کی برآمد ہوتی ہے۔ ہمیں افرادی قوت نہیں بلکہ خدمات ایکسپورٹ کرنی ہیں مثلاً کسی جامعہ میں دوسرے ممالک کے طلبا کو راغب کرکے انہیں تعلیم برآمد کرنا وغیرہ۔
شبر زیدی نے کہا کہ ہمیں طبی خدمات، انجینیئرنگ سروسز، اکاؤنٹنٹ سروسز برآمد کرنی ہیں، ڈاکٹر، انجینیئرز اور اکاؤنٹنٹس ایکسپورٹ نہیں کرنے۔ ہم اخراجات کرکے ایک اچھا ڈاکٹر تیار کرتے ہیں جو دبئی چلا جاتا ہے، یہ بے کار ہے۔ دنیا اس پر نہیں چلتی، بندہ نہیں بلکہ سروسز ایکسپورٹ کرنی ہیں۔
شبر زیدی نے کہا کہ اس چیز سے آپ اتفاق اور عدم اتفاق کرسکتے ہیں کہ جب تک افغانستان کی صورتحال ٹھیک نہیں ہوگی، پاکستان کی معیشت ٹھیک نہیں ہوسکتی۔ 15 اگست کو آپ نے طالبان کا خیر مقدم کیا تو جب تک افغانستان میں جامع حکومت نہیں آئے گی، مغربی ممالک انہیں تسلیم نہیں کریں گے۔ اس وقت تک آپ اس عذاب میں پھنسے رہیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ کو 15 اگست 2021 کو پیش آنے والے واقعے کی سزا مل رہی ہے۔ یہ فیصلہ آپ کو کرنا پڑے گا کہ کیا آپ کے پاس اس سزا کو بھگتنے کی ہمت ہے۔ فوری طور پر امریکا اور مغربی ممالک کے ساتھ ’انتہائی اچھے‘ تعلقات بنانے پڑیں گے، کیوں کہ پاکستان کی برآمدات 20 ارب ڈالر ہے جب یہ 40 یا 50 ارب تک پہنچے گی تو اس کا خریدار مغرب ہوگا اور کوئی نہیں۔
شبر زیدی نے کہا کہ فیصلہ کرلیں کہ برآمدات نہیں بڑھانی۔ یا اگر اسے بڑھانا ہے تو واشنگٹن سے دوستی کرنی پڑے گی۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ برآمدات بھی بڑھانی ہو اور واشنگٹن کو گالیاں بھی دیتے رہیں، یہ دونوں کام ایک ساتھ نہیں ہوسکتے۔ امریکا آپ کا خریدار ہے اسے خوش رکھنا ہے۔ کرنا ہے تو کریں نہیں کرنا تو نہ کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) میں شفافیت اور حد بندی لے کر آئیں کہ ان میں کون سے منصوبے شامل ہیں اور کون سے نہیں۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ آپ سیاسی بنیادوں پر معاشی فیصلے کرلیں اور ایسے معاشی فیصلے جس کی کوئی بنیاد نہ ہو اس سے پاکستان کی پوری معیشت ڈسٹرب کردیں۔ اس کے بعد آپ کو علاقائی تجارت کی جانب جانا ہوگا، دنیا میں کوئی ملک یا خطہ علاقائی تجارت کو فروغ دیے بغیر ترقی نہیں کرسکتا۔
انہوں نے کہا کہ آپ بھارت سے دوائیں حاصل کررہے ہیں، اس وقت دشمنی کہاں چلی جاتی ہے اور باقی چیزوں میں کیا مسئلہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے غلط بنیاد پر فیصلہ کیا، اتنی ہمت ہے تو بھارت سے دواؤں کا خام مال بھی نہ لیں۔ علاقائی تجارت میں کی گئی ڈرامے بازی کو ختم کیا جائے اور جو چیز معاشی درجہ بندی میں آتی ہیں اسے لے کر چلیں۔
شبر زیدی نے کہا کہ 4 چیزوں کے ساتھ یہ ملک نہیں چل سکتا ایک یہ کہ ایڈمنسٹریشن معیشت کو خراب کردیتی ہے، صوبائی حکومتیں نان ورک ایبل ہیں، فوری طور پر اسے 9 صوبوں میں تقسیم کرنا پڑے گا، بھارت کی آزادی کے وقت اس کے 17 صوبے تھے آج 23 ہیں۔
کوئی بھی پرائمری اسکول چاہے دیہات میں ہو یا شہر میں وہاں انگریزی ہونی چاہیے کیوں کہ جو بچہ چھٹی جماعت سے انگریزی پڑھنا شروع کرتا ہے، وہ دوسرے درجے کا پاکستانی شہری بن جاتا ہے۔ اہ انگلش میڈیم سے پڑھ کر آنے والے بچے کا کبھی مقابلہ نہیں کر پاتا۔ ایک نسل تیار کردی گئی ہے جو احساس کمتری کا شکار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ معاشرہ، سیاست اور معیشت ایک ساتھ چلتی ہیں جسے آپ کو سیدھا کرنا پڑے گا۔