اوآئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں امریکی مندوبِ خصوصی ٹام ویسٹ بھی شرکت کریں گے

  • جمعہ 17 / دسمبر / 2021
  • 3200

وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ 19 دسمبر کو اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں امریکا کے مندوب خصوصی برائے افغانستان ٹام ویسٹ بھی شرکت کریں گے۔

اسلام آباد میں ملکی و غیر ملکی میڈیا نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے اسے مثبت پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کا غیر معمولی اجلاس 41 سال بعد ہورہا ہے۔ افغانستان اور پاکستان کا امن باہم منسلک ہے جس سے ہماری زمینی مواصلات اور تجارتی روابط کو فروغ ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں تاریخ بن رہی ہے اور ہم سب اس انسانی المیے کے مشترکہ ذمہ دار ہوں گے۔ افغانستان میں 10 لاکھ بچے غذاکی کمی کا شکار ہیں، برائے مہربانی انہیں تنہا نہ چھوڑیں۔ کسی مخصوص گروہ کے بارے میں نہیں بلکہ افغانستان کے بارے میں سوچیں۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اگر انسانی بحران کو نہ روکا گیا تو ملک معاشی طور پر تباہ ہوجائے گا اور اگر توجہ نہ دی گئی تو بہت بڑا انسانی المیہ جنم لے گا۔ کیوں کہ افغانستان میں القاعدہ اور داعش کی باقیات دوبارہ متحرک ہوسکتے ہیں۔ اگر یہ موقع ہاتھ سے نکل گیا تو ہمیں نئے انخلا کی تیاری کرنی ہوگی جس سے پاکستان، سمیت افغانستان کے ہمسایہ ممالک اور یورپی یونین کی ریاستیں بری طرح متاثر ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ اگر افغانستان سے لوگوں کا نیا انخلا ہوا تو یہ معاشی ہجرت ہوگی اور وہ خطے سے باہر جائیں گے۔ آپ انہیں کس طرح قابو اور چیک کریں گے۔ مہربانی کر کے اپنا کردار ادا کریں۔ پاکستان، افغانوں کی مدد کرنے میں بحیثیت ایک ذمہ دار ملک اپنا کردار ادا کررہا ہے۔

افغانستان کی مدد کے سلسلے میں اٹھائے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے خطے کے 6 ممالک پر مشتمل ایک پلیٹ فارم تشکیل دیا ہے جس کا پہلا ورچوئل اجلاس اسلام آباد میں، دوسرا ایران میں ہوا جبکہ تیسرا بیجنگ میں ہوگا۔ افغانستان کے بجٹ کی 75 فیصد ضروریات بینکنگ چینلز کے ذریعے غیر ملکی امداد سے پوری ہوتی تھی لیکن اکاؤنٹس منجمد کردیے گئے ہیں۔  

انہوں نے کہا کہ اشرف غنی حکومت کی ناکامیوں پر پاکستان کو قربانی کا بکرا نہیں بنایا جاسکتا۔ عالمی برداری اپنے رویہ پر نظرِ ثانی کرے اور مشکل حالات میں افغانستان کے لیے مدد کا ہاتھ بڑھائے۔ ٹرائیکا پلس میں شامل جرمنی، جاپان، اٹلی، آسٹریلیا کے مندوب خصوصی برائے افغانستان بھی خصوصی دعوت پر او آئی سی اجلاس میں شرکت کریں گے۔

عالمی برادری افغانستان میں لڑکیوں کے اسکولز کھولنے کا مطالبہ کررہی ہے لیکن مجھے ان سے معلوم ہوا ہے کہ موجودہ افغان حکومت اسکولز کھولنے کے لیے تیار ہے لیکن ان کے پاس تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے رقم نہیں ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود نے کہا کہ او آئی سی کے رکن ممالک کی جانب سے افغانستان کے لیے مالی امداد کی توقع ہے جبکہ برطانیہ کے ڈزاسٹر فنڈ نے افغانوں کے لیے عطیات دینے شروع کردیے ہیں۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ دیگر ممالک میں رہنے والے بہت سے متمول افغان شہری اپنے بہن بھائیوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں لیکن بینکنگ ذرائع کام نہیں کررہے لہٰذا بینکنگ چینلز کی بحالی فوری ضروری ہے۔

اس دوران سعودی عرب کا وفد اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی کونسل برائے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے اسلام آباد پہنچ گیا۔ 19 دسمبر سے شروع ہونے والا اجلاس افغانستان کی صورتحال پر ہورہا ہے جس کی تجویز سعودی عرب نے پیش کی تھی جبکہ پاکستان نے اس کا خیر مقدم کرتے ہوئے اجلاس کی میزبانی کی پیشکش کی تھی۔

سعودی عرب کے شعبہ افغان امور کے سربراہ شہزادہ عبداللہ بن خالد بن سعود الکبیر اور شہزادہ جلوی بن ترکی پر مشتمل وفد جمعہ کی صبح اسلام آباد پہنچا، جن کا استقبال پاکستان میں سعودی سفیر اور دفتر خارجہ کے سینیئر عہدیداروں نے کیا۔

اجلاس میں شرکت کے لیے او آئی سی کے سیکریٹری جنرل حسین بن ابراہیم جمعرات کی رات اسلام آباد پہنچے تھے، ان کا استقبال وزیر مملکت برائے اطلاعات فرخ حبیب نے کیا تھا۔