سانحہ آرمی پبلک اسکول کے متاثرین کی قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دیں گے: وزیر اعظم

  • جمعرات 16 / دسمبر / 2021
  • 3700

سانحہ آرمی پبلک اسکول کے 7 سال مکمل ہونے پر وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک نے کامیابی کے ساتھ دہشتگردی کو شکست دے دی ہے، انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہم شہدا کے والدین اور حملے میں بچ جانے والوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔

واضح رہے کہ 16 دسمبر 2014 کو ملکی تاریخ کے بدترین دہشتگرد حملے میں اسلحے سے لیس حملہ آوروں نے پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں 131 طالب علم اور 10 دیگر افراد شہید ہوگئے تھے۔ اسکول کے بچوں پر ہونے والے اس حملے نے پوری قوم کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے کمانڈر عمر منصور عرف عمر نارے نے اس سفاکانہ حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ بعد ازاں امریکی حکومت اور پاک فوج نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ 9 جولائی 2016 کو عمر منصور افغان صوبے ننگرہار میں امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا۔

پاکستان کی تاریخ کے اس المناک واقعہ پر وزیر اعظم کا ٹوئیٹ میں کہنا تھا کہ ’تشدد اور اسے ایک آلے کے طور پر استعمال کرنے والوں کو بالکل برداشت نہیں کیا جائے گا‘۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے اسے قوم کے لیے ایک دردناک دن قرار دیتے ہوئے سوال کیا کہ کیا ہم نے کوئی سبق سیکھا اور کیا ہم نے اپنا راستہ درست کیا؟ انہوں نے ایک  ٹوئٹ میں کہا کہ ہم اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے کب خلوص دل کے ساتھ مل کر بیٹھیں گے؟ اس وقت سوالات بہت زیادہ ہیں اور جوابات بہت کم۔

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ قوم اب تک اس سانحے کی شدت کو محسوس کرتی ہے۔ ہر کوئی آج تک ان معصوموں کو انصاف ملنے کا منتظر ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جن درندوں نے معصوم بچوں اور اساتذہ پر ہونے والے اس حملے کی منصوبہ بندی کی، اس کی معاونت کی اور اسے انجام دیا انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانا چاہیے۔

اس دہشتگرد حملے کے ایک ہفتے بعد 24 دسمبر 2014 کو اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے پاکستان کی بقا کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک جامع منصوبہ پیش کیا تھا۔ 20 نکات پر مبنی اس منصوبے کو نیشنل ایکشن پلان کا نام دیا گیا تھا۔ یہ منصوبہ تمام پارلیمانی جماعتوں کے طویل اجلاسوں کے بعد طے پایا تھا اور یہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ’ایک فیصلہ کن‘ لمحہ تھا۔ اس وقت وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’ایک لکیر کھینچ دی گئی ہے‘۔

نیشنل ایکشن پلان میں مدارس کی رجسٹریشن، میڈیا میں دہشت گردی کی تشہیر روکنے، فاٹا اصلاحات، دہشت گردوں کے رابطے کے ذرائع کو ختم کرنے، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے دہشتگردی کے لیے استعمال کے خلاف اقدامات، عسکریت پسندی کے رجحان کو تبدیل کرنے کے اقدامات، لاقانونیت کو ختم کرنے کے لیے کراچی آپریشن کے آغاز اور دہشتگردوں اور شدت پسندی کو جگہ نہ دینے کے اقدامات شامل تھے۔

نیشنل ایکشن پلان میں ناراض بلوچوں کو منانے، فرقہ ورانہ دہشتگردی کے خاتمے، افغان مہاجرین کی واپسی اور نظام انصاف کی بہتری کی بھی بات کی گئی تھی۔

رواں ماہ انسانی حقوق کی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ سیالکوٹ کی فیکٹری میں سری لنکن شہری پری یانتھا کمارا پر توہین مذہب کا الزام لگانے اور اسے تشدد کرکے ہلاک کرنے کے واقعے کے بعد حکومت نے نیشنل ایکشن پلان پر نظر ثانی کا فیصلہ کیا ہے۔

اکتوبر 2018 میں پشاور ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ کے احکامات پر جسٹس محمد ابراہیم خان کی سربراہی میں ایک رکنی کمیشن تشکیل دیا جس کا مقصد اس واقعے کی تحقیقات کرنا تھا، کمیشن نے اپنی رپورٹ جولائی 2020 میں سپریم کورٹ میں جمع کروائی۔

رپورٹ کے خلاصے میں کہا گیا ہے کہ ہمارا ملک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں برسرپیکار رہا اور سال 14-2013 میں ملک میں دہشت گردی اپنے عروج پر پہنچی۔ اس کے باوجود ہماری حساس تنصیبات یا سافٹ ٹارگٹس پر ہونے والے حملوں کا جواز فراہم نہیں کیا جاسکتا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ انتہا پسند عناصر کو مقامی آبادی کی طرف سے مدد فراہم کیا جانا ناقابلِ معافی جرم ہے۔