بنگلہ دیش اور کشمیر: کیا ایک نیا فیصلہ کرنا ضروری ہوگا؟
- تحریر اختر چوہدری
- جمعرات 16 / دسمبر / 2021
- 6100
سولہ دسمبر1971 پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم دن ہے۔ وہ سفر جو دو بھائیوں نے ایک ساتھ شروع کیا تھا یکلخت اپنے اختتام کو پہنچا۔ برسوں کا جھگڑا خون اور بارود کی لمبی اور تاریک شام سے گزرتا ہوا ایک اندھیرے موڑ پر رک گیا۔
خون و خاک سے شروع ہونے والا سفرخون اور خاک ہی پر تمام ہوا۔ اب کی بار خون بھی اپنوں کا تھا اور خاک بھی ہم نے خود اڑائی تھی۔ دکھ قیامت کا تھا اور احمد فراز کے الفاظ میں ہم روئے بھی بہت۔
تاریخ کے اس دوراہے پربقیہ پاکستان کی پاس دو راستے تھے۔ اول یہ کہ ہم آنے والے تمام دنوں میں گئے دنوں کا سراغ ڈھونڈتے اور نئی نسلوں کو اس شکست و ریخت پر طیش اور رنج کا بھاری پتھر نسل در نسل منتقل کرتے۔ یہ راستہ عین ممکن تھا۔ ہم سے پہلے بہتوں نے ایسا راستہ اختیار کیا تھا اور ان کی نسلیں آج بھی آنسوؤں کے تحفے ایک نسل سے اگلی نسل تک منتقل کر رہی ہیں۔ سابقہ یوگوسلاویہ اس کی ایک مثال ہے اور اس کا نتیجہ بھی ہم دیکھ چکے ہیں۔ یوگوسلاویہ کے شہری کئی دہائیوں سے نفرت کا زہر پی اور پلا رہے ہیں۔ آج بھی وہاں سوائے شکست و ریخت کے نہ کچھ بیجا جا رہا ہے، نہ کاٹا۔
نفرت کے ایسے راستے قوموں سے بڑی قیمت مانگتے ہیں۔ اس راستہ پر جذباتی اور ذہنی طور پر لوگ منفی سوچتے ہیں اوراس کا اجتماعی نفسیاتی قومی مزاج پر منفی اثر پڑتا ہے۔ منفی قومی مزاج نئی سوچ اور جدت کے راستے میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ چونکہ قوم ایک خارجی دشمن کا وجود سامنے رکھ لیتی ہے تو اس دشمن کو شکست دینے یا اس کے خلاف دفاع کے لیے اپنے مالی وسائل کا ایک بڑا حصہ خرچ کرتی ہے۔ یہ اخراجات تعلیم و تحقیق کی مد سے لیے جاتے ہیں۔ قومی ترقی رک جاتی ہے۔
دوسرا راستہ وہ تھا جوپاکستان کی سیاسی قیادت اور پاکستانی قوم نے اختیارکیا۔ ہم نے ایک دانشمندانہ اورجراٗتمندانہ فیصلہ کیا۔ مجھے یقین ہے کہ تمام پاکستانی اس امر سے اتفاق کرتے ہیں کہ ہمارا بنگلہ دیش کو تسلیم کرنا ایک درست فیصلہ تھا۔ میں نے اپنی ساٹھ سالہ زندگی میں گاہے گاہے پاکستان کے دو لخت ہونے پر چند ٹھنڈی آہیں تو سنی ہیں لیکن اس سے زیادہ کوئی اور ردِ عمل سامنے نہیں آیا۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ پاکستان کا بنگلہ دیش کو تسلیم کرلینا ایک دانشمندانہ عمل تھا۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے سے پاکستانی کا کوئی ایسا کام ہےجو رک گیا ہو؟ پاکستانیوں نے اپنی سوچ کر ایک سو اسّی درجے موڑا، اور کوئی قیامت نہیں آئی۔ بنگلہ دیش برِاعظم ایشیا کا ایک اور ملک بن گیا۔ وہ مسلم ممالک کی فہرست میں ایک نئے ملک کے طور پر مانااور جانا جانے لگا۔ پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر لیے۔ دو بھائی جو پہلے ہر روز طعن و تشنیع کرتے تھے، اب ایک دوسرے کو چائے پر بلانے لگے۔ ہمارا کوئی کام بنگلہ دیش کے بغیر نہ رکا۔ زندگی نے نیا رخ لے لیا۔
اب ایک چھبتا سوال ہے کہ اگر پاکستان کے دولخت ہونے سے اور پاکستان کے بنگلہ دیش کو ایک نیاملک تسلیم کرنےسے، کوئی قیامت نہیں ٹوٹی، نہ کوئی زمین پھٹی، نہ کوئی آسمان گرا، تو کیا ہم ایسا رویہ ایک اور جھگڑے کو حل کرنے کے لیے بھی اختیار کر سکتے ہیں؟ کیا ہم یہ سوچنے پر تیار ہو سکتے ہیں کہ ہم پچھلے 75 سال کے تجربات اور موجودہ سیاسی اور بین الاقوامی سیاسی پسِ منظر میں کشمیر پر اپنے موقف سے رجوع کریں؟ کیا ہم کشمیر کے معاملہ میں کوئی نئی سوچ اپنا سکتے ہیں؟ کیا ہم کوئی ایسا راستہ تلاش کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں جس سے پاکستانی قوم اس 75 سالہ سیاسی، عسکری، معاشرتی اور معاشی دلدل سے نکل سکے؟
آخر ہم نے مشرقی پاکستان کے سلسلہ میں بھی تو اپنی سوچ کو تبدیل کیا تھاَ؟ اور جیسا کہ میں عرض کر چکا ہوں، اس سے کوئی قیامت نہ ٹوٹی تھی۔ بلکہ اس سے خیر اور برکت ہی نکلی تھی۔ آج کشمیر کے مسئلہ پر پاکستان کا موقف سوائے پاکستان کے کوئی تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ لے دے کر کر شاید ایک چین ہے جو پاکستان کے موقف کی تائید کرے۔ لیکن دنیا میں صرف چین کی مدد سے پاکستان اس جنگ کو نہیں جیت سکتا۔
پچھتر سال سے پاکستان کی فوج تین چار بار گولی اور بندوق سے بھی اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کر چکی ہے۔ لیکن ہر بار نتیجہ صفر رہا ہے۔ وہ نیم عسکری گروہ جو ان 75 سالوں میں اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں، انہوں نے خود پاکستان کی سالمیت کو زِک پہنچائی ہے۔ اب وقت آن پہنچا ہے کہ پاکستانی ٹھنڈے دل سے حالات پر غور کریں اور کشمیر کے مسئلہ کو آج کے زمینی حقائق کی روشنی میں حل کرنے کا جرات مندانہ راستہ ختیار کریں۔
آخر میں یہ کہنا لازم ہے کہ مقبوضہ کشمیر پر ہندوستان کے غیراخلاقی اور غیرانسانی قبضہ اور انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی آج بھی اسی طرح قابلِ مذمت ہے جیسے وہ بیس سال قبل، تیس سال قبل اور پچاس سال قبل تھی۔ کشمیری قوم کا بنیادی حق ہے کہ انہیں آزادی اور امن جیسے بنیادی انسانی حقوق جلد از حاصل ہوں۔ سوال یہ ہے کہ اس مقصد کے لیے کون سا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔