ہیومن رائٹس اور بلاسفیمی لاز؟
- تحریر افضال ریحان
- ہفتہ 18 / دسمبر / 2021
- 4340
10 دسمبر پوری دنیا میں ہیومن رائٹس کے عالمی دن کی حیثیت سے منایا جاتا ہے۔ اس سال ٹھیک ایک ہفتہ قبل سیالکوٹ میں بدھ مت کے پیروکار ایک سری لنکن کے ساتھ بلاسفیمی کے نام پر جو انسانیت سوز سلوک روا رکھا گیا ہے۔ اس سفاکی و بربریت کے خلاف غم و غصے کا اظہار پوری دنیا میں کیا جا رہا ہے۔
اور پاکستان کے بلاسفیمی لاز کو ختم یا تبدیل کرنے کے لئے مختلف النوع آوازیں اٹھ رہی ہیں جبکہ دوسری طرف ہمارا روایتی طبقہ اس حوالے سے کسی نوع کی بحث چھیڑنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ گزشتہ روز ن لیگ کے رہنما جناب احسن اقبال ملاقات کیلئے غریب خانے پر تشریف لائے تو سانحۂ سیالکوٹ کے حوالے سے خاصے غمگین تھے۔ یہ کہ ہمارے لوگ مذہبی شدت پسندی و منافرت کے حوالے سے کس خطرناک حد تک چلے جا رہے ہیں۔ عرض کی اس حوالے سے قانون سازی میں آپ کی والدہ محترمہ آپا نثار فاطمہ کا بھی ہاتھ ہے۔ بولے مسئلہ قوانین کا نہیں ہے، ان کے درست انطباق کا ہے۔ آپ کے لبرل طبقات جب یہ کہتے ہیں کہ ان قوانین کو ختم ہونا چاہیے تو میرا جواب یہی ہوتا ہے کہ یہ قوانین تو مذہبی شدت پسندی کو بڑھاوا دینے میں ایک طرح سے روک یا رکاوٹ ہیں۔ اگر یہ قوانین نہ ہوں گے تو لوگ خود ہی کسی بے گناہ پر الزام لگائیں گے اور خود ہی سزا دیں گے۔ جبکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ اگر کسی کو اس حوالے سے شکایت ہے تو وہ خود ہی جج نہ بنے بلکہ ایسے ملزم کو قانون کے حوالے کرے۔
مولانا فضل الرحمن صاحب نے حال ہی میں اس نوع کا بیان دیا کہ توہین رسالت کے ملزموں کو چونکہ قانون کے مطابق سزائیں نہیں دی جاتیں، اس لئے لوگ خود قانون کو ہاتھ میں لینے لگتے ہیں۔ میں نے اس پر کہا کہ مولانا صاحب کو ایسی بات نہیں کرنی چاہیے جو لوگ اپنے مفادات یا دیگر مقاصد کے تحت کسی بھی شخص پر خود ہی ایسا گھنائونا الزام لگاتے ہوئے خود ہی قاضی بنتے ہیں ان کی غیر مشروط مذمت ہونی چاہیے۔ عرض کی احسن صاحب آپ تو خود اس مذہبی جنونیت کو بھگت چکے ہیں یہ گھناؤنا الزام عائد کرتے ہوئے آپ کو گولی ماری گئی حالانکہ آپ کی والدہ محترمہ نے قومی اسمبلی میں توہین رسالت کے ملزموں کو سخت ترین سزائیں دلوانے کیلئے اکتوبر 1986 میں بل منظور کروایا تھا۔ یہ تو ایسے ہی ہے جیسے ڈاکٹر ایم ڈی تاثیر نے علم دین کے مسئلے کو اٹھایا اس کے لئے چارپائی تک کا اہتمام کیا اور اس کے نتائج آگے چل کر اس کے بیٹے سلمان تاثیر نے بھگتے۔ میں تو ڈاکٹر جاوید اقبال صاحب سے کہا کرتا تھا کہ اگر آپ نے ذرا سی چوں و چرا کی تو ابا جی کی ترکھانوں کے منڈے سے الفت آپ کو بھی اس کا سبق سکھا دے گی۔ آپ کو تو چاہیے کہ آپ ہمارے لبرل طبقات کی حمایت ہی نہیں، سرپرستی فرمائیں۔ لوگوں کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ آپا نثار فاطمہ نے قومی اسمبلی سے جو قانون منظور کروایا تھا، اقبال احمد خاں کی ترمیم کے ساتھ اس میں سزائے موت کے علاوہ سزائے عمر قید بھی شامل تھی۔ یہ اسمعیل قریشی جیسے متشدد آدمی کی شریعت کورٹ میں پٹیشن تھی جس کے نتیجے میں سزائے عمر قید کو سرے سے ختم کر دیا گیا حالانکہ ایکٹ آف پارلیمنٹ کو کسی بھی ذیلی عدالت پر حاوی نہیں ہونا چاہیے تھا۔
اگلے روز شامی صاحب کی رہائش گاہ پر احسن صاحب کے ساتھ ناشتے کی نشست میں شرکت کا موقع ملا جس میں چنیدہ دانشور صاحبان تشریف فرما تھے۔ یہاں ان قوانین کے حوالے سے بات چھڑی مگر کیا ہے کہ چونکہ چنانچہ ۔۔۔ اس سلسلے میں کھل کر استدلال کرنا اس قدر مشکل بنا دیا گیا ہے کہ جیسے یہ شجر ممنوعہ ہے یا سانپ سونگھنے والی بات ہے۔ آج نظریاتی کونسل کے سابق چیئرمین ڈاکٹر خالد مسعود صاحب سے بھی تفصیلی گفتگو ہوئی مگر کیا کہیں ۔۔۔ مشکل ہے عرض حال، کہنے سے ہو ملال، ہم کیا جواب دیں۔ ڈاکٹر صاحب محترم کتاب مبارک کے ریفرنس سے اظہار خیال فرما رہے تھے کہ ’جس طرح مُحسنات کی بابت فرمان ہے کہ اگر ان پر الزام لگانے والا مطلوبہ ثبوت پیش کرنے سے قاصر رہتا ہے تو متعلقہ سزا الزام لگانے والے پر لاگو کی جائے گی، بلاسفیمی کے حوالے سے بھی اس نوع کی قانون سازی ہونی چاہیے‘۔
ڈاکٹر جاوید اقبال حضرت علامہ کے حوالے سے کہا کرتے تھے کہ پنجاب کی قانون ساز اسمبلی کے ممبر کی حیثیت سے وہ تمام بانیان مذاہب کی توہین پر سزا کے حوالے سے قانون بنوانا چاہتے تھے۔ 1927 کے آرٹیکل 295 اے میں اظہار نفرت کے اظہار کے قانون ان کی کاوشیں شامل تھیں۔ اس پر جب درویش نے یہ کہا کہ ڈاکٹر صاحب
تمام بانیان مذاہب کی توہین پر سزا کا قانون جو علامہ اقبال بنوانا چاہتے تھے، اگر بن جاتا تو کیا اس میں مرزا غلام احمد صاحب کی توہین بھی ایک بانی مذہب کی حیثیت سے قابل سزا قرار پاتی؟ ڈاکٹر جاوید اقبال بولے، بالکل قابل سزا ہوتی۔ اقبال جب تمام بانیان مذاہب کی ناموس پر یکسو تھے تو اس میں پسند ناپسند یا تمیز کی کیا بات تھی۔ عرض کی کہ ہمارے پاکستانی تو پھر زیادہ تر جیلوں میں ہی ہوتے۔ دانشوروں کی متذکرہ بالا محفل میں جب یہ بات کی گئی کہ علم دین کے بعد توہین رسالت کا قانون بنایا گیا تھا۔ وہاں کچھ وضاحتیں پیش کرناچاہیں البتہ ادب آداب آڑے آ گئے مگر ریکارڈ کی درستی کیلئے واضح رہے کہ ہندو پبلشرز پروفیسر راجپال کے قتل کا واقعہ 6 اپریل 1929 کا ہے اور قاتل کو پھانسی 31 اکتوبر 1929 کے دن ہوئی جبکہ مبینہ کتاب پر تنازع پہلے سے چل رہا تھا اور سیشن کورٹ سے راجپال کو چھ ماہ قید کی سزا بھی سنائی گئی تھی۔ جسے مابعد لاہور ہائیکورٹ نے ختم کر دیا تھا۔ یعنی مذہبی منافرت پھیلانے کے خلاف قانون سازی انگریزوں نے علم دین سے بہت پہلے کر رکھی تھی۔
تعزیرات ہند کا قانون 1860 میں آیا تھا اور مذہبی منافرت کو روکنے کیلئے 1896 میں باقاعدہ قانون بن گیا تھا جس کی سزا جرمانے کے ساتھ دو سال قید رکھی گئی تھی جو 1927 میں سیکشن 295 اے کے تحت دس سال قید میں بدل دی گئی ۔ یاد رہے کہ راجپال کی کتاب سے قبل یہ ہمارے ہی لوگ تھے جنہوں نے بھگوان سری رام چندرجی کی پتنی شریمتی سیتا دیوی کے خلاف توہین آمیز مواد چھاپا تھا۔ ہندو پروفیسر کی جسارت جوابی تھی اور یہ کاوش بھی کسی ایسے ہمارے عالم کی تھی جس کا نام سینوں میں دب کر رہ گیا۔
قیام پاکستان کے بعد ایک سوشلسٹ وکیل مشتاق راج کی کتاب ’’آفاقی اشتمالیت‘‘ سے نئی بحث کا آغاز ہوا اور بات ضیاالحق کے دور میں وفاقی شرعی عدالت میں اسمعیل قریشی ایڈووکیٹ کی پٹیشن تک گئی جس پر دیگر پچھتر وکلا نے بھی دستخط کئے تھے۔ 18جولائی 1984 کو یہ پٹیشن شریعت کورٹ میں پیش ہوئی۔ اس دوران یہ نکتہ بھی سامنے آیا کہ شریعت کورٹ کا دائرہ کار کہاں تک ہے؟ اور کیا یہ معاملہ اسمبلی میں نہیں جانا چاہیے ؟ یوں جس طرح2 سال قید کی سزا بڑھتے ہوئے پہلے دس سال پھر عمرقید مابعد عمر قید یا موت اور پھر اس سے بھی بڑھ کر صرف اور صرف سزائے موت تک پہنچی۔ اسی طرح بلاسفیمی کے کیسز بھی اسی ریشو سے بڑھے۔ 1986 تک ایسے صرف 14کیسز رپورٹ ہوئے مگر 1987 سے 2017 تک ان کی تعداد پندرہ سوسے تجاوز کر گئی۔
مختلف سانحات میں 75 کے قریب انسان اس بدترین الزام میں موت کے گھات اتار دیے گئے۔ اس کے بعد کی کہانیاں سب کے سامنے ہیں۔ البتہ ان قوانین کو حدود تک لے جانے اور خوفناک ترین بنوانے میں تاریخی طور پر کس کا کتنا رول ہے؟ قرون اولی سے بشمول امام ابوحنیفہ و دیگر فقہا اور پھر ابن تیمیہ سے اب تک، اس کی تفصیل علیحدہ آرٹیکل کی متقاضی ہے۔