افغانستان: ڈرون حملے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے رہنما محفوظ
- ہفتہ 18 / دسمبر / 2021
- 5570
مشرقی افغانستان میں واقع ایک سیف ہاؤس پر ہونے والے مشتبہ ڈرون حملے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے رہنما محفوظ رہے ہیں۔
فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ حملہ پاکستانی حکومت اور ٹی ٹی پی کے درمیان جنگ بندی ختم ہونے کے ایک ہفتے بعد ہوا۔ گروپ نے اسلام آباد پر اپنے جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ افغانستان میں ٹی ٹی پی ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ پاکستان کی سرحد سے متصل افغان مشرقی صوبے کنڑ کے گاؤں چوگام میں کمپاؤنڈ پر ڈرون حملہ ہوا جس میں مولوی فقیر محمد کو ہدف بنایا گیا تھا۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ مولوی فقیر محمد حملے کے وقت جائے وقوع پر موجود نہیں تھے، واقعے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے 2 جنگجو زخمی ہوئے۔ پاکستان سے غیر محفوظ سرحد پار کرکے افغانستان آنے والے ٹی ٹی پی جنگجو اس کمپاؤنڈ کو بطور بیس استعمال کر رہے تھے۔
خیال رہے کہ مولوی فقیر محمد کو امریکی حمایت یافتہ سابقہ حکومت نے گرفتار کیا تھا اور انہوں نے کئی سال افغانستان کی بدنام زمانہ بگرام جیل میں گزارے لیکن اگست کے وسط میں طالبان کے ملک پر قبضے بعد انہیں رہا کردیا گیا تھا۔ تاہم یہ اب تک واضح نہیں ہوسکا کہ جمعرات کو ہوئے اس حملے کا ذمہ دار کون تھا۔
افغان طالبان کے ترجمان بلال کریمی نے کابل سے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ حملہ زمین سے فائر ہونے والے دھماکہ خیز مواد سے کیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی 14 سال قبل سامنے آئی تھی جس پر 70 ہزار سے زائد پاکستانیوں کے قتل کا الزام لگایا جاتا رہا ہے۔
واضح رہے کہ جمعرات کو تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں کیے گئے حملے کی ساتویں برسی تھی جس میں 150 طالبعلم شہید ہوئے تھے۔