اسلام آباد میں او آئی سی اجلاس کے مقابلے میں بھارتی کوششیں
- تحریر بی بی سی اردو
- اتوار 19 / دسمبر / 2021
- 6170
افغانستان کی صورتحال پر سعودی عرب کی تجویز اور پاکستان کی میزبانی میں اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے وزرا خارجہ کی کونسل کا 17واں غیر معمولی اجلاس اتوار کو اسلام آباد میں ہو رہا ہے۔ جس میں طالبان حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی اور او آئی سی کے سیکریٹری جنرل شرکت کر رہے ہیں۔
او آئی سی کے کُل 57 رکن ممالک میں سے 20 کے وزرائے خارجہ اسلام آباد میں اس اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں جبکہ 10 کے نائب وزرا یا وزیر مملکت اپنے ملکوں کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ اجلاس میں اقوام متحدہ، یورپی یونین، عالمی مالیاتی اداروں، علاقائی و بین الاقوامی تنظیموں، جاپان، جرمنی اور دیگر نان او آئی سی ممالک کے نمائندوں کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔ اسی دوران انڈیا میں بھی اتوار کو افغانستان میں بحران اور علاقائی روابط پر ایک ڈائیلاگ ہو رہا ہے جس میں وسطی ایشیائی ممالک کرغزستان، تاجکستان، قزاقستان، ترکمانستان اور ازبکستان کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ تاہم ان ممالک کے وفود پاکستان میں ہونے والے اجلاس میں اپنے اپنے ممالک کی نمائندگی ضرور کر رہے ہیں۔
اس ایک روزہ انڈیا سینٹرل ایشیا ڈائیلاگ کی صدارت انڈین وزیر خارجہ ایس جے شنکر کر رہے ہیں اور اس میں کرغزستان، تاجکستان، قزاقستان، ترکمانستان اور ازبکستان کے وزرائے خارجہ شامل ہیں۔ اپنی نوعیت کی اس تیسری کانفرنس میں افغانستان کے علاوہ علاقائی روابط اور تجارت پر تبادلہ خیال ہوا ہے۔
پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق تاجک وزیرِ خارجہ سروج الدین مہرالدین انڈیا کا دورہ مذکورہ ڈائیلاگ کے ساتھ ساتھ دو طرفہ دورے کے سلسلے میں بھی کر رہے ہیں۔ گزشتہ ماہ ان تمام وسطی ایشیائی ممالک کے مشیرانِ قومی سلامتی نے انڈیا میں ایسے ہی ایک اور ڈائیلاگ میں شرکت کی تھی جس کا موضوع افغانستان تھا۔
اس ڈائیلاگ میں روس اور ایران کے مشیرانِ قومی سلامتی بھی تھے۔
دلی میں اتوار کو ہونے والے اجلاس میں شریک یہ ممالک او آئی سی کے رکن ہیں اور ان میں سے تین (تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان) کی سرحد افغانستان کے ساتھ لگتی ہے۔ لیکن اُن کے وزرائے خارجہ نے اسلام آباد میں او آئی سی کے اجلاس میں جانے کے بجائے انڈیا جانے کا فیصلہ کیا جس سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ وہ افغانستان کے معاملے پر انڈیا سے تعاون برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔
پاکستان نے ماضی میں بھی افغانستان کی صورتحال پر او آئی سی کے اجلاس میزبانی کی ہے۔ مگر افغانستان کے ایک سابق نائب وزیر خارجہ محمود صیق نے ٹوئٹر پر کہا ہے کہ 1980 میں افغانستان میں سوویت مداخلت پر پاکستان نے او آئی سی وزرا خارجہ اجلاس کی میزبانی کی تھی۔ اس بار او آئی سی کے کسی غیر جانبدار رکن کو اجلاس کی میزبانی کرنی چاہیے تھی۔
اسی دوران انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں پانچ مسلم اکثریتی وسطی ایشیائی ممالک کے وزرائے خارجہ کی ایک ڈائیلاگ میں شرکت سے کچھ حلقے یہ تاثر لے رہے ہیں کہ یہ ڈائیلاگ ایک طرح سے پاکستان میں ہونے والے او آئی سی اجلاس کے جواب میں کیا جا رہا ہے۔ انڈیا کے مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ پانچوں وزرا خارجہ مشترکہ طور پر وزیر اعظم نریندر مودی سے رابطہ بھی قائم کریں گے۔
وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اس موقع پر شرکا سے خطاب میں کہا کہ ہم سب افغانستان کے ساتھ گہرے تاریخی اور تہذیبی تعلقات بھی رکھتے ہیں۔ اس ملک میں ہمارے تحفظات اور مقاصد ایک جیسے ہیں ایک جامع اور نمائندہ حکومت، دہشت گردی اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف جنگ، بلا روک ٹوک انسانی امداد کو یقینی بنانا اور خواتین، بچوں اور اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ۔ ’ہمیں افغانستان کے لوگوں کی مدد کے طریقے تلاش کرنے چاہییں۔‘
پاکستان کے سابق سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری کے مطابق اسلام آباد میں اس اجلاس کی کافی اہمیت ہے چونکہ پاکستان افغانستان کا ہمسایہ ہے اور افغانستان میں صورتحال اس وقت گمبھیر ہے۔ وہاں ابھی سیاست کی نہیں، عالمی امداد کی ضرورت ہے۔ مسلمان دنیا کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ انہوں نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اسلام آباد میں او آئی سی اجلاس کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ افغان شہریوں تک کیسے مدد پہنچائی جائے۔
انڈیا میں افغانستان پر ڈائیلاگ پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سب کو معلوم ہے وہاں انڈیا کا کیا کردار رہا ہے۔ اگر انہوں نے طالبان کے ساتھ رابطہ نہیں رکھا اور سابقہ حکومت کے ساتھ ہی سب روابط رکھے تو اس میں ہمارا کوئی لینا دینا نہیں۔ بظاہر سب یہی چاہتے ہیں کہ افغانستان میں کسی طریقے سے استحکام لایا جا سکے اور اگر انڈیا کا بھی یہی ارادہ ہے تو یہ بات قابلِ فہم ہے۔
اعزاز چوہدری کے مطابق ترکمانستان، ازبکستان اور تاجکستان سمیت وسطی ایشیائی ممالک کے پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اس لیے انڈیا اور پاکستان کی کانفرنس کا کوئی موازنہ نہیں بنتا۔ عالمی طاقتوں پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے کہ وہ طالبان کی آمد کے بعد افغانستان پر عائد کی گئی پابندیاں ہٹائیں۔ یہ انسانی ہمدردی کا معاملہ ہے، یہ کوئی سیاست نہیں ہے۔،
انڈیا سے امورِ خارجہ کی ماہر انورادھا چنوئے نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ یہ ڈائیلاگ انڈیا اور وسط ایشیائی ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان ہو رہا ہے۔ یہ بات وسط ایشیا کی ہے، او آئی سی کی نہیں۔ جیسے انڈیا کے سوویت یونین کے ساتھ اچھے تعلقات تھے ویسے ہی اب وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ روابط قائم رکھے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان سے متعلق انڈیا اور پاکستان سمیت پوری دنیا کے خدشات ہیں۔ یہ حالات صرف افغانستان تک محدود نہیں رہیں گے، جیسے لڑائی سرحدوں تک قید نہیں رہتی ویسے ہی انسانی حقوق کا بحران سرحدیں عبور کر سکتا ہے۔
انورادھا سمجھتی ہیں کہ افغانستان کا مسئلہ محض سکیورٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ اس سے پناہ گزین کا بحران بھی برپا ہو سکتا ہے اور منشیات کی سمگلنگ بھی بڑھ سکتی ہے۔ انڈیا یہ نہیں چاہتا کہ او آئی سی میں کشمیر کی بات ہو لیکن وہ اپنے مفاد کے لیے او آئی سی کے ممالک کے ساتھ رابطے رکھتا ہے، چاہے بات تیل کی ہو یا سکیورٹی کی۔
ان کے مطابق انڈیا شروع سے طالبان سے دور رہا ہے کیونکہ دہشتگردی کے حوالے سے اس کے خدشات ہیں لیکن اب وہ افغانستان میں حکومت قائم کر چکے ہیں۔ بھارت نے گزشتہ افغان حکومت کی کافی حمایت کی تھی مگر اب یہ دباؤ ہے کہ سکیورٹی کی خاطر طالبان کے ساتھ کسی سطح پر تعلقات ہونے چاہیے، اگر وہ اپنی سرزمین پر دہشتگردی روکیں۔